فلسطین میں تعلیمی ڈھانچہ کو تباہ کرنے کی اسرائیلی سازش

Share Article

سہیل اختر قاسمی
اسرائیلنے1967میں قدس اور اس کے نواحی علاقے پر قابض ہونے کے بعد آج تک فلسطین پر جو بھی ظلم ڈھایا ہے وہ سب کے سب تاریخ انسانی کے بھیانک ترین یادگاربن چکے ہیں۔فلسطین عوام کو فوجی، سیاسی، اقتصادی، معاشی، سماجی، غذائی اورجسمانی طور پر تباہ وبرباد کرنے کے بعد اب تعلیمی طور پر بھی پتھروں کے شہر میں بھیجنے کی تیاری اور تگ ودو کررہاہے۔اسی مقصد سے ان دنوں فلسطین کے تعلیمی جذبہ اور شغل پر کاری ضرب لگایا جارہاہے ۔
فلسطینی وادارہ جاتی حقوق کی محافظ تنظیموں کے مطابق فلسطین میںتعلیم کی صورتحال دن بدن بدتر ہوتی جارہی ہے،امسال قدس کے تقریبا12000طلبہ وطالبات تعلیمی اداروں کی تباہی اور اسکے فقدان کی بناء پر اپنی تعلیم کو جاری رکھنے سے مکمل طور پر محروم ہو گئے ہیں۔حالانکہ فوری طور پر 1800تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جو امیدواروں کی تعلیمی ضرورت کو عارضی طور پر پورا کرسکے۔ اطلاعات کے مطابق 2000سے زائد تعلیمی عمارتوں کو نقصان ہواہے اور اس نقصان کی تعداد صیہو نی قابضین کی جبری سطوت اور تخریبی سرگرمیوں کی بنا ء پردن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے ۔مزیدبراں جن علاقوں میں تعلیمی باگ وڈور اسرائیلی حکام کے ہاتھوں میں ہے وہ علاقے پورے طور پر تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔
عربی قلمکار عصام ابوثائرنے اپنے ایک مضمون میں یہ انکشاف کیا ہے’’ کہ عام طور پر اسرائیلی حکام نے پرانے تعلیم گاہوں پرسرکاری امور اور شہری سہولیات کے نام پر قبضہ کررکھاہے جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان اداروں کو خالی کریں تو ان کا جواب یہی ہوتاہے کہ نظم ونسق کے لئے ہمیں دفاتر کی ضرورت ہے اور اسکے لئے ہمیں فلسطینی زمین نہیں دیتے ہیں سو ہم ان اداروں پر اس وقت تک قابض رہیں گے جب تک ہمیں الگ سے اراضی فراہم نہ کی جائے‘‘۔
فلسطین میں تعلیمی ڈھانچہ کو پورے طور پر برباد کرنے کی کوشش شد ومد سے جاری ہے، اسرائیل کو اب نہ انسانیت کی پرواہ ہے اور نہ عالمی قوانین کا خیال ہے ،اقوام متحدہ کو تو وہ کب ہی کئی جوتے لگا چکاہے۔بایںبناء اسے بھی اسرائیل کی ظالمانہ کاروائیوں سے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے اور نہ وہ اسرائیل کو جوابدہی پر مجبور کرتاہے البتہ چونکہ اسے بھی فارملیٹیز پور ا کرنا ہوتی ہے اسی لئے وہ اسرائیل سے ملکی رپورٹ اور فلسطینی ریاست کی تنظیمی ،سیاسی اور تعلیمی صورتحال کی خبر لے لیتاہے۔ ابھی حال میں ہی اسرائیل نے کئی طرح کی رپورٹ اقوام متحدہ کو ارسال کیا ہے انہی رپورٹوں میںایک رپورٹ فلسطینی علاقوں میں تعلیمی صورتحال پرتھی جسے’’موسسہ عیر عمیم ‘‘جوایک صیہونی تعلیمی یونٹ ہے جس کے ذمہ امور تعلیم وتربیت ہے ؛ نے پیش کی ہے جو پورے طور پر جھوٹ کا پلندہ ہے۔اسکے مطابق 89ہزار قدسی طلبہ وطالبات بلدیہ اور اسرائیلی وزارت تعلیم وتربیت کے زیر نگرانی چلنے والے اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ جتنے طلبہ مدارس سے دور ہیں انکی تعداد بہت ہی مختصر ہے،اس نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے’’ اسرائیلی نگرانی والے جتنے علاقے ہیں وہاں باضابطہ تعلیم کا نظم ہے اور وہاں پر غریب بچوں کے لئے فری تعلیمی سہولیات بھی مہیا ہے‘‘۔موسسہ نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ قدس میں زیر تعلیم فلسطینی طلبہ وطالبات( عمر:18-6) کی مجموعی تعداد87624ہے،یہ تعداد ان طلبہ کی ہے جو باضابطہ معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں،5300بچے ایسے ہیں جو غیرمعیاری اسکولوں (دینی مدارس)میں زیر تعلیم ہیں۔ لیکن قدس کے مدیر تعلیم سمیر جبریل جو مثبت فکر کے حامل اور فلسطینیوں کے ہمدرد سمجھے جاتے ہیں انہوں نے مبینہ طور پر اس رپورٹ پراعتراض کیا ہے،انہوں نے اس کا مذاق اڑاتے ہو ئے یہ کہا کہ جس ریاست میں 5000سے زائد فلسطینی تعلیمی اداروں کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا ہو وہا ں صرف 5300بچے ہی تعلیم سے کیسے محروم رہ سکتے ہیں حساب کے تناظرمیں دیکھاجائے تو باضابطہ اسکول کی تعلیم سے محروم ہوجانے والے طلبہ کی تعد اد لاکھوں پہنچ جاتی ہے انہوں نے روزنامہ ’القدس‘کو بیان دیتے ہوئے صاف لفظوں میں یہ کہا کہ’’ کہاں ہیں وہ معیاری تعلیمی درسگاہیں جوہماری نظروں سے غائب ہیں ہمیں تو وہ نظر نہیں آتے‘‘ ۔سمیر جبریل نے مزید یہ وضاحت کی ہے کہ قدس شہر میں فلسطینیوں کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لئے صرف150اسکولز ہیں جسمیں زیادہ تر اسکولز رفاہی اداروں کے زیر اہتمام ہیںاور وہ بھی اسرائیلی دست درازیوں کی شکارہیں۔انہوں نے اسرائیلی دہشت گردی کو نشانہ سادھتے ہوئے یہ کہا کہ اسکولوں میں آئے دن ریڈ مارنے اور اسکولی طلبہ وطالبات کو سڑکو ں پر دہشت زدہ کرنے کی بناء پر سالانہ 10ہزار طلبہ تعلیم سے کنارہ کش ہو جاتے ہیںکیا اسے ہی اسرائیل تعلیمی ارتقاء کا نام دے رہا ہے ۔
ایک رفاہی تنظیم کے اعدادو شمار کے مطابق القدس میں فلسطینی طلبہ وطالبات کی تعداد تقریبا 90ہزار ہے ۔تقریبا66ہزار طلبہ وطالبات اوقاف اسلامی اور رفاہی تنظیموں کے زیراہتمام چلنے والے اداروں میں تعلیم حاصل کرہے ہیں،بقیہ سرکاری اسکولوں میں جو فلسطینی حکومت کے اشتراک سے چل رہے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے علاوہ بھی ایسے ہزاروں طلبہ وطالبات ہیں جنہیں تعلیمی سہولیات صرف اس معنی کر نہیں ملیں کیونکہ اسکولوں میں اب تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہے۔یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ فلسطین اکلوتی وہ ریاست ہے جہا ں کئی دہائیوں سے ہو رہے ظلم وجور کے بعد بھی وہا ں کی عوام نے ایجو کیشن کو اپنے پلو سے باندھ رکھاہے یہی وجہ ہے کہ آج خلیج کی بڑی بڑی کمپنیوں میں اکثرہائی کوالیفائڈ فلسطینی اچھے عہدوں پر براجمان نظر آتے ہیں۔آ ج بھی انکا تعلیمی جذبہ مرا نہیں ہے وہ آج بھی اسی ذوق وشوق سے تعلیم کی اہمیت سمجھ رہے ہیں اور اسے پھیلانے کی ہر کوشش کررہے ہیں ۔شاید یہی جذبہ اسرائیل کو پسند نہیں آتاہے ،فلسطین کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس کے سر پر ایک درندہ نما انسانوں کا طاقتور گروپ سوار ہے جسکا تمثیلی نام اسرائیل ہے اور وہی اسرائیل کبھی بھی یہ نہیں چاہتاہے کہ فلسطینی تعلیم یافتہ کہلائیں،یہی وجہ ہے کہ وہ پورے شدومد سے اس بات کی سعی کررہاہے کہ کسی بھی طرح فلسطین میں جہالت کو پھیلایا جائے اور اس کے لئے وہ بدترین سے بد ترین کام بھی کرنے پر آمادہ ہے۔اس سے بڑی بے شرمی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ فلسطینی نوخیزوں کو تعلیم وتربیت سے دور رکھنے کے لئے انکے ہاتھ میں قلم و کتاب دینے کے بجا ئے انہیں منشیات کا عادی بنارہاہے۔
’جمعیۃ الخیریہ الفلسطینیہ‘نے ’الاستقلال ‘کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا کہ القدس میں وزارت تعلیم وتربیت کی مستقل بے توجہی کی بناء پر ہزاروں نوخیز بچے منشیات کے عادی ہوتے جارہے ہیں،جوکہ انتہائی افسوسناک ہے ۔علاوہ ازیں اسرائیلی سٹی پلاننگ کمیشن کی منفی سرگرمیوں نے بھی فلسطینی والدین کو الگ تشویش میں ڈال رکھاہے جو کھلے عام منشیات کو فروغ دےرہاہے اور نوجوان سمیت نوخیز بچے منشیات کے دام میں پھنستے جارہے ہیں،تعلیم سے محروم کرنے کے اس اسرائیلی کھیل کا اصل مقصد فلسطین کو اخلاقی وعلمی سطح پرکھوکھلا کردیناہے۔اسرائیل کے اس مشن سے 12000وہ طلبہ وطالبات جنکی عمر ابھی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کی ہی ہوتی ہے ؛تعلیم کی سہولیات سے محروم ہو جاتے ہیں،اسی موسسہ نے استقلال کے انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ اب ابتدائی درجات میں ہر 100زیر تعلیم نوخیز ان ونو نہالان میںسے 50تعلیم سے دور ہوتے جارہے ہیںجو یقینا انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اوراس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ظلم پر بھی ہمیشہ کی طرح عالمی برادری خاموش ہے۔
مزید براں مرکز القدس برائے سماجی واقتصادی فاونڈیشن کے مدیرزیاد حموری نے صیہونی حکومت پر یہ الزام بھی لگایاہے کہ اوقاف اسلامی کی جانب سے چلنے والے اداروں کے خلاف روز افزوں سازشوں کی بناء پر مزید مسائل بڑھ رہے ہیں،خصوصاصیہو نی حکام تعلیمی معیار اور ضروری سہولیات کے بہانے اسکولی کاروائیوں پر حکم امتناعی لگاتے رہتے ہیں جس کی بناء پر کئی کئی دن اسکول بندرہتے ہیں اور پھراسے کھلوانے میںبڑی دقتیں پیش آتی ہیں۔
اس موقع پر یہ بھی واضح ہو جانا چاہئے کہ اس طرح کی بدترین صورتحال القدس شہر کے علاوہ فلسطین کے ان تما م علاقوں میںہے جو بدقسمتی سے اسرائیلی دراندازی کی مار جھیل رہے ہیں،اب جب کہ تعلیمی سال کی شروعات ہونے جارہی ہے عام طلبہ وطالبات میں کافی بے چینی پائی جارہی ہے،اسکول کی قلت،مناسب اساتذہ کافقدان،ذرائع تعلیم وتعلم کی عدم دستیابی اور امن وامان کانہ ہونا ان کے لئے مستقل مسئلہ بناہواہے،گذشتہ سال انہی ایام میں فلسطینی علاقوں میں کرفیوہونے کی بناء پر اسرائیل نے آلات وذرائع تعلیم کی نقل وحمل پر پابندی لگادی تھی ،متاثرین کے مطابق یہ صورتحال اب بھی برقرار ہے،پہلے کی طرح اب ان اشیاء کی دستیابی آسانی سے نہیں ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ بہت سے وہ طلبہ جو مہنگے ذرائع تعلیم کی خریداری نہیں کرسکتے وہ مجبورا یا تو اسکول چھوڑد یتے ہیں یاپڑھتے ہیں تو بے دلی سے پڑھتے ہیں ظاہر پڑھائی کے لئے جتنی چیزیں ضروری ہوتی ہیں اگر وہی موجود نہ ہو توکہاں کی پڑھائی اور کیسی پڑھائی ؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *