ڈاکٹر محمد مرسی کی وفات پرجماعت اسلامی نے کیا تعزیتی جلسہ

Share Article

 

مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی وفات پرپورے عالم اسلامی پر رنج و غم کا بادل چھائے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند، اے ایم یویونٹ کی جانب سے ایک تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔

 

تعزیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اشہد جمال ندوی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد مرسی ایک مجاہد تھے۔ حافظ قرآن اور عالم دین تھے۔ انھوں نے مصر میں ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کا کام انجام دیا تھا۔ مولانا اشہد جمال نے مصری حکومت کے ظلم و جبر کا کہا کہ محمد مرسی کو ان کی گرفتاری کے دوران پانچ سال سے زیادہ عرصہ قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ انھیں ادویات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں بری خوراک فراہم کی گئی۔ انھیں ڈاکٹروں اور وکلاء سے ملنے نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ انھیں ان کے خاندان سے بات چیت بھی نہیں کرنے دی گئی۔ انھیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا۔

 

اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم خاں نے کہا کہ حرم کی پاسبانی کا دعویٰ کرنے والوں نے ہمیشہ اسلامی شعائر کی آبیاری اور ان کو زندہ رکھنے والے لوگوں کو چن چن کر ختم کرنے کام کیا ہے اور کررہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی نے مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جب سے قائم ہوئی ہمیشہ اسلام پسندوں کو پسند نہیں کیا گیا، جس نے بھی اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ انجام دینے کی کوشش کی۔ شعائر اسلام زندہ و جاری کرنے کی کوشش دشمنانِ اسلام نے ہمیشہ ان کی کوششوں کو ختم کرتے ہوئے ان کے وجودکو ختم کیا۔

 

مدرسۃ العلوم علی گڑھ کے مہتمم ڈاکٹر طارق ایوبی نے ڈاکٹر محمد مرسی کی شہادت پر اپنے کرب و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہ مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی صرف ایک سیاست داں نہیں بلکہ پہلے وہ ایک مومن تھے۔ ایک حافظ تھے، ایک عالم تھے ایک مفکر تھے ایک رہنما تھے ایک زاہد تھے ایک عابد تھے اور ایک مرد مجاہد تھے۔ ان کا انتقال بلکہ ان کی شہادت راہ ِعظیم کی علامت بن گئی۔ ان کا انتقال عزم و حوصلے کا نشان بن گیا، ان کا انتقال در حقیقت اس حقیقت کو زندہ کرگیا کہ ’’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘، انھوں نے کہا کہ محمد المرسی کی زندگی کے اوصاف سے سبق لینے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر طارق ایوبی نے محمد مرسی کے ایمانی جذبہ اور شوق شہادت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں بہت سے اسلامی اصول و تعلیمات کا دعویٰ کرنے والے مصلحت پسندی کا شکار ہو کر اپنی بات علی الاعلان نہیںکہہ پاتے اور سیکولر بننے کی وجہ سے انصاف اور حق سے منہ پھیر لیتے ہیں۔آخر میں شہید معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جس میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *