الیکشن کاوقار گرتا جا رہا ہے

Share Article

کمل مرارکا
میڈیا یک رخی تصویر پیش کر رہا ہے۔ وہ اپنے سروے میں بتا رہا ہے کہ بی جے پی؍ این ڈی اے کو دن بہ دن بڑھت حاصل ہو رہی ہے۔ ابھی میڈیا یہ پیشن گوئی کر رہا ہے کہ این ڈی اے کو 275 سیٹیں مل جائیں گی۔ بی جے پی صدر راجناتھ سنگھ نے بی جے پی کو خود 272 سیٹیں ملنے کی بات کہی ہے۔ ان پیشن گوئیوں پر کتنا بھروسہ کیا جائے، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کا میڈیا مینجمنٹ زبردست ہے اور پیسہ بھی اپنا کام خوب کر رہا ہے، جس سے ان کا حوصلہ بڑھا ہے۔ جیت کا دعویٰ ٹھیک ہے۔ الیکشن لڑنے والی سبھی پارٹیاں محسوس کرتی ہیں کہ وہ جیت رہی ہیں ، جیت کا دعویٰ کرتی ہیں، کرنا بھی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی بھی سو سیٹوں کی بات کر رہی ہے۔ اس کے لیے کوئی زیادہ اعتراض نہیں ہے، قابل اعتراض بات کچھ اور ہے۔ ٹی وی پر کچھ نجی انٹرویو میں نریندر مودی کا بیان آیا ہے کہ وہ 2002 کے فسادات کے لیے معافی نہیں مانگیں گے۔ بہت سنجیدگی سے وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ قصوروار ہیں، تو ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستان کے مستقبل کے لیے انہیں چوراہے پر عوام کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔
یہ بیان بہت سی چیزیں کہتے ہیں۔ یہ ہندوستان کا عدالتی نظام ہے، جو کہتا ہے کہ سو قصوروار چھوٹ جائیں، لیکن ایک بے قصور کو پھانسی نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ انصاف کا برطانوی پیٹرن ہے۔ اس لیے یہ ایک ایسا نظام ہے، جہاں ان کے خلاف سیدھا ثبوت ڈھونڈ پانا مشکل ہے۔ اس لیے وہ پر اعتماد ہیں کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت ملے گا ہی نہیں اور انہیں پھانسی نہیں ہونے والی ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ اس طرح کے بیانوں سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اتنے بڑے حادثہ کے لیے ایک آدمی کے من میں کوئی افسوس تک نہیں ہے۔ یہ نریندر مودی کا آر ایس ایس والا نظریہ ہے۔ آر ایس ایس کے لوگ مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں میں اپنے ہم خیالوں کی طرح، عوامی جگہوں پر پھانسی پر لٹکانے، ہاتھ کاٹنے اور عصمت دری کرنے والوں کو ایک الگ طریقے سے سزا دینے کی بات میں یقین کرتے ہیں۔ یہ سب ہندوستانی آئین کے لیے فٹ نہیں ہے۔ ہم ایک مہذب ملک ہیں۔ ہم نے مہاتما گاندھی کی قیادت میں انگریزوں کے ساتھ ایک نہایت ہی مہذب طریقے سے آزادی کے لیے لڑائی لڑی ہے۔ ہم نے ایک نہایت ہی مہذب آئین کو اپنایا ہے۔ نریندر مودی دراصل یہ سوچتے ہیں کہ وہ آنے والے وزیر اعظم ہیں اور وہ پہلے سے اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، تو یہ یقینی طور پر ہندوستانی آئین کے مستقبل کے لیے خطرے کی بات ہے۔
ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک ایسا طالبانی ہندو نظام ہو، جہاں زیرو ٹالیرنس ہو اور اچھے اخلاق کی کمی ہو۔ یہ ایک قابل تشویش پہلو ہے۔ میں عدالتوں کے بارے میں نہیں جانتا، لیکن کوئی بھی تعلیم یافتہ شخص یہ جانتا ہے کہ 2002 میں احمد آباد میں کیا ہوا۔ اپنے پولس والوں کو نریندر مودی کے ذریعے کیا ہدایتیں دی گئیں۔ ان میں سے کئی سینئر پولس افسران جیل میں ہیں۔ ایسی کوئی اور ریاست نہیں ہے، جہاں 15 سے 20 سینئر آئی پی ایس افسران جیل میں ہوں۔ اس سے ان کے کردار کا تذکرہ کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اگر یہ وافر ثبوت نہیں ہے، تو اور کیا ہے؟ ظاہر ہے، وہ قانونی دائرے کے حساب سے بات کر رہے ہیں، جس سے کہ وہ کبھی قصوروار ثابت نہیں ہوں گے۔ اس طریقے سے، سبرت رائے سہارا کو کبھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے۔ سبرت رائے کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔ لیکن یہ ایک اور معاملہ ہے۔ ملک کے ایک شہری کے روپ میں اور لمبے عرصے سے سیاست کو دیکھ رہے ایک شخص کے روپ میں، میرے لیے یہ تشویش کی بات ہے کہ آج انتخابات بغیر کسی ایشو کے لڑے جا رہے ہیں۔ الیکشن میں ووٹنگ فیصد بڑھتا جا رہا ہے، یہ اچھی بات ہے، لیکن انتخابی مدعے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
اس الیکشن میں ایشو کیا ہے؟ بی جے پی اور کانگریس دونوں ترقی کی باتیں کرتی ہیں۔ بی جے پی خود کو سیکولر اور کانگریس کو فرقہ پرست بتاتی ہے۔ کانگریس بی جے پی کو فرقہ پرست بتاتی ہے اور خود کو سیکولر۔ اس طرح دونوں ہی پارٹیاں سیکولر ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ لیکن، ان دونوں کے بیچ مدعے کا کیا فرق ہے؟ بی جے پی کہتی ہے کہ کانگریس کے دس سالہ دورِ حکومت میں بدعنوانی بڑھی ہے۔ لیکن، بدعنوانی کے معاملے میں بی جے پی کا ریکارڈ کیا ہے؟ وہ جن ریاستوں میں بر سر اقتدار ہے، وہاں کیا حالت ہے، اسے بھی دیکھنا چاہیے۔ کیا گجرات میں کوئی بدعنوانی نہیں ہے؟ کیسے نریندر مودی الیکشن کے لیے پیسوں کا انتظام کرتے ہیں؟ کیا آپ کو ایک پرنٹنگ پریس مل گیا ہے؟ پیسہ تو پیسے والوں سے ہی ملتا ہے، غریب تو آپ کو پیسہ دے گا نہیں۔ تو پھر، جو آپ کو پیسے دے رہا ہے، وہ کیوں اور کہاں سے دے رہا ہے؟ کانگریس اور بی جے پی کی بدعنوانی کو الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔ کانگریس اس بار ہار رہی ہے، لیکن وہ اس لیے نہیں ہار رہی ہے کہ اس کی پالیسیاں غلط تھیں یا اس کی آئڈیالوجی غلط ہے۔ ان دس سالوں میں وہ اس لیے بدنام ہوئی، کیوں کہ اس نے ٹو جی، کامن ویلتھ گیمس، کوئلہ بلاکوں کی تقسیم جیسے معاملوں کو ٹھیک سے سنبھالا نہیں۔ سبھی طریقہ کار کو درکنار کرتے ہوئے اپنے چاہنے والوں (کرونی) کو کوئلہ کی بلاکیں تقسیم کر دیں۔ ویسے بی جے پی کے کرونی بھی اتنے ہی جگ ظاہر ہیں، جتنے کہ کانگریس کے۔ اصل میں، آج ہم کرونزم کے دور میں ہیں۔
لوگ کرونی کیپٹل ازم کو خراب کہتے ہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ہندوستان میں کوئی پونجی واد ہے ہی نہیں۔ یہاں کرونی کیپٹل ازم ہے۔ کول بلاک کی تقسیم ہوئی، لیکن کوئلہ سامنے آیا ہی نہیں۔ ٹو جی گھوٹالہ میں لوگوں نے لائسنس لے لیا اور دور بھاگ گئے۔ ملک کو کیا حاصل ہوا؟ کچھ نہیں، لیکن سیاسی پارٹیوں نے اس سے پیسے بنائے۔ اس الیکشن میں جو بھی نتائج آئیں، لیکن الیکشن کرانے کے طریقوں اور اس کے ڈھانچہ پر ایک سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آج الیکشن میں لیڈروں کی زبان کیسے سطحی ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ سینئر لیڈروں کے منھ سے بھی ایسی ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جو نہیں آنی چاہیے تھیں۔ غلط زبان کا استعمال ہو رہا ہے۔ 1952 اور 1957 میں جو زبان کا معیار تھا اور جس طریقے سے الیکشن ہوتے تھے، آج وہ سب ختم ہو چکا ہے۔ لوگوں کو یاد دلانے کے لیے کہنا چاہوں گا کہ اس وقت کانگریس سب سے طاقتور تھی، لیکن ایک مضبوط سماجوادی پارٹی تھی، ایک مضبوط کمیونسٹ پارٹی تھی، جن سنگھ اور رام راجیہ پریشد جیسی پارٹیاں بھی تھیں۔ لیکن تب تعلیم یافتہ لوگ الیکشن کے وقار کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ آج الیکشن کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *