آب و ہوا اور ادویات کے باہمی تعلق پر پروفیسر ڈاکٹر سید ضیاء الرحمٰن کا خطاب

Share Article
Dr-Syed-Ziaur-Rahman
جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے فارماکولوجی شعبہ کے پروفیسر ڈاکٹر سید ضیاء الرحمٰن نے راج شری میڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بریلی میں ’میڈیکل و ہیلتھ سائنسز میں تحقیق و اختراعات ‘ موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس میں ’انوائرمنٹل فارماکو وجیلنس‘ کے موضوع پر خصوصی خطبہ دیا۔ ڈاکٹر رحمٰن نے اپنے خطاب میں انسانوں و مویشیوں کے لئے تیار ہونے والی دواؤں کے ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کو بیان کیا۔ انھوں نے بتایا کہ کس طرح زیادہ ادویاتی پیداوار سے مویشیوں کی بے شمار نسلوں اور پودوں کا خاتمہ ہورہا ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا سے بارش والے جنگلات غائب ہوتے جارہے ہیں، جس سے کرّۂ ارض کی آب و ہوا میں بھی تبدیلی ہورہی ہے اور زندگی کو خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ماحولیات اور آب و ہوا کے میدان میں نت نئی تحقیق سے ماحولیات پر دواؤں کے منفی اثرات کا پتہ چل رہا ہے۔

 

پروفیسر ضیاء الرحمٰن نے کہاکہ ادویہ اور ماحولیات ، ٹاکسِن اور ماحولیات ، اور جِین و ماحولیات کے درمیان باہمی تعلق کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لئے مسلسل تحقیق کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں ماحولیاتی سائنسز اور میڈیکل برادری کے درمیان علمی اشتراک کو فروغ دینا ہوگا۔ انسانوں اور مویشیوں کی دواؤں کے متعدد منفی اثرات بیان کرتے ہوئے پروفیسر ضیاء الرحمٰن نے فارماکو اِنوائرمنٹولوجسٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر ضیاء الرحمٰن نے ریسرچ میتھاڈولوجی پر بھی ایک خطبہ دیا اور ریفرنس اسٹائل اور دیگر متعلقہ امور سے شرکاء کو آگاہ کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *