مسلمان مدنی تہذیب کے اوصاف و عناصر کواختیار کریں :غیاث احمد رشادی

Share Article

 

دشمنوں کی جانب سے مخالفت سے بھرپور اور انتشار و خلفشار سے لبریز مکی زندگی سے نکل کر جب رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو آپ نے ربانی تعلیمات کے مطابق ایسا پاکیزہ، صاف و شفاف معاشرہ قائم کیا جو قیامت تک کے انسانوں کے لئے اسوہ ء حسنہ ثابت ہوا۔ دنیا کے جس ملک میں بھی مسلمان بستے ہوں اگر وہ یہ چاہتے ہوں کہ انہیں انفرادی یا اجتماعی طور پر کامیابی و کامرانی نصیب ہو تو وہ اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ سب سے پہلے وہ مدنی تہذیب کے ان عناصر و اوصاف کا مطالعہ کریں گے جن عناصر کی بنیاد پر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے مد نی معاشرہ اور سماج کی بنیاد رکھی۔

 

ہمارے ملک ہندوستان کے بدلتے حالات میں ہمیں اب شکوہ شکایت، مایوسی اور بزدلی کی زبان استعمال کرنے کے بجائے عملی اقدامات کی طرف توجہ دینی چاہئے اور سیرت طیبہ کی روشنی میں ان عناصر کا پتہ لگانا چاہئے اور حسن تدبیر کے ساتھ ان عناصر پر عمل پیرا ہونے کا قطعی فیصلہ بھی کرلینا چاہئے جو مدنی تہذیب کا حصہ ہیں ان خیالات کا اظہار منبر و محراب فاونڈیشن کے بانی و محرک مولانا غیاث احمد رشادی نے اپنے صحافتی بیان میں کیا اور کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے درمیان انصاف، احسان، ایثار، ہمدردی، غم خواری، دردمندی، بھائی چارگی ،محبت،الفت خیرخواہی،رواداری، نرمی ،صلہ رحمی، عفو و درگزر، سچائی، راست بازی، حیاداری، وعدہ وفائی، اتحاد و اتفاق جیسے اوصاف کی بنیاد پر مدنی معاشرہ قائم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے سامنے ان تمام اوصاف کو عملا بتلایا جن کے مفید ترین نتائج کو خود صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دس سال جو مدینہ منورہ میں گزرے ان دس سالوں میں ایک تاریخی انقلاب آیا اور اس مفید ترین سلسلہ کو صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اور تمام اولیاء امت نے اپنی زندگی میں اختیار کیا اور قیامت تک کے انسانوں کے لئے وہ مثال بن گئے۔

 

وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان نبی کے سچے امتی کی حیثیت سے اپنی حقیقی تصویر انسانیت کی بنیاد پر اس ملک کے سارے انسانوں کے درمیان پیش کریں اور جس قدر ممکن ہو اپنی عملی زندگی کو مدنی معاشرہ کے سنہرے سانچہ میں ڈھالنے کی فکر اور کوشش کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *