ڈریس کوڈ: مطلب! کم سیاح، غریبی، بے روزگاری، بھکمری

Share Article

وسیم راشد
کشمیر میں سیاحت کے لئے آئے ٹورسٹ کے لئے ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے‘‘یہ مطالبہ ہے جماعت اسلامی کشمیر کا۔ گزشتہ ہفتہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کچھ نہ کچھ ایسے اہم واقعات ظہور پذیر ہوئے، جن میں ہر ایک پر قلم اٹھانے کو جی چاہتا ہے ۔چاہے وہ وارڈن کا معصوم بچی کو پیشاب پلانے کا واقعہ ہو یا پھر وارڈ بوائے کے ذریعہ آپریشن کرنے کا یا ایک ذہنی جسمانی طورپر معذور لڑکی کی عصمت دری کرکے اسے قتل کرنے کا ۔سبھی کو دیکھ اور سن کر انسانیت تو شرمندہ ہوتی ہی ہے، خود کو اپنی آنکھوںپر یقین نہیں آتا کہ ہم 21 ویں صدی میں جی رہے ہیں ۔وہ صدی جو انسان کو سائنس و ٹکنالوجی کی بدولت چاند، مریخ، مشتری کی سیر کراسکتی ہے، مگر ہم آج بھی سماجی طور پر نہایت جہالت بھری زندگی گزار رہے ہیں ۔ دل تو سبھی واقعات پر دکھتا ہے لیکن ان سب پر میڈیا اتنے دن کھیلتا رہا کہ اب ان کو بیان کرنے یا ان پر بات کرنے کو بھی جی نہیں چاہ رہا ہے۔ لیکن انہیں میں ایک مسئلہ جو کشمیر میں سیاحوں کے لئے ’ڈریس کوڈ‘ کا سامنے آیا، اس پر ضرور ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔کشمیر ایک ایسی ریاست ہے جسے کبھی پنپنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ انگریز جاتے جاتے وہ ہڈی چھوڑ گئے جس پرہند وپاک لڑتے رہے۔ سیاست اپنا کھیل کھیلتی رہی، مگر اسی بد نصیب ریاست کو کبھی بھی ترقی کے راستے پر پوری طرح چلنے نہیں دیا گیا ۔وہ کشمیر جسے دنیا کی جنت کہا جاتاہے۔ اس جنت میں بم کے گولے اور بندوق کی آوازیں اسے جہنم بناتی رہیں اور ایک عرصے تک کشمیر کا نام صرف اور صرف دہشت گردی،کرفیو، فساد کے طورپر لیا جاتا رہا۔ وہاں کے نوجوان روزی روٹی کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔وہاں کی لڑکیاں غربت کی بدولت گھر وں میں بیٹھی رہیں اور غریب مزدوروں کی آنکھیں سیاحوں کے انتظار میں ڈوبی رہیں کہ کب جنت نظیر خطے کو جہنم نظیری سے نجات ملے اور کب اس ریاست کی تقدیر کھلے اور اب 3,2 سال سے کشمیر میں حالات تھوڑے بہتر ہونا شروع ہوئے ہیں۔ اب جاکر پھر سے ہندوستان اور باہر کے ممالک کے لوگ اس خطہ کے بے پناہ حسن سے محظوظ ہونے کے لئے اس کا رخ کر رہے ہیں ۔ ایسے میں جماعت اسلامی کشمیر کا یہ بیان کہ ’ڈریس کوڈ‘ نافذ کیا جائے ،غیر دانشمندانہ بیان ہے ۔ اب جاکر جب وہاں سیاحت اپنے شباب پر آنی شروع ہوئی ہے، اب جبکہ وہاں کے غریبوں مزدوروں ، نوجوانوں کو سیاحت کی بدولت کام ملنا شروع ہوا ہے، ایسے میں ڈریس کوڈ کی بات کرنا،پھر سے ایک نیا شوشہ چھوڑنے کے مترادف ہے۔ ڈریس کوڈ کس لئے؟ صرف اس لئے کہ یہ ہندوستان ہے ۔ اس کی اپنی ایک تہذیب ہے ،تمدن ہے ۔مگر ہر ملک کی ہر ریاست کی ہر خطہ کی اپنی تہذیب اپنا تمدن اپنی زبان اپنا رسم الخط ہوتا ہے۔ تہذیبیں دلوں کو جوڑنے کے لئے ہوتی ہیں۔ایک دوسرے کے لباس سے تہذیبیں نہیں جڑتیں۔ ہندوستان مختلف مذاہب کا گہوارہ ہے ۔ نہ تو کوئی مسلم ملک ہے نہ ہی ہندو، سکھ ،عیسائی بلکہ یہاں سبھی اپنی اپنی تہذیبیں ، لباس اور زبان و ادب سے اسی ملک کو ایک گلدستہ کی طرح سجائے ہوئے ہیں۔ آپ جب لندن ، ،امریکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے جاتے ہیں توکیا ان ممالک کے لوگ آپ کی شرعی داڑھی یا ٹوپی یا شرعی پاجامہ پر اعتراض کرتے ہیں ؟اگر امریکی ایئر پورٹ پر آپ کو صرف داڑھی اور کرتا پاجامہ کی وجہ سے روک دیا جاتا ہے تو آپ پوری دنیا میں ہنگامہ کھڑ اکردیتے ہیں اور آپ کی بات صحیح مانی جاتی ہے اور پوری دنیا آپ کے ساتھ ہو جاتی ہے ۔مگر یہی غیر ملکی لوگ جب آپ کے ملک آتے ہیں تو وہ خود یہاں کی مشرقیت کا دھیان رکھتے ہیں ۔ہم نے خود انگریز عورتوں کو گھانگرا چولی، جینز، کرتا اور اسکارف اوڑھے دیکھا ہے۔ کشمیر میں بھی سیاح پوری طرح اسی بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کس طرح کے کپڑے پہنیں ۔ آپ ان پر ’ڈریس کوڈ‘ لگا کر صرف اور صرف سیاحت ختم کریںگے اور کچھ نہیں۔ آج جب کشمیر میں سیاحت بڑھی ہے تو ڈل جھیل سے لے کر بڑے بڑے ہوٹلوں میں رونق لوٹ آئی ہے۔ گھوڑے والے، ٹھیلے والے، بے روزگار نوجوان، کوچوان ، ڈھابے والے ،پھل والے، اور کپڑے و میوہ جات کے دکاندار اور سبھی خوش ہیں اور یہی سیزن ان کو پورے سال کی روزی روٹی فراہم کرتاہے۔ مگر ڈریس کوڈ کے نفاذ سے یقینا پوری دنیا میں غلط میسیج جائے گا۔ بے شک جماعت اسلامی کشمیر کا مقصد اس کوڈ سے اسلامی ڈریس نہیں ہے مگر کوئی بھی ڈریس کو نافذ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ ایک بات اور کہ کسی بھی گھومنے پھرنے کی جگہ پر زیادہ تر نوجوان لڑکے لڑکیاں ماڈرن اور آرام دہ ڈریس پہن کر جانا پسند کرتے ہیں،چاہے وہ کسی بھی ملک کے ہوں ۔ خود ہندوستان کی لڑکیاں کون سی کم ہیں ۔چینلز پر جو تہذیب و ثقافت کی دھجیاں بکھر رہی ہیں ،ان کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ نوجوان نسل کی بات کریں تو 14,13 سال کے بچے آج کل وہ سب جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے ۔موبائل پر وہ چیزیں ڈائون لوڈ کرکے دیکھ لیتے ہیں جو ہم ایک نظر دیکھنے میں بھی شرم محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں پہلے اپنے ملک کی تہذیب و ثقافت کو بچانا ہوگا۔
کشمیر میں 2011 میں 13 لاکھ سیاح آئے تھے لیکن اس مطالبے کے بعد سیاحوں کی آمد کم ہوجائے گی ،جس کا اثر ان کی معیشت پر پڑنا یقینی ہوجائے گا۔ یہی نہیں اس سے ریاست کو بھاری مالی خسارہ بھی اٹھانا پڑسکتاہے۔ ریاستی سرکار نے اسرائیلی سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے ایک روڈ شو کا منصوبہ بنایا تھا ۔تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح کشمیر آئیں، جس سے ریاست کو اقتصادی فائدہ ہو، مگر اس بیان کے بعد ریاست کا یہ روڈ شو فلاپ ہو سکتاہے۔ اورریاستی سرکار کے خزانے کو جو مالی فائدہ ہونے کا امکان پیدا ہوا تھا،وہ ختم ہوسکتاہے۔ مختصر لباس کے خلاف جماعت اسلامی کے اس بیان کے بعد مغرب کا جو رد عمل سامنے آیا ہے، اس سلسلے میں مبصرین نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر مختصر لباس پہننے پر پابندی لگادی گئی تو کشمیر سعودی عرب سے کچھ کم سخت رویے کا حامل مقام بن کر رہ جائے گا۔ کوئی سیاح جب کسی ملک کی سیاحت کے لئے نکلتا ہے تو اسے اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ وہاں کی تہذیب و روایت کیا ہے ،لیکن پھر بھی ہندوستانی تہذیب کاسبھی ممالک احترام کرتے ہیں ۔ان کوخود اس کا احترام کرکے آنے دیجئے۔
بہت ہی تلخ بات ہے لیکن کہنی پڑتی ہے کہ مسلمانوں کے نام نہاد بڑے بڑے ادارے چاہے جمعیۃ علماء ہند ہو، جماعت اسلامی ہندہو ،مسلم پرسنل لاء بورڈ ہو،کسی بھی جماعت نے ہم مسلمانوں کی بنیادی ضروریات کی طرف کبھی دھیان نہیں دیا۔ مسلمانوں کی بنیادی ضرورت تعلیم ہے ۔کتنے اسکول کالج ان اداروں کی طرف سے قائم کئے گئے ہیں ۔ کتنی یونیورسٹیاں بنائی گئی ہیں ۔ کشمیر میں کتنے اسکول اور کالج ہیں۔ کشمیر کے نوجوان جو دہشت گردی کے نام پر جیلوں میں بند ہیں، ان کے لئے ان جماعتوں نے کیا کیا ہے۔ ہمیں بس اتنا کہناہے کہ مسلمانوں کو اس وقت نہ گجرات فساد سے کوئی مطلب ہے ،نہ بابری مسجد سے ،نہ میرٹھ ملیانہ فساد کی تلخ یادو کو رکھنا چاہتے ہیں ۔وہ صرف اور صرف 3 چیزیں چاہتے ہیں اور یہی تین چیزیں ان کی بنیادی ضرورتہیں ۔ تعلیم ، روزگار اور ترقی کے مواقع۔کشمیری عوام کو اب سکھ چین نصیب ہوا ہے ۔اب انہیں اپنی نسلوں کو سدھارنے اور ان کے لئے کچھ اقتصادی حالات بہتر کرنے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں تو انہیں حاصل کرنے دیجئے ، تاکہ وہ اپنی نسلوں کو سدھار سکیں ۔لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا نہ بننے دیں، تو اچھا ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *