دنیا میں ضرورت محبت ہے لیکن پھیلائی جا رہی ہے نفرت

Share Article

(محمود شام (کراچی
محبت پھیلتی ہے خوشبو کی طرح۔ دھیرے دھیرے ایک دل سے دوسرے دل تک۔ لیکن نفرت جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ جو کچھ راستے میں آتا ہے۔جلاتی چلی جاتی ہے۔ راکھ کرتی جاتی ہے۔ جب نفرت ایسے معاشروں کی طرف سے پھیلائی جارہی ہو جو تہذیب و تمدن کے دعویدار ہیں۔ علوم جدید کے علمبردار ہیں۔ زندگی کو آسان سے آسان کرنے کے لئے ٹکنالوجی ایجاد کرتے ہیں ۔ سب سے بڑی معیشتیں ہیں۔ تحقیق ، تعلیم ، تنویر جن کی علامات ہیں تو بہت حیرت ہوتی ہے کہ کیا ان کی تہذیب زوال پر آمادہ ہے یا یہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے۔ مسلمان آبادیوں ، تیسری دنیا کے ملکوں میں لوگوں کو منتقل کرکے اپنی ہی سر زمینوں میں ان کے ہاتھوں املاک تباہ کرائی جائیں۔ ان کی توجہ اپنے مسائل سے ہٹائی جائے پھر اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے جائیں۔ مجھے یہ دوسرا امکان زیادہ قوی نظر آتا ہے۔میں نے اس رسوائے زمانہ فلم کی کوئی جھلک نہیں دیکھی۔ لیکن جو کچھ سنا ہے۔ اس کے مطابق یہ کوئی معیاری فلم نہیں ہے۔نہ کہانی کے حوالے سے نہ ادا کاروں کی کارکردگی اور نہ ہی کسی اور اعتبار سے۔ اس فلم کی تیاری اور پھر اسے ہوا دینے کا مقصد مسلمانوں میں اشتعال پھیلانے کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں ۔عین اس وقت جب امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ جب مغرب وسطیٰ میں ’عرب بہار‘ کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ امریکہ کی سرپرستی میں آنے والے انقلاب ہی امریکہ مخالف ثابت ہورہے ہیں۔ امریکہ کیا چاہتا ہے۔ ایسے غیر اہم ہدایت کار اور ایسی غیر معیاری اور بے ہودہ فلم سے مسلم معاشرہ میں بے چینی کیوں پھیلارہا ہے۔یہاں امریکہ کے خلاف نفرت کو کیوں بھڑکارہا ہے۔ سی آئی اے یقینا اس سے کچھ دور رس نتائج حاصل کرنا چاہتی ہوگی۔ پاکستان میں بھی اس گستاخانہ فلم کے خلاف پوری قوم احتجاج کررہی ہے۔ جمعہ کو تو محبت رسول اپنے عروج پر تھی۔حکومت پاکستان بھی باقاعدہ تعطیل کا اعلان کرکے اس احتجاج کا حصہ بن گئی اور 21 ستمبر کو یوم عشق رسول قرار دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں تو یہ ایک اچھا اور دانشمندانہ اقدام ہے۔ مظاہروں کا رخ امریکہ اور فلمساز کے خلاف ہی ہونا چاہئے۔ حکومت اور عام کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہئے۔ پہلے بھی کئی بار مغرب کی طرف سے ایسی کوششیں ہو چکی ہیں بعد میں ان کے اصل مقاصد سامنے آتے رہے ہیں۔ اس نفرت کے خلاف اصل ضرورت اتحاد کی ہے۔ مسلمانوں کے اپنے درمیان کہ وہ ایک دوسرے کو کافر کہنے کا سلسلہ ختم کریں۔ مسلمان مسلمان کو ہلاک نہ کرے جو ہمارے ہاں ایک عرصے سے ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جو دوسرے مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ ان کا بھی اسی طرح احترام کیا جائے۔ موجودہ احتجاج میں پاکستان کے مختلف شہروں میں ایک اچھی بات دیکھنے میں آئی کہ ان احتجاجی جلسے جلوسوں میں ہندو ، عیسائی اور سکھ تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔ مغرب کی اس سازش کے خلاف مل کر احتجاج کیا۔
مسلمان آپس میں نفرتوں کی دیواریں گرا کر، تیسری دنیا کے ممالک متحد ہوکر مغرب کے مقاصد کو ناکام بناسکتے ہیں۔
با خدا دیوانہ باش و با محمدؐ ہوشیار
ہر مسلمان کے لئے اپنے پیارے نبیؐ کا تصور محبت، عقیدت، عظمت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ہر انسان کے لئے یہ ہوسکتا ہے اگر وہ اس عظیم ہستی کی سیرت، شخصیت اور تعلیمات کا مطالعہ کرے۔ کتنی صدیوں سے ان کی ذات مبارک کتنے علاقوں میں روشنی ، آزادی اور فلاح کا سرچشمہ بنی ہوئی ہے۔ دنیا کے بڑے حصے میں انسانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات ان کی تعلیمات سے ملی۔ جہالت کی رسمیں ختم ہوئیں۔ علم کے حصول کا دور دورہ ہوا۔ عورت کو برابری کا درجہ ملا۔ مغرب نے یہ بھی دیکھا کہ وہ جن رسولوں کو مانتے ہیں مسلمانوں نے ان کا کبھی مذاق نہیں اڑایا نہ توہین کی۔ وہ خود بائبل کی تضحیک کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کے بارے میں بھی توہین آمیز کتابیں لکھتے ہیں۔ عالم اسلام میں کبھی کوئی ایسی کتاب لکھی گئی نہ فلم بنائی گئی۔ مغرب کی طرف سے ہی ایسی نفرت انگیز کوششیں کی جاتی ہیں مغرب کے اسکالرز نے جب منفی اور غصیلی بنیادوں پر اسلامی تعلیمات کے بارے میں تنقید کی ہے تو مسلمانوں نے کبھی اشتعال کا اظہارنہیں کیا۔ مسلمان ملکوں اور تیسری دنیا کے لوگوں کو تحمل اور برداشت کے ساتھ ان مقاصد پر تحمل اور برداشت کے ساتھ ان مقاصد پر تحقیق کرنی چاہئے ۔ مغرب سے نفرت کے ایسے سلسلے کیوں شروع کیے جاتے ہیں اور ان کا صحیح جواب کیا ہونا چاہئے۔ میں کچھ دنوں سے اسلام آباد میں ہوں ۔ صحافیوں کی نئی نسل سے ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ بہت خوشی ہورہی ہے کہ نوجوان میڈیا کا حصہ بننے کے لئے بہت پر جوش ہیں۔ کچھ امیدوار مایوس کرتے ہیں لیکن زیادہ تر مستقبل کے روشن ہونے کی بشارت دیتے ہیں ۔یہ نوجوان محبت اوراتحاد چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں۔آپ تک بھی ان جذبات کو پہنچانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں نئی نسل چاہے وہ کراچی میں ہے ، سندھ سے متعلق ہے، پنجاب ، خیبر پختونخواہ ، بلوچستان، فاٹا، گلگت، بلتستان میں رہنے والے نوجوان سینئر صحافی سبھی پاکستان کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں اور پاکستان ہندوستان کے درمیان اخبارات کا تبادلہ چاہتے ہیں۔ آنے جانے میں آسانیاں دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ لہو نہیں بہانا چاہتے ۔نفرتوں کی دیواریں گرائی جانی چاہئیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *