بے شمار مشرق و مغرب ہیں قرآن و سائنس سے ثابت

Share Article

وصی احمد نعمانی
گزشتہ سے پیوستہ………
سائنس نے اپنی تحقیق و ثبوت و دلیل کی بنیاد پر ثابت کیا ہے کہ ایک پورب ہے، دو پورب ہیں اور بے شمار پورب ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے۔ ایک مشرق ہے، دو مشرقیں اور بے شمار مشرق ہیں۔ اسی طرح ایک مغرب ہے، دو مغرب ہیں، بے شمار مغرب ہیں۔ سائنس کی مذکورہ بالا تین اور دلیل جو نیچے پیش کی جائیںگی بالکل درست ہیں۔ قرآن کریم کا دعویٰ تو بہرحال سچ ہے کیوں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس کا ہر حرف سچ ہے۔ تمام دعوے درست ہیں۔
سائنس نے اپنے دعویٰ میں کہ ایک پورب ہے، دو پورب ہیں اور بے شمار پورب ہیں اس کے بارے میں مندرجہ ذیل ثبوت پیش کیا ہے۔
1- یک پورب ہے: سائنس کا کہنا ہے کہ پورب اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے سورج نکلتا ہے یا سورج کی پہلی کرن جہاں سے نکلتی ہے، وہی پورب ہے۔ اس اعتبار سے ہم سب دیکھتے ہیں کہ سورج روزانہ پورب سے طلوع ہوتا ہے۔ اس لیے ایک پورب ہے۔ اسی طرح سائنسی اعتبار سے جس دن جس نکتہ پر سورج ڈوبتا ہے وہ نکتہ پچھم ہے۔ اس لیے انسانی مشاہدہ کے روپ میں ایک پچھم ہوا اور ایک پورب ہوا۔
2- دو پورب ہیں: اس کے لیے ہمیں پہلے زمین کی ساخت یا اس کی جغرافیائی کیفیت کو سمجھنا ہوگا۔ زمین جو سنترہ کی طرح اوپر اور نیچے سے چپٹی ہوتی ہے، وہ ایک خط کے ذریعہ دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ یہ خط زمین کے ٹھیک درمیان سے گزرتا ہے، اس خط کو خط مستقیم کہتے ہیں اور یہ زمین کے جغرافیائی صفر کے مقام سے زمین کے چاروں طرف گھوم کر اسے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اسی طرح زمین شمالی کرہ اور جنوبی کرہ میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ اس خط کے ٹھیک شمال میں خط سرطاں اور جنوب میں خط جدی ہے۔ انہیں Tropic of Cancer اور Tropic of Capricorn ترتیب وار کہتے ہیں ۔ یعنی خط استوا یا Equator کے شمال اور جنوب میں ترتیب سے ساڑھے تئیس ساڑھے تئیس  ڈگری کی دوری پر قائم ہیں، کیوں کہ خط استوا صفر ڈگری پر قائم ہے۔ اس کے علاوہ جو بے حد اہم ہے، وہ یہ ہے کہ زمین بذات خود سورج کے چاروں طرف اپنے مرکز پرساڑھے تئیس ڈگری جھک کر گھومتی رہتی ہے اور 24 گھنٹوں میں ایک چکر پورا کرلیتی ہے۔ اسے زمین کی محوری یا مرکزی گردش کہتے ہیں۔ اس گردش کی وجہ سے ہی دن اور رات کی تخلیق ہوتی ہے۔ مزید برآں زمین کی ایک نہایت اہم اور ضروری گردش اس کے اپنے مدار کی گردش ہے۔ زمین اپنے پورے مدار پر گردش مکمل کرنے میں ایک سال یا 365.25 دن لیتی ہے۔ زمین کی اسی سالانہ گردش کی وجہ سے تمام موسموں کی تخلیق ہوتی ہے۔ یعنی جاڑا، گرمی، برسات، موسم بہار وغیرہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ زمین جب اپنے مدار پر گھومتی رہتی ہے تو ساڑھے تئیس ڈگری شمال کی جانب ہمیشہ جھک کر گھومنے کی وجہ سے سورج کی روشنی ان پر بدل بدل کر پڑتی ہے۔ کبھی سیدھی کرنیں اور کبھی ترچھی کرنیں مگر سورج کی شعاعوں یا کرنوں کا سفر انہیں دو اہم خطوط یعنی خط سرطاں اور خط جدی کے درمیان جاری رہتا ہے۔ پوری دنیا میں موسم کا بدلاؤ انہیں دونوں خطوط کے درمیان سیدھی اور ترچھی پڑنے والی کرنوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جہاں اور جب سورج کی کرنیں بالکل سیدھی پڑتی ہیں وہاں بے حد گرمی پڑتی ہے۔ جہاں ترچھی پڑتی ہیں وہاں گرمی کی شدت میں قدرے کمی ہوتی ہے۔ سورج کی کرنوں کے اسی اہم سفر کی وجہ سے قطب شمالی اور قطب جنوبی میں یعنی زمین کے انتہائی شمال اور انتہائی جنوب میں چھ مہینے کے دن اور چھ ماہ کی راتیں ہوتی ہیں۔ سورج کی کرنوں کے ایسے ہی سفر کی وجہ سے اس کی زندگی میں ایک سال میں دو اہم دن آتے ہیں۔ ایک ہے 21 جون، دوسرا ہے 21 دسمبر۔ 21 جون کو سورج کی کرنیں انتہائی شمال میں ہوتی ہیں اور اسی دن نئے سرے سے طلوع ہو کر وہیں سے قطب جنوبی کی طرف اپنا سفر شروع کرتی ہیں اور 21 دسمبر کا وقت آجاتا ہے۔ اس دن یعنی 21 دسمبر کو ہی انتہائے جنوب میں پہنچ کر سورج کی کرنیں، اسی دن قطب شمالی کی طرف پلٹنے لگ جاتی ہیں۔ یعنی سورج کی زندگی میں ہر سال دو دن ایسے ہوتے ہیں جہاںسے سورج اپنی نئی زندگی شروع کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سورج 21 جون کو قطب شمالی کے خاص نکتہ سے طلوع ہو کر اور 21 دسمبر کو قطب جنوبی کے خاص نکتہ سے طلوع ہو کر اپنا نیا سفر جاری کرتا ہے۔ یہ دونوں دن سال میں سورج کی پیدائش کا نیا دن ہے یا یہ دونوں نکتے دو نئے پورب ہیں اسی لیے سائنسی اعتبار سے یہ دو پورب ہوئے۔
3 – بے شمار پورب: سورج جب 21 جون کو اپنا سفر شمال سے جنوب کی طرف آنے کے لیے شروع کرتا ہے اور ٹھیک 6 ماہ کے بعد چلتے چلتے (سورج کی کرنیں) 21 دسمبر کو قطب جنوبی میں پہنچ کر اسی دن قطب جنوبی کی طرف سے سفر جاری رکھتے ہوئے قطب شمالی میں پھر واپس آتا ہے تو اس مدت میں پورے ایک سال کا وقت مکمل ہوجاتا ہے۔ اس ایک سال میں سورج ہر روز ایک نئے زاویہ یا نئی جگہ سے نکلتا ہے، لہٰذا جس دن سورج جس زاویہ یا جس جگہ سے نکلتا ہے، اس دن سورج کے لیے وہی نیا پورب ہے۔ اس سال بھر کے درمیان سفر کر کے سورج زمین پر 47 ڈگری کا حصہ طے کر لیتا ہے اور اس طرح سورج بے شمار  پوربوں کی جگہ سے روزانہ طلوع ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سورج جہاں سے طلوع ہوتا ہے، وہی جگہ پورب ہے۔ اس سے سائنس نے یہ ثابت کیا کہ بے شمار پورب ہیں۔ اس کا صحیح منظر دلی کے جنتر منتر پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں کی دیواروں میں بے شمار سوراخ ہیں۔ ان سوراخوں سے ہر روز سورج نکلتا ہوا لگتا ہے، کیوں کہ ہر روز الگ الگ سوراخوں کے سامنے سے سورج کے طلوع ہونے کا منظر دیکھا جاسکتا ہے۔ جو بے شمار سوراخوں سے طلوع ہو کر بے شمار مشرقوں کا ثبوت دیتا ہے۔
یعنی ایک پورب ہے، دو پورب ہیں، بے شمار پورب ہیں۔ اسے سائنس نے ثبوت اور دلیل کے ساتھ ثابت کردیا۔ بے شمار پورب کے ثبوت میں اور بھی دلائل ہیں۔ مثلاً ہمارے نظام شمسی میں سورج کے گرد گھومنے والے نو سیارے ہیں، جو سورج کی روشنی سے روشن ہوتے ہیں۔ یعنی ان پر بھی سورج طلوع ہوتا ہے یا غروب ہوتا ہے، وہ سیارے ہیں۔ 1- عطار د (Mercury) 2- زہرہ(Venus) 3 – زمین (Earth) 4 – مریخ(Mars) 5- مشتری(Jupiter) 6- زحل(Saturn) 7- یورینس8- نیپچون9-  پلوٹو۔ ان تمام سیاروں پر سورج اپنی روشنی بکھیرتا ہے اور اس طرح دن اور رات کی تخلیق بھی ان سیاروں پر سورج کی گردش اور اس کی کرنوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ ان نو سیاروں پر بھی پورب اور پچھم موجود ہیں۔ اس طرح بے شمار پورب یا مشرق و مغرب ہیں۔ یہ بات مکمل طور پر سائنسی تحقیق اور ریسرچ کی بنیاد پر ثابت ہوتی ہے۔ سائنس نے تو لاکھوں، ہزاروں سال کی تحقیق اور ریسرچ کے بعد اپنی بات ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اللہ نے اپنی کتاب میں نہایت سادہ اور پختہ الفاظ میں تینوں باتوں کو ارشاد فرمایا ہے کہ:
1- اللہ ایک مشرق اور مغرب کا رب ہے۔ سورہ شعراء آیت نمبر 28 و سورہ مزمل 73 آیت نمبر 9
2 – اللہ دو مشرقوں اور دو مغربوں کا رب ہے۔ سورہ رحمن، آیت نمبر 17
3- اللہ بے شمار مشرقوں اور مغربوں کا رب ہے۔ المعارج ، آیت نمبر 40
مذکورہ بالا قرآنی فرمودات کی تشریح اور تبصرہ کی تکمیل کے لیے مایۂ ناز علمائے کرام کی کاوشوں کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہوںگا۔ خاص کر شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کی تفاسیر مندرجہ ذیل ہیں۔
تفسیر:اللہ تعالیٰ نے تو خود اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ مشرقوں اور مغربوں کا لفظ اس بنا پر استعمال ہوا ہے کہ سال کے دوران میں سورج ہر روز ایک نئے زاویہ سے طلوع اور نئے زاویہ پر غروب ہوتا ہے نیز زمین کے مختلف حصوں پر سورج الگ الگ اوقات میں پے در پے طلوع اور غروب ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے مشرق اور مغرب ایک نہیں ہیں، بلکہ بہت سے ہیں۔ا یک دوسرے اعتبار سے شمال اور جنوب کے مقابلے میں ایک جہت مشرق ہے اور دوسری جہت مغرب ہے۔ اس بنا پر سورہ شعراء آیت نمبر 28 اور سورہ مزمل آیت نمبر 9 میں رب المشرق و المغرب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک اور لحاظ سے زمین کے دو مشرق اور دو مغرب ہیں، کیوں کہ جب زمین کے ایک نصف کرے پر سورج غروب ہوتا ہے تو دوسرے پر طلوع ہوتا ہے۔ اس بنا پر سورہ رحمن، آیت نمبر 17 میں رب المشرقین و رب المغربین کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ خدا نے اپنے رب المشارق والمغارب ہونے کی قسم کھائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم چونکہ مشرقوں اور مغربوں کے مالک ہیں، اس لیے پوری زمین ہمارے قبضۂ قدرت میں ہے اور ہماری گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں تمہیں ہلاک کرسکتے ہیں اور تمہاری جگہ دوسری قوموں کو اٹھا سکتے ہیں۔ جو تم سے بہتر ہو۔(مولانا مودودی کی تفسیر)
شیخ الہندمولانا محمود الحسن نے ان آیات کا ترجمہ اور تشریح اس طرح کیا ہے:
ترجمہ: مالک دو مشرق کا دو مغرب کا، پھر سورہ معارج، آیت نمبر 40 کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے۔ ’’پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی ہم اس پر قادر ہیں کہ بدل کر ان سے بہتر(قوم) لے آئیں۔
تشریح میں ارشاد فرمایا:’’جاڑے اور گرمی میں جن جن نقطوں سے سورج طلوع ہوتا ہے، وہ دو مشرق ہیں اور جہاں جہاں غروب ہوتا ہے، دو مغرب ہیں۔ انہیں مشرقین اور مغربین کے تغیر و تبدل سے موسم اور فصلیں بدلتی ہیں اور طرح طرح کے انقلابات ہوتے ہیں، زمین والوں کے ہزار فوائد و مصالح ان تغیرات سے وابستہ ہیں تو ان کا رد و بدل بھی خدا کی بڑی نعمتوں اور اس کی قدر و عظمت کی نشانی ہے۔ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں سے مراد جاڑے کے چھوٹے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے بڑے دنوں کے مشرق و مغرب ہوسکتے ہیں اور زمین کے دونوں نصف کروں کے مشرق و مغرب بھی۔ اللہ تعالیٰ کے ان دونوں مشرقوں اور مغربوں کا رب کہنے کے کئی معنی ہیں۔ ایک یہ کہ اسی کے حکم سے طلوع و غروب اور سال کے دوران میں ان کے مسلسل بدلتے رہنے کا یہ نظام قائم ہے۔ دوسرے یہ کہ زمین اور سورج کا مالک و فرماں روا وہی ہے۔ ورنہ ان دونوں کے رب اگر الگ الگ ہوتے تو زمین پر سورج کے طلوع و غروب کا یہ باقاعدہ نظام کیسے قائم ہوسکتا تھا اور دائماً کیسے قائم رہ سکتا تھا۔ تیسرے یہ کہ ان دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک و پروردگار وہی ہے۔ ان کے درمیان رہنے والی مخلوقات، اسی کی ملکیت ہیں، وہی ان کو پال رہا ہے اور اسی کی پرورش کے لیے اس نے زمین پر سورج کے ڈوبنے اور نکلنے کا یہ حکیمانہ نظام قائم کیا ہے۔
سائنس نے جن قرآنی حقائق کو اپنی تحقیق اور ریسرچ سے ثابت کیا ہے۔ وہ سائنسدانوں کی اپنی خوش بختی ہے کہ خدا نے ان سب سے اتنا اہم کام انجام دلایا۔ لیکن ان سب کے سامنے ریسرچ کے وقت غالباً قرآنی آیات نہیں تھیں۔ ان سب نے تو سورج کی گردش، زمین کی روزانہ اور سالانہ گردش پر غور و تدبر کیا اور نتیجہ بالکل درست نکالا۔ جو قرآن کریم کے عین مطابق ہے۔ خدا اپنا کام کسی سے بھی لے لیتا ہے۔ جس پہ وہ کرم فرمائیاں کرنا طے کرلیتا ہے، کیوں کہ اللہ نے سورہ علق ، آیت5میں ارشاد فرمایا ہے:’’انسان کو وہ علم دیا جو وہ جانتا نہیں تھا۔‘‘ قرآن میں ایک مشرق، دو مشرق اور بے شمار مشرقوں کا حوالہ موجود ہے۔ سائنس دانوں نے صرف قرآنی آیات میں موجود سچائی کی تلاش کی ہے اور یہ تلاش خدا کی مرضی اور حکم سے جاری ہوئی ہے اور خوش نصیب سائنس دانوں نے خدا کی اتنی بڑی کرشمہ سازی کا پتہ لگا کر دنیا کو یہ سبق دیا کہ قرآن بلاشبہ خدا کی کتاب ہے۔ (جاری)
حوالہ جات
تفہیم القرآن- مولانا مودودی
جغرافیہ- Concise Atlas

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *