آج حق اطلاعات قانون کے تعلق سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 11برسوں بعد اب یہ کتنا موثر اور مضبوط ہے اور اس کا مستقبل کیاہے؟لہٰذا اس سوال کے جواب میں’ ٹی وی 9- ممبئی ‘ اور یو این آئی ٹی وی نیوز ایجنسی میں ایک عرصہ تک آر ٹی آئی ڈیسک سے جڑے رہے افروز عالم ساحل جو کہ ان دنوں امریکی ویب سائٹ ’ ٹو سرکل ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ بی بی سی ہندی میں بالواسطہ یا بلا واسطہ فعال ہیں، کا بے باک تجزیاتی مضمون پیش خدمت ہے۔
افروز عالم ساحل
5bجیسا کہ ہم سب یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بھی جمہوری نظام میں عوام ہی مالک ہوتی ہے، باوجود اس کے، آزادی کے چھ دہائیوں سے زیادہ کے بعد بھی ملک کی زیادہ تر آبادی اپنے آپ کو مالک کی حیثیت میں نہیں پاتی ہے۔ اس کے پیچھے سماجی و اقتصادی عدم مساوات سے لے کر مواقع کی کمی، تعلیم کا فقدان اور بیداری کی کمی جیسے بہت سے اسباب رہے ہیں۔ ایسی صورت میں گزشتہ یو پی اے حکومت نے سن 2005 میں ملک کے عوام کو حق اطلاعات قانون (آرٹی آئی) دیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری مشینری میں شفافیت اور عوام کے تئیں جوابدہی بحال ہو۔
اس قانون نے پہلی بار ملک کے زیادہ تر آبادی کو حقیقی مالک ہونے کا احساس دلایا اور عوام نے بھی اس حق کے استعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عام لوگوں کے لئے یہ قانون بہت سے معاملات میں ان کے لئے نعمت ثابت ہوا ہے۔ لیکن ملک کے تازہ حالات میں یہ اندیشہ ہو رہا ہے کہ بی جے پی قیادت والی حکومت اس قانون کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہتی ہے۔ یقینا حکومت اسے اچانک ختم نہیں کر سکتی ہے، لیکن اس کے لئے کچھ ایسا ضابطہ اور طریقہ ضرور بنا دیا جائے گا کہ لوگ آر ٹی آئی کی درخواست ڈالنا ہی چھوڑ دیں گے۔
آج آر ٹی آئی قانون کو آئے 11 سال پورے ہونے کو ہے، لیکن باوجود اس کے ملک کے زیادہ تر آر ٹی آئی کارکنوں کو شکایت ہے کہ اب ان کے ذریعہ ڈالے گئے آر ٹی آئی درخواستوں کے جواب نہیں ملتے۔ پبلک انفارمیشن آفیسر یا فرسٹ اپیلیٹ آفیسر انہیں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں کراتے اور مرکز و ریاستی انفارمیشن کمیشن میںبھی انکو سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وہاں اگر سماعت کے بعد مانگی گئی معلومات مل بھی گئی تو اس وقت تک ا ن معلومات کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی ہے۔ ان کارکنوں کی مانیں تو ملک میں آر ٹی آئی کی یہ حالت موجودہ حکومت میں بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے وزیر اعظم اپنی تقریروں میں آر ٹی آئی کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے ایک تقریر میں سرکاری محکموں سے کہتے ہیں کہ وہ آر ٹی آئی درخواستوں کا جواب دیتے ہوئے تین ’ٹی‘-ٹائملینیس (کم وقت میں) ، ٹرانسپیرنسی (شفافیت) اور ٹربل فری (آسان طریقہ) کو ذہن میں رکھیں۔ لیکن شاید کسی محکمہ یا وزارت نے مودی جی کے اس بات کو مانا ہو۔ عالم تو یہ ہے کہ ان کا خود کا دفتر ہی آر ٹی آئی کے تحت انفورمیشن دینے میں سب سے پیچھے ہے۔
واضح رہے کہاس سے قبل کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی مرکزی حکومت کی تنقید کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت بے رحمی سے آر ٹی آئی ایکٹ کو کمزور کرنے اور خود کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ‘
اگر اعداد و شمار کی بات کریں تو ملک میں حق اطلاعات قانون پر بھاری بیک لاگ کی خطرناک تلوار لٹک رہی ہے۔ معلومات کے حق سے منسلک ملک کی سب سے اولین ادارے یعنی مرکزی انفارمیشن کمیشن کے پاس آج کی تاریخ تک 36, 235 اپیل اور شکایت کے معاملے پینڈنگ ہیں اور جس رفتار سے اس کمیشن میں ان کیسوں کا نپٹارا ہو رہا ہے، اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان تمام امور کے نپٹارے میں تین چار سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔اگر معاملہ پریسیڈنٹ آفس ، وائس پریسیڈنٹ آفس، وزیر اعظم آفس، وزارت داخلہ یا وزارت دفاع جیسے اہم دفاتر سے متعلق ہے تو یہ انتظار اور بھی طویل ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چیف انفارمیشن کمشنر کا عہدہ 22 اگست، 2014 کی طرف سے 7 جون، 2015 تک خالی رہا۔ 8 جون، 2015 کو چیف انفارمیشن کمشنر کے عہدے پر کمیشن کے سینئر انفارمیشن کمیشن وجئے شرما کو بحال کر دیا گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وجئے شرما صرف 6 ماہ ہی کام کر سکیں، کیونکہ وہ دو دسمبر کو 65 سال کے ہو گئے، اس لئے ان کا دور اقتدار اسی دن ختم ہو گیا۔ اس کے بعد سابق دفاع سیکرٹری رادھا کرشن ماتھور کو 18 دسمبر، 2015 کو چیف انفارمیشن کمشنر بنایا گیا۔
یہاں یہ واضح رہے کہ ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ کسی جمہوریت میں کسی بھی طرح کے عمل، اقدار کا نفاذ اور خارجیت جمہوری رواج سے ہی ہو۔ یہ تبھی ممکن ہے، جب ملک کے عوام کو حق اطلاعات حاصل ہو۔ بغیر آرٹی آئی کے ووٹ دینے کا حق دراصل ایک خامی کی طرح ہے، جس کی ذمہ داری اور بیداری روپی تلوار کا فقدان ہے۔ یہ سماجی ذمہ داری اور سیاسی بیداری تبھی آ پاتی ہے، جب عوام کو انتظامیہ سے متعلق اہم اطلاعات کا علم ہو۔ اس آر ٹی آئی کے لئے ایک بار پھر سے آواز بلند کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے اور ویسے بھی دہلی میں آر ٹی آئی کے لیے آواز اٹھانے والے لوگ اب خود ہی اقتدار پر قابض ہیں اور ان کی بھی کوشش یہی ہے کہ آر ٹی آئی جیسا قانون جتنا کمزور ہو، اس میںان کا ہی فائدہ ہے۔
پانچ بڑی مشکلات
سال 2005 میں جب آر ٹی آئی قانون نافذ ہوا تھا تو اسے بدعنوانی سے لڑنے کے مضبوط ہتھیار کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ قانون یقینا بہت تبدیلی لے کر آیا لیکن اس قانون کو لے کر شروع میں جو جوش تھا اس میں آہستہ آہستہ کمی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سرکاری پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ قانون اتنا مفید نہیں ہوا جتنا کہ ہونے کی امید تھی۔ذیل میں بڑی مشکلات کا جائزہ
کمیشن میں زیر التوا مقدمات
آر ٹی آئی کارکن انفارمیشن کمیشن میں زیر التوا معاملے کو آر ٹی آئی قانون کے لئے سب سے بڑا چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس وجہ سے ان کو معلومات حاصل کرنے کے لئے سالوںسال انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ سال پیش کی گئی آر ٹی آئی اسیسمیٹ اینڈ ایڈووکیسی گروپ (راگ) اور سامیہ سینٹر فار ایکوئٹی اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 23 انفورمیشن کمیشنوں میں 31 دسمبر 2013 تک 1.98 لاکھ سے زیادہ کیس زیر التوا ہیں۔ معاملات کے نپٹارے کی موجودہ رفتار سے تمام معاملات کے نمٹانے میں مدھیہ پردیش میں 60 سال اور مغربی بنگال میں 17 سال لگ سکتے ہیں۔
 معلومات کمشنروں کی کمی
انفارمیشن کمشنروں کی بحالی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ قانون کی دفعات کے تحت ہر انفارمیشن کمیشن میں 11 کمشنر ہونے چاہئے، لیکن زیادہ تر ریاستی انفارمیشن کمیشن میں انفارمیشن کمشنر کے کئی عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔آسام ریاستی انفارمیشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں چیف انفارمیشن کمشنر کے ساتھ ساتھ نو کمشنروں کے عہدے خالی ہیں۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، سکم، میگھالیہ جیسی ریاستوں میں صرف ایک ایک انفارمیشن کمشنر ہی بحال ہے،تو وہیں گوا، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، منی پور، میزورم، ناگالینڈ، اڑیسہ اور مغربی بنگال میں صرف دو دو انفارمیشن کمشنر ہی بحال ہیں۔ چھتیس گڑھ اور تمل ناڈو میں آٹھ آٹھ معلومات کمشنروں کے عہدے خالی ہیں۔ تو وہیں گجرات میں خالی عہدوں کی تعداد سات ہے۔ باقی ریاستوں کی حالت بھی اس سے بہتر نہیں ہیں۔
 ٹالنے والا رویہ
پبلک انفارمیشن افسروں کا رویہ آرٹی آئی درخواستوں کو ٹالنے والا ہو گیا ہے۔ حق اطالاعات کی دفعہ 6(3) کے تحت درخواستوں کو ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل کا چکر لگوایا جاتا ہے جس سے مقررہ وقت پر انفارمیشن نہیں مل پاتی ہے۔ اپیلیں بھی نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ یہی نہیں، انفارمیشن دینے سے بچنے کے لئے پبلک انفارمیشن افسروں اور اپیل حکام کی جانب سے آر ٹی آئی قانون کی دفعہ -8 کا اپنی سہولت کے حساب سے توڑنے مروڑنے کی کئی مثالیں سامنے آئے ہیں۔ آر ٹی آئی کارکن اس کی اصل وجہ کمیشن کی طرف سے ان افسران پر قانون کی دفعات کے تحت جرمانہ نہ لگانا مانتے ہیں۔
 عدالتی دخل اور ریاست کے نوٹیفکیشن
حالیہ دنوں میں مختلف عدالتوں کے حکم اور ریاستی حکومت کے نوٹیفیکیشن سے بھی آر ٹی آئی کمزور ہو رہا ہے۔ انفارمیشن افسر اور کمشنر ان نوٹیفکیشن و احکام کا حوالہ دے کر اطلاع دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔
گذشتہ سالوں گوا ہائی کورٹ اور مدراس ہائی کورٹ کا حکم کافی بحث میں رہا۔ تاہم مدراس ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کو واپس لے لیا ۔ مدھیہ پردیش میں ریاستی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن نکال کر محکمہ داخلہ کے ساتھ ساتھ کئی محکموں کو آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر کر دیا ہے۔ کئی ریاستوں میں فیس بھی الگ الگ وصول کی جاتی ہے۔
 سیکشن -4 پر عمل نہیں
حق اطلاعات کی دفعہ -4 میں ہر سرکاری دفتر کو 17 پوائنٹس پر خود نوٹس جاری کرنے کا حکم ہے تاکہ لوگوں کو درخواست دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے، لیکن زیادہ تر وزارتوں اور محکموں میں اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ 10 سال مکمل ہونے کے بعد بھی کئی محکموں نے اپنے ویب سائٹ پر پبلک انفارمیشن افسران کے نام تک نہیں ڈالے ہیں۔ جس سے بڑے پیمانے پر انفارمیشن آفیسر کے نام بھیجے جانے والے درخواست قبول ہی نہیں کئے جاتے ہیں اور درخواستیں واپس لوٹ آتی ہیں۔
صحیح بات یہ ہے کہ اسٹامپ کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے ۔ مہاراشٹر میں عدالتوں میں اسٹامپ نہ ملنے کے سبب لوگ آر ٹی آئی کی درخواست دائر نہیں کر پا رہے ہیں۔ مرکزی انفارمیشن کمیشن کی سفارشات کے باوجود محکمہ ڈاک نے آر ٹی آئی دائر کرنے کے لئے ضروری اسٹامپ جاری نہیں کئے ہیں۔ ڈاک خانوں میں 10 روپے کا پوسٹل آرڈر دینے میں بھی آنا کانی کی جاتی ہے۔
مصنف کا تعارف
افروز عالم ساحل صحافت کی دنیا کے ایک ایسے صحافی ہیں جنہوں نے آر ٹی آئی کو صحافت کا سب سے مضبوط ہتھیار سمجھا۔ انہوں نے ٹی وی -9 ممبئی اور یو این آئی میں بطور ایڈیٹر (انویسٹی گیشن اینڈ انفارمیشن) کام کیا۔ ٹی وی -9 ممبئی کا خیال ہے کہ وہ ملک کا پہلا ایسا نیوز چینل ہے جس نے اپنے یہاں آر ٹی آئی ڈیسک کا آغازکیاوہیں یو این آئی ٹی وی بھی ساؤتھ ایشیا کی پہلی ایسی نیوز ایجنسی ہے جس کے یہاں آر ٹی آئی ڈیسک تھا اور دونوں جگہ آر ٹی آئی ڈیسک قائم کرنے کا کریڈٹ ساحل کو جاتا ہے۔ ساحل ان دنوں ایک امریکی میڈیا ادارہ ٹو سرکل ڈاٹ نیٹ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بی بی سی ہندی کے لئے فریلانس رپورٹنگ بھی کرتے ہیں۔
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here