الیکشن کی آہٹ: مہاراشٹر اور منی پور میں کانگریس کی مسلمانوں پر عنایت

Share Article

وسیم راشد 
p-10الیکشن 2014کی آمد آمد ہے اور سبھی سیاسی پارٹیاں عوام کو رجھانے کی کوشش میں لگ گئی ہیں۔ عوام مہنگائی کے بوجھ سے اتنے دبے ہوئے ہیں کہ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو زنگ لگ چکا ہے۔ آنے والا الیکشن کیا رنگ دکھائے گا یہ تو کسی کو نہیں معلوم لیکن ایک بات ضرور ہے کہ عوام کا سبھی سیاسی پارٹیوں پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اب اس وقت ان کی بھلائی کے لئے جو بھی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں، جو بھی اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں ۔ اس کا مطلب وہ اچھی طرح جانتے ہیں کیا ہے۔ مہاراشٹر اور منی پور میں کانگریس کی حکومت ہے اور دونوں ہی جگہ کانگریس نے مسلم ووٹروں کو راغب کرنے اور رجھانے کا کام شروع کر دیا ہے ۔ مہاراشٹر میں ریاستی حکومت کے ذریعہ 6ممبران کا ایک پینل بنایا گیا تھا ۔ جس کا کام مسلم سماج کی پسماندگی اور ان کی حالت پر حکومت کو رپورٹ پیش کرنا تھا۔ اسی پینل نے اب 8 فیصد ریزرویشن مسلمانوں کو نوکریوں میں دینے کی سفارش کی ہے اور اگر یہ سفارش منظور ہو جاتی ہے تو ریاست میں سماج کے مختلف طبقوں کو جانے والا ریزرویشن 60فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ پینل جس کی صدارت محمود الرحمن صاحب (سابق اے ایم یو وائس چانسلر)کر رہے ہیں ۔اس پر 2011سے کام ہو رہا ہے۔ یہ رپورٹ ستمبر کے پہلے مہینے میں چیف منسٹر پر تھوی راج چوہان کو سونپی گئی ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی سماجی و معاشی حالت ریاست میں دوسرے طبقوں کے مقابلہ میں بہت خراب ہے اور ان کو اس حالت سے نکالنے کے لئے ریزرویشن دینا بہت ضروری ہے۔ اس پینل نے 8فیصد کی بات ریاست کے 10.6فیصد مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے کہی ہے۔ اس کے مطابق 80فیصد مسلمانوں کی حالت بے حد خراب ہے اور ان کو ریزرویشن کی سخت ضرورت ہے۔اس کمیشن نے 8فیصد ریزرویشن 20سال کے لئے دینے کی سفارش کی ہے ۔ اسی کے ساتھ اس کمیشن نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ خواتین کے 33فیصد Quota میں سے مسلم خواتین کو Sub Quota دیا جائے۔ دراصل محمود الرحمن کمیٹی، جس میں ماہر ین تعلیم اور رٹائرڈ افسر ان شامل ہیں۔ 2008میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ ولاس رائو دیشمکھ کے دور میں بنائی گئی تھی ، اور اس کا مقصد مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینا تھا اور اس کمیٹی نے 2008میں ہی اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی تھی،لیکن تبھی سے یہ صرف فائلوں تک ہی محدود رہی
2011میں پرتھوی راج چوہان نے دوبارہ اس کمیٹی کی تشکیل کی اور جس کا مقصد مسلم سماج کی پسماندگی کا ازسر نو جائزہ لینا تھا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کو درپیش مسائل کا بھی اس کمیٹی کو اندازہ لگانا تھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2008میں جس کمیٹی کی تشکیل ہوئی تھی ۔ اسی کمیٹی کی جب 2011میں دوبارہ تشکیل ہوئی تو تب سے اب تک اس کمیٹی نے پسماندہ مسلم سماج کے لئے کیا کوئی بھی سفارشات پیش نہیں کیں اور اگر کی ہیں تو اب تک ان کا کہیں بھی ذکر کیوں نہیں آیا ہے۔اب 3سال بعد جبکہ الیکشن کی آہٹ محسوس ہونے لگی ہے تو اس پینل کو مسلمانوں کے لئے نوکریوں میں ریزرویشن کا خیال آگیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وقت سبھی کو مسلمانوں کی پسماندگی کا احساس زیادہ ہی ستا رہا ہے اور سروے بھی اسی مدت میں کرائے جا رہے ہیں۔حال ہی میں ہوئے حکومت کے تازہ سروے کا جائزہ لیں تو اس سروے نے یہ واضح کیا ہے کہ مسلمانوں کی حالت زار بے انتہا خراب ہے۔ ہر ریاست ، ہر ضلع ، ہر گائوں میں مسلمان نہایت ہی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دیہاتوں میں مسلمان بہت ہی خراب حالت میں ہیں۔ ایک مسلمان شخص کے ماہانہ اخراجات 833روپے ہیں جبکہ ہندوسماج کے 888، کرسچین کے 1296اور سکھ کمیونٹی کے 1498ہیں۔ یعنی تمام مذاہب میں مسلمانوں کی زندگی سب سے زیادہ خراب ہے اور صرف ایک دن میں32.66روپے ہی کما پاتے ہیں جبکہ دوسری اقلیتیں ، جس میں سکھ، عیسائی سبھی شامل ہیں، ان سب کا انداز زندگی اور گزر بسر کے طریقے مسلمانوں سے بہت بہتر ہیں۔ سکھ 55.30اورہندو 3750روپے ، کرسچین 51.43روپے خرچ کرتے ہیں ۔ اسی طرح شہروں میں بھی مسلمانوں میں ایک شخص کے ماہانہ اخراجات 1272روپے ہیں جبکہ ایک ہندو1797روپے ، کرسچین 2,053روپے اور سکھ 2180روپے ماہانہ خرچ کرتے ہیں۔ ان تمام اعداد و شمار سے تو یہ بات واضح ہو ہی جاتی ہے کہ پورے ملک میں ہی مسلمانوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے جو کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں ان کی سفارشات سب کی سب سرد خانے میں پڑی رہتی ہیں۔چاہے سچر کمیٹی ہو یا رنگا ناتھ مشرا کمیشن۔ اسی طرح ریاستی سرکاروں کا بھی حال یہی ہے ، جس طرح مہاراشٹر میں الیکشن کے قریب آتے آتے کانگریس کی عنایتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ اسی طرح منی پور میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔23اگست 2013کو منی پور کے وزیر اعلیٰ اوکرم ابوبی سنگھ نے امپھال میں وقف بورڈ کے چیئر مین آفس بلڈنگ کا افتتاح کیا ہے۔ اپنی تقریر میں وزیر اعلیٰ نے یہ تک کہا کہ موجودہ بلڈنگ اچھی نہیں تھی۔ اب وہ کوشش کر رہے ہیں کہ وقف بورڈ کی باقاعدہ اچھی بلڈنگ بنوائی جائے، جس میں مسافر خانہ بھی ہو اور وی آئی پی کانفرنس ہال بھی ہو۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے نہایت ہی بلند بانگ دعویٰ کیا کہ چاہے مرکزی حکومت سے ان کو مسلمانوں کے لئے فنڈ ملے یا نہ ملے ، وہ ریاستی فنڈ سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود والی اسکیموں کا نفاذ کرائیں گے۔ یہی نہیں وزیر اعلیٰ نے مسلم گرلز ہاسٹل کے قیام کی بھی بات کی۔ ابھی جو ہاسٹل ہے ، اس کا قیام مرحوم محمد علائوالدین جو کہ ریاستی وزیر تھے، ان کے مشورے سے عمل میں آیا تھا اور اس کا سنگ بنیاد 12دسمبر 2010میں سونیا گاندھی نے رکھا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مسلم گرلز ہاسٹل کو بہتر بنایا جائے گا اور اس کی توسیع بھی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مسجدوں، قبرستان اور عید گاہ وغیرہ کو بھی مالی امداد فراہم کی جائیں گی۔ منی پور میں تقریباً72مدرسے اور 07مکتب ہیں جو کہ بورڈ سے رجسٹرڈ ہیں۔ ان سبھی کو مالی امداد کی یقین دہانی وزیر اعلیٰ نے کرائی ہیں۔وزیر اعلیٰ کو یہ مدرسے ، یہ مکتب پہلے نظر کیوں نہیں آئے۔ نہ ہی وزیر اعلیٰ کو قبرستان اور عید گاہ نظر آئے ۔ پھر بھی مسلمانوں کے لئے اگر کچھ اچھے کام کئے جاتے ہیں تو ہم تو یہ سوچتے ہیں کہ’ لڈو ٹوٹے گا تو بھورا تو جھڑے گا ہی‘۔ کہنے کا مطلب ہے چاہے یہ سب الیکشن کی آہٹ کا اثر ہو مگر ان سب سے مسلمانوں کا فائدہ تو کم سے ہوگا ہی۔ پھر بھی یہ سب اصلاحات ، یہ سب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے پروگرام الیکشن کے وقت ہی کیوں کئے جاتے ہیں۔ ان کی حالت زار ریاستی یا مرکزی حکومت کو الیکشن کے وقت ہی کیوں نظر آتی ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی ، اقتصادی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ہے۔ ریاستوں میں بھی مسلم طلباء کے لئے اسکول و کالج بہت ہی کم ہیں اور جو دوسرے کالجز ہیں وہاں داخلہ لینا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اقتصادی بدحالی کے سبب نمبر کا فیصد کم رہ جاتا ہے اور اکثر مسلم طلبا داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ شہروں کی حالت تو قدرے بہتر ہے مگر گائوں ، دیہاتوں ، قصبوں میں مسلم طلبا بنیادی تعلیم سے ہی محروم ہیں اور جو حکومت کی تعلیم سب کے لئے کی پالیسی ہے۔ اسی سے ابھی بھی مسلم سماج کوکوئی فائدہ نہیں ملا ہے۔ الیکشن کے نزدیک آتے آتے نہ جانے کہاں سے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کیہمدردیمسلمانوں کے لئے جاگ جاتی ہے اور سبھی مسلمانوں کی پسماندگی اور ان کی فلاح وبہبود کی بات کرنے لگتے ہیں۔ مسلمان یہاں بھی صبر کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ چلو ہمیں ووٹ بینک ہی سمجھ کر ہمارے لئے کچھ بہتری کے کام ہو جائیں اور ہمارے بچوں کو تعلیم اور نوجوانوں کو نوکریاں مل جائیں۔ چاہے وہ الیکشن کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہوں ، کچھ تو ہماری اقتصادی حالت میں سدھار پیدا ہوگا کیونکہ زبردست مہنگائی کی وجہ سے پسماندہ مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ایسے میں جوان کی گھریلو صنعتیں تھیں، وہ بھی ختم ہو گئی ہیں ۔ کھیتی باڑی کا کام اب بھی مسلمان کرتا ہے مگر اس کا دھیان گھریلو صنعتوں اور دیگر ہنر پر زیادہ رہتا ہے۔ جہاں تک سرکاری اسکیموں کا معاملہ ہے۔ ایک غربت اور جہالت کی وجہ سے دیہاتوں کے مسلمانوں کو ان اسکیموں کا پتہ نہیں چل پاتا اور اگر کچھ پڑھے لکھے مسلمانوں کو اس کا پتہ چل بھی جاتا ہے تو اس کا فائدہ اونچی ذات والے مسلمانوں کو ہی مل پاتا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہرریاست میں جو بھی مسلمانوں سے جڑے ادارے ہیں، جسے مائنارٹی کمیشن مدرسہ بورڈ، وقف بورڈ، اردو اکیڈمیاں اور ان سبھی پر مسلم افراد کی ہی تقرری کی جائے تاکہ ایک تو ان کو بھی روزگار ملے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ہر ادارے اور ان کے سربراہ یقینا مرکزی حکومت کی اسکیموں کا نفاذ کر کے پسماندہ مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں آگے لا سکیں گے۔بہر حال وجہ جو یہ بھی ہو کانگریس نے اپنے اقتدار والی ریاستوں میں عنایتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ فوڈ سیکورٹی بل بھی اسی عنایت کا حصہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس الیکشن سے اعلانات کے طورپر مراعات ملنے والی ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *