الیکشن کی گونج: ممبئی میں یو پی ، بہار کے ووٹروں کی قدر بڑھی

Share Article

شاہد نعیم
p-2ووٹ کی قدر و قیمت کیا ہوتی ہے، اس کا احساس گرام پنچایت کے الیکشن میںہوتا ہے۔ عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ جب گرام پنچایتوں کے الیکشن ہوتے ہیں، تو گرام پردھان کے عہدے کے امیدوار ووٹر لسٹ کو دیکھ کر سب سے پہلے ان لوگوں کے ووٹوں کی فکر کرتے ہیں، جو تلاشِ معاش کی خاطر گاؤں سے دور دراز علاقوں میںجا کر بس گئے ہیں اور اگر مثبت کوشش کی جائے، تو وہ الیکشن کے موقع پر گاؤں آسکتے ہیں۔ چنانچہ گرام پردھان عہدے کے امیدوار نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو الیکشن کے بارے میں مطلع کرتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے گاؤں کی فلاح و بہبود کی خاطر پولنگ والے دن گاؤں ضرور پہنچ کر ووٹ ڈالیں۔ادھر گاؤں سے دور بسے لوگوں کو جب الیکشن کی اطلاع ملتی ہے، تووہ تمام کام چھوڑ کر اپنے وطن کی طرف رخ کرتے ہیں ۔ ان کے لیے امیدوار باقاعدہ گاڑیوں کا انتظام کرتے ہیں اور دل کھول کر ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ جو لوگ گاؤں سے بہت زیادہ دور جا بسے ہیں ، ان کوبلانے کے لیے بھی امیدوار ان کے متعلقین کے ذریعہ دباؤ ڈلواتے ہیں اور حتمی کوشش کرتے ہیں کہ وہ وطن آئیں اور ان کے حق میں ووٹ ڈالیں۔اس تمہید سے مراد یہ ہے کہ پنچایتی الیکشن میں امیدواراپنے ایک ایک ووٹ پر نظر رکھتے ہیں اور اس ووٹ کو ڈلوانے کے لیے اپنی طرف سے پوری کوشش کرتے ہیں۔
عام طور سے ’ووٹ پریم‘ کی یہ جھلک گرام پنچایتوں کے الیکشن میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے، بڑے الیکشن خاص طور سے اسمبلی یا پارلیمنٹ کے الیکشن میںسیاسی پارٹیوں اور ان کے امیدواروں کی جانب سے ووٹروں کے تئیںایسی چاہ کبھی نہیں دکھائی دیتی، لیکن اس بار ماحول کچھ بدلا ہوا نظر آرہا ہے۔سیاسی پارٹیاں اور ان کے رہنما پنچایت الیکشن کی طرح ہی لوک سبھا کے الیکشن میں بھی ووٹروں سے رابطہ قائم کر رہے ہیں اور جو لوگ بچوں کے اسکولوں و کالجوں کی چھٹیوں میںاپنے آبائی وطن لوٹنا چاہتے ہیں، انھیں الیکشن تک وہیں روکنے کی کوششکر رہے ہیں ۔یہ کوشش ملک کے تمام شہروں میں ہو رہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کوشش مہاراشٹر جیسی ریاست میں بھی ہو رہی ہے، جہاں مراٹھا اور غیر مراٹھا کے نام پر شو سینا اور راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا یو پی اور بہار کے لوگوں کو آئے دن’ باہری‘ کہہ کرمہاراشٹر سے کھدیڑنے کا فرمان جاری کرتی رہتی ہیں اور جہاں ’ایک بہاری، سو بیماری‘ کا نعرہ لگا کر ان کا عرصۂ حیات تنگ کیا جاتا ہے۔
در اصل مہاراشٹر میں مارچ کے مہینے میں اسکول اور کالجوں کی لمبی چھٹیاں ہو جاتی ہیں۔ اس موقع پر دور دراز علاقوںکے مہاراشٹر میں بسے لوگ بچوں کی چھٹیاں ہونے کے سبب اپنے آبائی وطن لوٹ جاتے ہیں۔اگر اس دوران الیکشن ہوتے ہیں، تو ان کے چلے جانے سے کسی بھی سیاسی پارٹی کے اچھے خاصے ووٹ ضائع ہو جاتے ہیں۔ ممبئی اور تھانہ میں بہار اور اتر پردیش کے لوگ کافی تعداد میں آباد ہیں، جبکہ کوکن، ستارہ اور سانگلی میں دور دراز علاقوں کے مراٹھی لوگ رہتے ہیں۔ ان سب کے ووٹ مقامی الیکشن میں کافی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے چھٹیوں میں ان لوگوں کے باہر چلے جانے سے سیاسی پارٹیوں کا بے چین ہونا فطری ہے۔لہٰذاتمام سیاسی پارٹیاں اور ان کے لیڈران ان لوگوں سے التماس کر رہے ہیں کہ وہ وطن جانے کا پروگرام الیکشن کے بعد بنائیں ، اس کے ساتھ ہی ان کے ریلوے ٹکٹ کنفرم کرانے کی ذمہ داری بھی وہ خود لے رہے ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ ان باہری لوگوں کے ووٹوں کے لالچ میں کانگریس، راشٹر وادی کانگریس پارٹی (این سی پی) ، بی جے پی، شو سینا اور خاص طور سے مراٹھیوں کے حق میں آواز بلند کرنے والی راج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس نے باقاعدہ مہم چلارکھی ہے۔
اب پردیس میں رہنے والے یہ بہار، اتر پردیش اور مراٹھی لوگ ایک عجیب سی تشویش میں مبتلا ہیں کہ وہ کریں تو کیا کریں؟ بچوں کی چھٹیوں کے انتظار میں ان کے بہت سے کام رک جاتے ہیں، وطن میں عزیز و اقارب میں ہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات ان کی آمد پر منحصر ہوتی ہیں۔اور یہ سیاسی پارٹیاں ان لوگوں سے کہہ رہی ہیں کہ وطن میں ہونے والی شادی بیاہ کی تاریخیں الیکشن کی مناسبت سے رکھیں ، الیکشن ہوتے ہی ان کے سفر کے لیے ریلوے ٹکٹکنفرم کرادیا جائے گا، جبکہ لوک سبھا کے الیکشن ابھی ڈکلیئر بھی نہیں ہوئے ہیں۔
دراصل ممبئی میں لوک سبھا کی چھ سیٹیں ہیں، ان میں سے پانچ سیٹوں پر کانگریس کا قبضہ ہے اور ایک سیٹ راشٹر وادی کانگریس پارٹی (این سی پی) کیقبضہ میں ہے۔ آنے والے عام انتخابات میں ان تمام سیٹوں پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی (این سی پی) ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں، وہ ووٹر لسٹ دیکھ کر اپنے ووٹروں کو چھٹیوں میں باہر نہ جانے کی گزارش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی اور خاص طور سے شو سینا اور ایم این ایس ، اس الیکشن میں بازی کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مراٹھا اوریو پی، بہار کے لوگوں سے روایتی تفریق کی خلیج کو بھی پاٹنے پر آمادہ نظر آ رہی ہیں۔
تعجب کی بات ہے کہ جو شو سینا اور خاص طور سے راج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس مہاراشٹر میں بہار اور یو پی کے لوگوںکو ’بیماری ‘ کے روپ میں مانتی ہے، ان کے ساتھ سوتیلا اور غیر انسانی سلوک کرتی ہے، وہی مراٹھا نواز پارٹی ووٹوں کے لالچ میں انھیں نہ صرف الیکشن تک روکنے کے لیے درخواست کر رہی ہے، بلکہ ان کے ریلوے ٹکٹ کنفرم کرانے کی ذمہ داری تک اٹھانے کو تیار ہے۔ کاش یہ پارٹی جب ان یو پی اور بہار والوں کو باہری اور غیر مراٹھی کہہ کر انھیں سولی پر چڑھانے کو آمادہ ہوتی ہے، اس وقت بھی یہ سوچے کہ یہ لوگ بھی مراٹھوں کی طرح ہی ہندوستانی ہیں اور انھیں ہندوستان کے کسی بھی علاقے میں رہنے، کمانے اور ووٹ دینے کاحق حاصل ہے۔ اور یہ حق انھیں کسی اور نے نہیں، ہندوستان کے آئین نے دیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *