تہواروں کے موسم میں الیکشن ،کہرے میں لپٹی پردیسیوں کی امیدیں

Share Article

فرزانہ پروین
وطن سے دور، بیوی بچوں سے الگ، ماں بہنوں کی نظروں سے اوجھل ایک پردیسی کیلئے اپنی مٹی پر تہوار منانے کی خوشی کچھ اورہی ہوتی ہے، وہ بھی ایسے وقت جب جمہوریت کا عظیم تہوار یعنی انتخاب ساتھ ساتھ ہو۔ نومبر کا مہینہ آخری پڑاؤ پر ہے ، شبنم گرنا شروع ہوگئی ہے، دسمبر کے کہرے نے دستک دے دی ہے، دیوالی، چھٹھ اور عید قرباں کا جشن یکے بعد دیگر ختم ہوچکا ہے۔ بہار اسمبلی انتخاب کی دھول بھی بیٹھ چکی ہے۔ نتائج کا اعلان ہونے والا ہے ،جس وقت یہ تحریر آپ کے ہاتھوں میں ہوگی سب کچھ صاف ہوچکا ہوگا، کامیاب امیدوار سرخ پھولوں سے لدے حکومت بنانے کی جوڑ توڑ میں لگے ہوں گے۔ اقتدار کا چہرہ پہچاننے کی اگر جلدی ہے تو گھر سے باہر نکلئے، ممکن ہے آپ کا پہلا پڑاؤ چائے کی دکان ہو یا گاؤں کی چوپال۔ انتخابی نتیجہ جاننے کیلئے آپ صحیح جگہ پر پہنچے ہیں ۔ چند منٹوں میں ہوا کے رخ کا پتہ چل جائے گا، ہر شخص اپنی پسند کی سرکار بنانے میں لگا ہے۔ سوال درسوال ہورہا ہے لیکن ایک پردیسی کے من کو ٹٹولئے جو بہت بڑی تعداد میں نئے عزم و حوصلے کے ساتھ ووٹ دینے اور تہوار منانے کیلئے گھر آئے تھے ۔ انہیں اس سے مطلب نہیں کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بنیں گے یا لالو پرساد وہ تو اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں ، انتخابی امتحان میں امید واروں کو نمبرات دے چکے ہیں۔ ان کے سامنے مستقبل کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان کی ہجرت اور نقل مکانی کوکون روکے گا؟ ان کے ہاتھوں کو کام کون دے گا؟ انہیں اپنی دھرتی پر روزگار کون فراہم کرائے گا؟ پڑھے لکھے کو کاغذ کے ٹکرے پر 2 وقت کی روٹی کون مہیا کرائے گا؟ تہوار اور الیکشن سے قبل جس جوش و جذبہ کے ساتھ وطن لوٹے تھے وہ مایوسی میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ بے روزگاروںکی یہ کھیپ اب رخت سفر باندھ رہی ہے، ٹرینوں میں بھربھر کر یہ پر دیس کو کوچ کررہے ہیں ۔ انہیں پھر دہلی ، پنجاب، ہریانہ، کولکاتہ اور ممبئی کی ان ہی تاریک گلیوں میں جانا ہے جہاں وہ اپنا سب کچھ نچھاور کرکے دوسروں کے مقدر چمکانے میں لگے تھے۔
پردیسیوں نے تو 45 سالہ کانگریس کی حکمرانی بھی دیکھی ہے، رابڑی کے 15 برسوں کے اقتدار سے بھی واسطہ رہا ہے اور بابو نتیش کمار کی 5 سالہ کارکردگی بھی ان کے سامنے ہے۔ ماضی کی روشنی میں ایک بار پھر انہیں اپنا مستقبل کہروں میں لپٹا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ پردیسیوں کی امیدوں پر لگایہ کہرا کون صاف کرے گا کچھ کہانہیں جا سکتا۔ کہنے کو تو سبھوں نے انتخابی منشور میں روزگار فراہم کرانے کی گارنٹی دی اور انتخابی جلسوں میں چیخ چیخ کر نقل مکانی روکنے کی بات کہی، لیکن یہ تو سیاسی وعدے ہیں، وعدوں کا کیا اعتبار، وعدہ تو ٹوٹ جاتا ہے۔ وعدہ تو وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی کیا تھا کہ حکومت ملتے ہی بے روزگاروں کا ’’پلائن‘‘ روکنے کیلئے بندپڑی چینی ملیں دوبارہ کھولیں گے، فیکٹری، کارخانے لگائیں گے، نئی صنعتیں قائم کریںگے، لیکن پورے بہار گھومئے کہیں بھی آپ کو چمنیوں سے دھواں نکلتا نظر نہیں آئے گا البتہ سڑکوں کے کنارے شراب  کے نشے میں دھت نوجوانوں کے ہاتھوں میں بیڑی کا دھواں ضرور دکھائی دے گا۔ میں یہ نہیں کہتی کہ نتیش کمار نے نئے بہار کی تعمیر کیلئے کچھ نہیں کیا، لااینڈ آرڈر کا قیام اور بہار کے دہشت زدہ ماحول کو بدلنے میں انہوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ البتہ رشوت خوری اور افسرشاہوں پر نکیل کسنے میں وہ پوری طرح ناکام رہے۔
امن کسے پسند نہیں، خوشحالی کون نہیں چاہتا، ترقی سے کس کو انکار ہے۔ بہتر تعلیم، خوبصورت سڑکیں، بجلی کی روشنی، علاج کا نظم، روزگار کے مواقع، انصاف وقانون کی بالا دستی، خوف سے پاک ماحول اور 2 وقت کی روٹی سب کو چاہئے۔ زندگی کی ان ہی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے بہار کے عوام وخواص دہلی، پنجاب اور ممبئی کی تاریک گلیوں میں اپنا خون پسینہ بہا کر دوسروں کا مقدر چمکارہے ہیں۔ ترقی کو کبھی بھی کسی سیاسی پارٹی یامذہب کے چشمہ سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ سڑکیں بنتی ہیں تو اس پر گاڑی چلانے والوں کی ذاتی شناخت نہیں پوچھی جاتی، روزگار کے مواقع گھر کے پاس نکلتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ان ہی کو ہوتا ہے جو روزی روٹی کیلئے اپنی مٹی سے کوسوں دور ہیں۔غنڈہ راج بند ہوتا ہے تو ہر کوئی چین کی نیند سوتا ہے۔ انصاف، نظم ونسق کا قیام، بہتر روزگار، عوام کا حق یہ سارے الفاظ بہار سے غائب ہو گئے ہیں۔ بہار کے بارے میں بیرون ریاست کا کچھ الگ نظریہ ہے ، وہ بہار کے نام سے نفرت کرتے ہیں، پڑھے لکھے لوگ اپنی شناخت چھپاتے ہیں، بہاریوں سے دوستی کرنے سے لوگ کتراتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بہار جاؤ گے تو لوٹ لئے جاؤ گے، اغوا ہوگا، 10 کلو میٹر سفر طے کرنے میں گھنٹوں لگیں گے، پولس بدعنوان، افسران رشوت خور اور حکمراں مفاد پرست ہیں۔ آج ہر بہاری خواہ وہ ریاست میںہو یا ریاست سے باہر سات سمندر پار، ان کی ایک ہی تمنا ہے کہ بہار کے ماتھے پر لگا کلنک مٹے، ہر فرد کو تحفظ ملے، انصاف ملے اور واجب حق ملے،لیکن پاپی پیٹ کا کیا کریں؟وہی سب کچھ کراتا ہے۔
تہوار اور انتخاب کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ایک بار پھر روزی روٹی کمانے کیلئے بیرون ریاست جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، بہار سے جانے والی ہر ٹرین مزدوروں اور بے روزگار نوجوانوں سے بھری پڑی ہیں۔ سیمانچل کے سرجاپور گاؤں سے ایک نوجوان رستم علی پردیس کمانے جا رہا ہے، گاؤں کے چھوٹے بڑے اس کو چھوڑنے کیلئے قومی شاہ راہ 57 پر آئے ہوئے ہیں، سب کی آنکھیں پرنم ہیں کہ آج پھر ایک اور جوان گاؤں میں کم ہوجائے گا۔ میں نے جب پوچھا بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر کیوں جارہے ہو تو وہ بول اٹھتا ہے۔ ’’یہاں رہ کر تو ہم سبھی بھوکے مرجائیں گے،باہر جاکر کمائیں گے اور گھر والوں کو پیسہ دیں گے،تاکہ زندگی تو باقی رہے‘‘، حالانکہ یہ بہار کی تہذیب ہے کہ آنے والوں کا استقبال اور جانے والوں کی وداعی یادگار طریقے سے ہوتی ہے، لیکن آج کی تاریخ میں نقل مکانی اس تہذیبی روایت پر بھاری پڑ رہی ہے۔ روزی روٹی کیلئے پردیس جانے کا درد پورے شمالی بہار کاہے۔ کیا پورنیا، کشن گنج، ارریا، کیا بیگوسرائے، بھاگلپور، مدھوبنی، سڑکوں اور گاؤں کے چوک چوراہوں پر ان دنوں پر دیسیوں کو وداع کرنے کا درد بھرا منظر عام ہوگیا ہے۔ گاؤں کے بوڑھے بزرگ بہار سرکاروں کو کوستے ہیں جو ان کے جگر گوشوں کو روزگار فراہم کرانے میں ناکام ہیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں افرادی قوت، سوچ وصلاحیت کی کمی نہیں،انہیں زمین کا سینہ چیر کر اپنی تقدیر بدلنے کا ہُنر خوب آتا ہے۔ دنیا میں مشہور ہے کہ ’’ایک بہاری سب پر بھاری‘‘ اس کی مثال دیکھنی ہو تو ملک کے بڑے شہروں میں جاکر دیکھئے جہاں اپنا سب کچھ کھو کر بہاری کسی اور کا مقدر سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ چندبرسوں قبل دسمبر کے مہینے میں ہماچل پردیس کا سفر ہوا تھا ،بر ف باری شباب پر تھی ،وہاں میں نے دیکھا 10 سے 20 افراد صرف ایک سوتی چادر اوڑھے سڑکوں کی تعمیر میں لگے ہیں، پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ سب بہاری ہیں، پیٹ کی آگ کی تپش کے سامنے برفانی طوفان اور سردی ان کے لئے بے معنی تھی۔
17 فیصد آبادی والے مسلم رائے دہندگان اس بار بھی الجھن میں ہیںکیوں کہ وہ کوئی سیاسی قوت نہیں بن سکے۔ سیاسی پارٹیوں نے پھر انہیں بڑی آسانی سے بیوقوف بناکر انتشار کا شکار کردیا۔ مسلم اکثریتی حلقوں میں جہاں ذرا سی سوجھ بوجھ سے کام لیا جاتا تو بیشتر سیٹوں پر ان کا قبضہ ہوتا اور مسلم ممبران اسمبلی کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا لیکن ایسا نہیں ہو سکا، ان کے انتشار کا راز آہستہ آہستہ کھلتا جا رہا ہے۔
جہاں تک حکومت کی تشکیل کا سوال ہے، سیاسی جیوتش بنے بغیر آپ موٹا موٹا جواب دے سکتے ہیں کہ حکمراں این ڈی اے کی سیٹیں کم ہوں گی، خاص کر بی جے پی کو نقصان ہوگا۔ آر جے ڈی- ایل جے پی اتحاد میں چونکا دینے والے اضافے کا امکان بھی کم ہے۔ 243 سیٹوں پر تنہاانتخاب لڑنے والی کانگریس کا نفع میں رہنا طے ہے، لیکن آپ ایک تیسرے امکان سے انکار نہیں کر سکتے کہ اگر تھوڑا سا الٹ پھیر ہوا تو حکومت بنانے کیلئے چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروںکے سامنے ہاتھ جوڑ کر حمایت طلب کرنی ہوگی۔ سیاسی منڈی میں اچانک ان کے بھاؤ آسمان چھونے لگیں گے۔حالات جو بھی ہوں ایک با پھر پردیسی من مار کر نم آنکھوں سے جارہے ہیں جیسے جیسے سردی آتی جارہی ہے ان کی امیدیں کہروں میں دھندلاتی جا رہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *