عیسیٰ کا ویزا معاملہ پاکستان نے لگایا نمک مرچ

Share Article

p-8bگزشتہ دنوں ہندوستان کی طرف سے چین میں دہشت گرد لیڈر کے طور پرممنوعہ ایغور لیڈر ڈولکن عیسی کو ہندوستانی ویزا جاری کیا گیا اور پھر کچھ حقائق سامنے آنے کے بعد اسے رد کردیا گیا اور اس کی اطلاع عیسیٰ کو دے دی گئی۔اس معاملے کوپاکستانی اخباروں میں خوب توڑ مروڑ کر بیان کیا گیا۔کسی اخبار نے لکھا کہ ہندوستان نے چین کے دباﺅ میں ویزا منسوخ کیا تو کسی نے لکھا کہ انتہائی مطلوب کالعدم پاکستانی تنظیم، جیش محمد کے سربراہ، مولانا مسعود اظہر کے خلاف ہندوستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو اقوام متحدہ میں چین کی طرف سے ویٹو کرنے کا جواب دیتے ہوئے ہندوستان نے جرمنی میں مقیم ایغور لیڈر کو ویزا جاری کر دیا ہے ۔جبکہ سچائی یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی بات درست نہیں ہے۔ نہ تو ہندوستان نے چین کے دباﺅ میں ویزا کینسل کیا اور نہ ہی انتقامی کارروائی کے طور پر یہ ویزا جاری کیا گیا تھا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بیجنگ ’ورلڈ ایغور کانگریس‘ کے رہنما عیسٰی کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اور انٹرپول اور چینی پولیس نے ان کے خلاف وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔ اس لیے دنیا کے تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ اسے گرفتار کرنے میں تعاون دے ۔ظاہر ہے ہندستان کسی دوسرے ملک کے شہری کے خلاف جاری کئے گئے ریڈ کارنر نوٹس کو نظر انداز نہیں کر سکتا ہے ،کیونکہ ملک کو اپنے بھی بہت سے شہریوں کی تلاش ہے جن کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری ہو چکا ہے۔جیسا کہ سرکاری ذرائع نے بھی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ہندوستان چینی دباﺅ کے آگے جھکا نہیں ہے۔بلکہ جب وازرت خارجہ کو ان کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس کے بارے میں بتایا گیا تو ہندوستانی حکومت نے اعلیٰ سطح پر ڈولکن عیسی کا ویزا واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اگر وہ ہندوستان کا دورہ کرتے تو انہیں حراست میں لے کر چین کے سپرد کردیا جاتا۔ ایسے وقت جب ہندوستان میں وجے مالیا کا معاملہ چل رہا ہے اور للت مودی کے کیس میں بھی اس طرح کی صورت حال ہے۔ ہندوستان احتیاط سے کام لے رہا ہے۔
واضح رہے کہ چینی ریاست، سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کی آبادی ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے اور وہ برسوں سے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے چینی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، جبکہ چین ان کے مظاہروں کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین نہیں چاہتا ہے کہ ڈولکن عیسیٰ کو ہندوستان جانے کی اجازت دی جائے۔ لہٰذا جب عیسیٰ کو ویزا جاری کیا گیا تو اس پر چین نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔یقینا ہندوستان اپنے پڑوسی ملک کی ناراضگی کا لحاظ رکھتا ہے، لیکن یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس کی ناراضگی میں کس حد تک سچائی ہے۔ورنہ چین تو ماضی میں چین کئی بار ہندوستان پر ناراضگی جتا چکا ہے مگر ہندوستان کبھی بھی اس کے دباﺅ میں نہیں آیا اور جب اسے لگا کہ چین کا مطالبہ جائز ہے تو عالمی برادری کے رشتوں کا خیال رکھتے ہوئے اس نے اس کے مطالبے کو قبول کیا اور جب لگا کہ چین کا مطالبہ جائز نہیں ہے تو ٹھکرا دیا ۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارت کے کسی اقدام پر چین نے ناراضی کا اظہار کیا ہو۔2011 میں بھی جب چین کے اعتراض کے باوجود ہندوستان نے ایک عالمی بدھ از م کانفرنس میں نوبل انعام یافتہ تبتی رہنما دلائی لامہ کو تقریرکرنے کی اجازت دی تھی تب بھی بیجنگ نے ناراضی ظاہر کی تھی اور ہندوستان چین کی ناراضگی کی وجہ سے کسی طرح کے دباﺅ میں نہیں آیا تھا تو اب وہ کیسے آسکتا ہے۔
واضح ہو کہ عیسی کی بات ہے تو وہ 1997 میں چین چھوڑنے کے بعد عیسیٰ جرمنی چلے گئے تھے، جہاں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بعد وہ اس وقت سے جرمنی کے شہر میونخ میں مقیم ہیں۔ ہندوستان نے انہیں اس ماہ کے اواخر میں دھرم شالہ میں چینی جلاوطن رہنماو¿ں کی ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے ویزا جاری کر دیا تھا۔ اس کانفرنس کا انعقاد امریکا سے سرگرم ایک جمہوریت نواز گروپ ’سٹیزن پاور فار چین‘ کر رہا ہے، جس کے صدر یانگ جیانلی ہیں جوکہ 1989 کے تیانمن اسکوائر مظاہروں میں بھی شامل رہے تھے۔
بہر کیف ویزا واپس لئے جانے پر مسٹر عیسی نے جو رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ایغور کانفرنس کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ کے بطور میں ہندوستانی حکومت کی جانب سے ویزا کی منسوخی پر مایوسی ظاہر کرتا ہوں۔ میں دھرمشالہ میں 30 اپریل سے یکم مئی کے دوران سالانہ بین نسلی بین مذہبی قیادت کانفرنس میں شرکت کے لئے آنا چاہتا تھا۔ یہ کانفرنس ایک اہم فورم ہے جس کے توسط سے چین کے نسلی اور مذہبی فرقے نیز سیاست داں اسکالر اور سرگرام کارکن کھلے عام ایک دوسرے سے مل کر نظریات پر تبادلہ خیال رکتے ہیں۔ پرامن مذاکرات کو فروغ دیتے ہیںاور مختلف فرقوں کے درمیان روابط کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندستان نے مجھے ٹورسٹ ای ویزا جاری کیا تھا مگر ہندوستانی پریس میں میرے ویزا کی خبریں آنے کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی حکومت کے لئے صورت حال مشکل ہوگئی تھی اور مجھے افسوس ہے کہ میرے دورے سے وہاں غیر ضروری تنازع کھڑا ہوا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے ۔جب مجھے ایغور لوگوں کے حقوق کی وکالت کے لئے بین الاقوامی سفر میں دقتیں پیش ائی ہیں۔ستمبر 2009 میں جب میں ایشیا میں جمہوریت کے عالمی فورم میں شرکت کے لئے جارہا تھا جس میں مجھے بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا تو مجھے جنوبی کوریا میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور تھوڑی دیر حراست میںبھی رکھا گیا۔بہر کیف ہندوستان کا موقف عالمی برادری کا لحاظ رکھتے ہوئے حق بجانب ہے ۔اس کو کسی کے دباﺅ یا انتقامی نقطہ نظر سے دیکھنا غلط ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *