abhinandan-varthamans
پلوامہ حملے کے شہداء اور ونگ کمانڈر ابھینندن کے چہرہ کا بی جے پی لوک سبھا 2019 کے انتخابات میں پورا استعمال کرنا چاہتی تھی۔ بی جے پی کا پلان تھا اس واقعہ اور اس نام کا ریلی اور تقریروں کے علاوہ سوشل میڈیا پر جم کر استعمال کیا جائے، لیکن الیکشن کمیشن نے اس پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر اسمبلی اوم پرکاش شرما نے اپنے فیس بک پر ونگ کمانڈر ابھینندن وردمان کی تصویر شیئر کی تھی، جسے الیکشن کمیشن نے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کو یہ شکایت cVIGIL ایپ پر ملی تھی۔ بتا دیں کہ cVIGIL ایک اینڈرائڈ ایپ ہے جس کی مدد سے کوئی بھی عام شہری اپنی بات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھ سکتا ہے۔ یہ ایپ 2018 میں کرناٹک اسمبلی انتخابات کے وقت سامنے آئی تھی۔ اس شکایت کے بعد الیکشن کمیشن نے اس کے لیے فیس بک کو مطلع بھی کر دیا ہے۔
دہلی بی جے پی ممبر اسمبلی نے دو پوسٹر شیئر کئے تھے۔ ان دونوں پوسٹرس میں بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھینندن وردمان کی تصویر سمیت، پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کی تصویر بھی تھی۔ ایک پوسٹر میں لکھا تھا:’’مودی جی کے ذریعہ اتنے کم وقت میں بہادر ابھینندن کو واپس لانا بھارت کی بہت بڑی سفارتی جیت ہے۔‘‘ وہیں دوسرے پوسٹر میں لکھا تھا :’’ جھک گیا ہے پاکستان، لوٹ آیا ہے ملک کا ویر جوان‘‘
abhinandan-varthamans-1
الیکشن کمیشن کی جانب سے پہلے ہی سیاسی جماعتوں کو کہہ دیا گیا ہے کہ کوئی بھی پارٹی اپنے بینر، پوسٹر میں فوج یا فوج کے جوان کی تصویر کا استعمال نہ کریں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے نہ صرف فیس بک بلکہ ٹوئٹر کو بھی لوک سبھا انتخابات کے تحت کارروائی کرنے کو کہا گیا ہے، جس میں انتخابات سے متعلق مواد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹانے کی بات کہی گئی ہے۔
10 مارچ کو الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2019 کی تاریخوں کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد سے ہی ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا تھا۔
اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اپنے کئی سوشل میڈیا پوسٹ اور بینر۔پوسٹروں میں ونگ کمانڈر ابھینندن کی تصویر کا استعمال کر رہے ہیں، جس کے بعد سرکاری شکایت درج کی گئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here