سندیپ پانڈے
p-11تعلیم کی اصلاح کے لئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو اتر پردیش سرکار ٹھینگا دکھا رہی ہے۔ اکھلیش یادو کی سرکار ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے۔18اگست 2015 کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ سرکاری تنخواہ پانے والے عوامی نمائندوں ، نوکر شاہوں،ججوں اور سرکار سے استفادہ کرنے والے لوگوں کے بچے لازمی طور سے سرکاری اسکولوں میں پڑھیں۔ اتر پردیش سرکار کو ہائی کورٹ کے حکم کے چھ ماہ بعد ہی اس کی تعمیل کے بارے میں رپورٹ دینی تھی،لیکن سرکار نے اس کی اندیکھی کر دی۔ جبکہ عدالت کے ذریعہ مجوزہ تعلیمی نظام سیشن 2016-17 سے لاگو ہو جانی چاہئے تھی۔ ظاہر ہے اکھلیش سرکار اس سمت میں ہائی کورٹ کے حکم کی اندیکھی کررہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے گزشتہ 8جون کو سوشلسٹ پارٹی (انڈیا) کے ایک وفد سے ملنے کے بعد بیسک ایجوکیشن سکریٹری کو ہائی کورٹ کے مذکورہ حکم کا تجزیہ کرنے کو کہا ہے ۔ یہ وزیر اعلیٰ کی جانکاری کی صورت حال کو دکھاتا ہے اور یہ بھی دکھاتاہے کہ وہ عدالت کے حکم کی تعمیل کو لے کر کتنے سنجیدہ ہیں۔ ایجوکیشن میں مساوات قائم کرنے کے لئے وہ آئین کو لاگو کرنے کے لئے سوشلسٹ پارٹی (انڈیا) مہم چلا رہی ہے۔ موجودہ وقت میں رائج غیر مساوی تعلیمی نصاب آنے والی نسلوں کے لئے ایک چنوتی ہے۔ تعلیمی نظام کو درست کئے بغیر مستقبل میں ہر ایک غریب خاندان کے بچے کو تعلیم فراہم نہیں ہوپائے گی۔ ہائی کورٹ نے سماج اور ریاست کو ٹھیک ہی سمت میں حکم دیا ہیکہ نوکرشاہوں ، عوامی نمائندوں اور ججوں کو اپنے بچوں کو سرکاری پرائمری اسکولوں میں پڑھانا چاہئے، جس سے تعلیمی معیار میں بہتری ہو جائے گی۔ یہ مہم، تعلیم کے پرائیویزیشن کے رخ کو بدلنے کے لئے ضروری ہے۔جبکہ سماج وادی پارٹی تعلیم میں پرائیویزیشن کو بڑھاوا دینے کی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔ یقینی ہے کہ سماج وادی پارٹی گڈ ایجوکیشن سسٹم کے نظریہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے اور ہائی کورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی کرنے میں اسے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہو رہی ہے۔ جبکہ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا جن کو سماج وادی پارٹی اپنا روحانی آئیڈیل مانتی ہے، کا مشہور نعرہ تھاکہ ’چاہے راشٹریہ کی ہو یا چپراسی کی سنتان ، سب کو تعلیم ایک سمان‘ظاہر ہے لوہیا مساوی تعلیمی نظام کے حامی تھے اور چاہتے تھے کہ امیر و غریب کے بچے ساتھ میں پڑھیں۔
وزیر اعلیٰ پرائیویٹ اسکولوں سے بہت متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پرائیویٹ اسکولوں کے اچھے اساتذہ کا ویڈیو بناکر وہ دور دراز کے اسکولوں تک پہنچائیں گے۔ لیکن سرکاری اسکولوں میں مقرر لاکھوں اساتذہ ،جو پرائیویٹ اسکولوں کے ٹیچر سے زیادہ اہل ہیں کا وہ چرمرائی تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہتے ۔ وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں کہ وہ مساوی نصاب تعلیم لاگو کریں گے، لیکن مساوی نظام تعلیم نہیں۔ وہ اس بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ امیر اور غریب کے بچے ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں جس کو لے کر اب ’ حق تعلیم ‘ میںبھی پروویژن ہے کہ 25فیصد تک غریب بچے امیر بچوں کے اسکولوں میں پڑھیں گے اور جسے ریاستی سرکار لاگو بھی کررہی ہے۔
گزشتہ سال جب لکھنو کے بیسک ایجوکیشن اتھارٹی نے شہر کے سب سے بڑے اسکول سٹی مانٹسیری میں 31بچوں کے داخلے کا حکم دے دیا اور اسکول نے بچوں کو داخلہ دینے سے منع کر دیا تو سرکار بے بس بن کر کھڑی رہی۔وہ تو اسکول کے مالک جگدیش گاندھی نے خود عدالت جانے کی بھول کی تو عدالت نے بالآخر 13بچوں کے داخلے کا حکم دیا۔ لیکن اکھلیش یادو اسے اپنی سرکار کی کامیابی مانتے ہیں۔چاہے تو وہ بغیر مقدمہ لڑے سختی سے اس حکم کی تعمیل کرا سکتے تھے۔یہ اسکول سرکار کے کئی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے چل رہا ہے۔
جس طرح نتیش کمار نے بہار میں شراب بندی لاگو کر کے غریبوں میں مقبولیت ھاصل کر لی ہے اسی طرح مذکورہ ہائی کورٹ کے حکم کو لاگو کر کے اکھیلش یادو چاہیں تو اتر پردیش کے غریبوں کے بیچ مقبولیت حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس فیصلے سے سرکاری پرائمری اسکولوں کا معیار بڑھے گا جس کا سیدھا فائدہ غریب کے بچوں کو ملے گا۔ جس طرح شراب بندی کو لاگو کرنا بہار کے لئے ایک مشکل فیصلہ تھا۔اسی طرح الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی مشکل ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن ایک بار اپنا من مضبوط کر کے جب نتیش کمار نے شراب بندی لاگو کر دی تو اس کا فائدہ عوام کو ملا۔ ایک تو غریب پریواروں میں پیسے کا غلط استعمال بند ہوا اور پہلے جو پیسہ شراب میں برباد ہوتا تھا وہ اب پریوار کی ضروری چیزوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اس سے پریواروں میں خوشی آئی۔ دوسرا پنچایتی انتخابات میں شراب نہ تقسیم ہونے کی وجہ سے امیدواروں کاانتخاب لڑنے کا خرچ کافی کم ہو گیا ۔
اسی طرح الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو لاگو کرنے سے جب سرکاری اسکولوں کا معیار سدھر جائے گا تو سبھی لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجیں گے اور اس سے بچوں کی پڑھائی خرچ کافی کم ہو جائے گا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ سبھی بچے پڑھنے جا پائیں گے جو کہ آج نہیں ہوپارہا ہے۔ہندوستان میں 60لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں اور غریب پریواروں کے 90 فیصد بچے جو پرائمری اسکول جاتے بھی ہیں تو کلاس چار تک پڑھنے کے بعد بھی وہ ناخواندہ ہی رہتے ہیں۔جب سرکاری اسکولوں کا معیار سدھر جائے گا اور تعلیم کی افادیت نظر آئے گی تب والدین بھی بچوں کو اسکول میں بھیجنے کے شائق ہوں گے ۔جب سرکار بہتر معیار کا سینٹرل اسکول اور نوودے اسکول چلا سکتی ہے تو اچھے پرائمری اسکول کیوں نہیں چلا سکتی؟اتر پردیش کی یہ آئی اے ایس آفیسر منستی ایس کی تعریف کی جانی چاہئے جوکہ دیگر متبادل ہوتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو سینٹرل اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ دیگر آئی اے ایس آفیسر ، عوامی نمائندوں اور ججوں کو منستی ایس سے سبق لینا چاہئے۔
ملک میں دو طرح کا تعلیمی نظام لاگو ہے۔ پیسے والے اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں بھیج رہے ہیں جہاں بڑی فیس لی جاتی ہے اور جہاں سے نکلنے کے بعد بچہ اعلیٰ تعلیم پوری کر کے کہیں نہ کہیں نوکری پا جاتاہے یا اپنا کچھ کام شروع کرسکتا ہے۔ جن کیپاس ان پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے کا پیسہ نہیں وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجنے کے لئے مجبور ہیں، جہاں بچوں کے مستبل کے ساتھ کھلواڑ ہو رہاہے۔ ان اسکولوں کے بچے آگے چل کر نقل کرکے امتحان دینے کو مجبور ہوتے ہیں۔ نتیجتاً یہ ہوتا ہے کہ کلاس آٹھ تک آتے آتے ہندوستان کے آدھے بچے اسکول سے باہر ہو جاتے ہیں یا تعلیم پوری ہونے پر بھی بے روزگار رہتے ہیں۔
ہندوستان کے سرکاری اسکولوں کو ٹھیک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سرکاری افسروں، عوامی نمائندوں اور ججوں کے بچے سرکاری اسکولو ں میں پڑھنے جائیں ۔ اس طبقہ کے بچوں کے جانے سے سرکاری اسکولوں کا نظام درست ہو جائے گا اور پھر غریب کے بچے کو بھی معیاری تعلیم مل پائے گی۔ دنیا میں جہاں بھی سبھی بچے تعلیم پاتے ہیں وہ سرکاری تعلیمی نظام اور مساوی تعلیمی نصاب اور پڑوس کے اسکول سے ہی ممکن ہوا ہے۔ چیف جسٹس سدھیر اگروال نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یو پی میں تین درجے کے اسکول ہیں۔ ایک امیر خاندانوں کے بچوں کے لئے۔ دوسرے درمیانی طبقہ کے لئے اور تیسرا عام انسان کے بچوں کے لئے، جن میں 90 فیصد آبادی کے بچے پڑھتے ہیں۔ پہلی دو درجوں کے اسکول پرائیویٹ ہاتھوں میں ہیں تو تیسریے درجے کے اسکول سرکاری کے کونسل کے ذریعہ چل رہاہے۔ کونسل کے ذریعہ چلائے جارہے اسکول خستہ حال ہیں اور یہاں معمولی سہولتیں بھی نہیں ہیں۔ کافی پیسہ خرچ کرنے کے بعد بھی یہ اسکول سدھر نہیں رہے ہیں کیونکہ انتظامیہ کو ان کے چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔سرکاری آفیسر اور ملازم اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھا رے ہیں اور سرکاری اسکولوں کے بارے میں انہیں کوئی فکر نہیں۔ سرکاری اسکول صرف سیاسی فائدے کے لئے چلائے جارہے ہیں۔ یہ اسکول اونچی سطح کی بد نظمی اور بد عنوانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ پڑھائی کی سطح بری طرح گر چکی ہے۔ اساتذہ کی تقرریوں کو سیاسی ووٹ بینک کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتاہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کم اہلیت والے لوگوں کی تقرری شکشا متر کے طور پر ہو گئی۔ اب ان شکشا متروں کی تقرری کی کوشش چل رہی ہے۔ تقرری کے دستوروں میں پھیر بدل کو لے کر چیف جسٹس نے خاصی سخت ریمارکس کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تقرری کے قانون کو اس طرح توڑا مروڑا گیا ہے کہ ایک طرف تعلیم کا معیار متاثر ہوا ہے تو دوسری طرف تمام مقدمہ بازی ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اساتذہ کی تقرری میں تاخیر ہوئی۔ اور عدالت پر غیر ضروری بوجھ بڑھا الگ سے۔
جو ان اسکولوں کو چلا رہے ہیں وہ قابل اساتذہ کا ا انتخاب کیوں نہیں کرتے تاکہ سرکاری اسکولوں کی سطح بھی ان اسکولوں جیسی ہو جائے جن میں ان کے خود کے بچے پڑھتے ہیں۔چونکہ نوکر شاہوں ،لیڈروں اور امیر لوگوں کے بچوں کو پڑھانے کے لئے دیگر متبادل کھلے ہیں ،اس لئے کسی کو بھی کونسل کے اسکولوں کے معیار کے بارے میں کوئی فکر نہیں ۔ عدالت کے فیصلے میں یوپی سرکار کے چیف سکریٹری کو حتمی حکم دیا گیا تھاکہ سرکاری ملازموں ، نیم سرکاری ملازموں،لوکل اکائیوں میں کام کرنے والے، نمائندوں، ججوں اور سرکاری فنڈ سے فائدہ حاصل کرنے والے افراد کے بچوں کو کونسل کے اسکولوں میں ہی پڑھنا چاہئے۔ فیصلے میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا میں سے جو اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں نہیں پڑھائے گا ا س پر جرمانہ کا بھی پروویژن ہو۔ جتنی فیس وہ اپنے بچے کو پڑھانے پر خرچ کر رہا ہے اتنی ہی رقم وہ سرکاری کھاتے میں جمع کرے۔ جس کا استعمال سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے میں کیا جائے۔ اس کے علاوہ سرکار سے فائدہ اٹھانے والے جو شخص اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں نہ پڑھائیں انہیں دیگر طریقوں سے بھی خمیازہ بھگتا پڑے ،جیسے انہیں کچھ دنوںکے لئے معطل یا تنخواہ سے محروم کیا جائے۔ سرکار کو پروویژن میں بدلوائو لاکر مذکورہ بالا درجے کے لوگوں کو اپنے بچوں کو سرکاری پرائمری اسکولوں میں پڑھنے کے لئے ہی مجبور کرنا چاہئے‘۔یہ کہہ کر عدالت نے اس دلیل کو ہی سرے سے خارج کر دیا کہ لوگوں کا اپنے بچوں کو اپنے من پسند اسکول میں پڑھانے کا حق ہے۔ سوشلسٹ پارٹی (انڈیا) تعلیم اور علاج کے سیکٹر میں سبھی پرائیویٹ اداروں کے سرکاری کرنے کے حق میں ہے۔جس سے سبھی شہریوں کو تعلیم اور علاج کا فائدہ مساوی طریقے سے اور مفت میں مل سکے۔ وقت گزرتا جارہا ہے اور اتر پردیش سرکار کے کان پر جون تک نہیں رینگ رہی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here