الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم میں آرمی کی تصاویر اور نام کا استعمال کرنے پر سیاسی پارٹیاں کولگائی پھٹکار

Share Article

using-photographs

نئی دہلی: پاکستان سرحد میں ہوئی ایئر اسٹرائک کو لے کر ملک میں چھڑی بحث کے دوران، الیکشن کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ سیاسی پارٹیاں تشہیر کیلئے آرمی کے جوانوں کی تصاویر کا استعمال نہ کرے۔ کمیشن کو شکایات ملی تھی کہ کچھ سیاسی پارٹیاں اپنے اشتہارات اور تشہیری مواد میں جوانوں کی تصاویر لگارہی ہیں۔حال ہی میں، دہلی میں بی جے پی کے انتخابی پوسٹروں میں وزیراعظم نریندر مودی، امت شاہ کے ساتھ فضائیہ فوج کے ونگ کمانڈر ابھینندن کی تصاویر دیکھی گئی تھی۔اس پر الیکشن کمیشن نے ملک کی سبھی قومی اور علاقائی سیاسی پارٹیوں کو انتخابی مہم میں فوج کے جوانوں کی تصاویروں کو اپنے اشتہارات میں استعمال نہ کرنے کی صلاح دی ہے۔کمیشن نے ہفتہ کی رات یہاں جاری بیان میں کہا ہے کہ اس نے سبھی سیاسی پارٹیوں کو خط لکھ کر یہ صلاح دی ہے۔

کمیشن نے خط میں لکھا ہے کہ یہ بات ہمارے علم میں آئی ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیاں اپنے انتخابی اشتہارات میں فوج کے جوانوں کی تصویروں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس تعلق سے ان کا دھیان اس بات کی جانب مبذول کرایا جارہا ہے کہ کمیشن نے چار دسمبر 2013 کو ہی اس طرح کا ایک خط قومی اور علاقائی سیاسی پارٹیوں کو تحریر کیا تھا کہ وزارت دفاع نے کمیشن کو اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی تھی کہ سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈران اپنے امیدواروں کے اشتہارات میں فوج کے جوانوں کی تصاویر کا استعمال کررہے ہیں۔

کمیشن نے خط میں لکھا ہے کہ ملک کی فوج سرحد ، سلامتی اور سیاسی نظام کی محافظ ہے اور وہ ایک غیر سیاسی یونٹ ہے۔ اس لئے سیاسی پارٹی اور ان کے لیڈران اپنے انتخابی مہم میں فوج کا کوئی ذکر نہیں کرسکتی ہیں۔

یہ دیکھتے ہوئے کمیشن کا ماننا ہے کہ فوجیوں یا فوج کے سربراہوں کے کسی پروگرام کی بھی تصویر کا کسی بھی شکل میں اشتہار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے، اس لئے کمیشن سبھی سیاسی پارٹیوں سے درخواست کرتی ہے کہ وہ سلامتی اہلکاروں یا ان کی تقریبات کی تصاویر کا استعمال نہ کریں۔

کمیشن نے سیاسی پارٹیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے امیدواروں، لیڈروں اور کارکنوں کو کمیشن کی صلاح پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیں۔ یہ خط کمیشن کے سکریٹری پرمود کمار شرما نے سیاسی پارٹیوں کو بھیجا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *