جس زبان کا رزق سے تعلق نہ ہو وہ کسی بھی وقت معدوم ہو سکتی ہے: ڈاکٹر خالد حسین خان

مغربی یوپی کے ممتاز اور سب سے قدیم میرٹھ کالج (میرٹھ یونیورسٹی) کے شعبۂ اردو سے وابستہ ڈاکٹر خالد حسین خاں کا نام ادبی دنیا کے لیے محتاج تعارف نہیں۔ موصوف ایک لمبے عرصے سے درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ’مرزا فرحت اللہ بیگ، شخصیت اور کارنامے؛ بی۔ ایس۔ جین جوہرؔ : فن اور شخصیت؛ دلکش تحریریں؛ معیار و میزان؛ ساز و مضراب؛ خواب و خیال‘ جیسی تنقیدی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ چوتھی دنیا انٹرنیشنل اردو ویکلی کی ایڈیٹر وسیم راشد نے ڈاکٹر خالد حسین خاں صاحب سے ایک ملاقات کے دوران ان کی حیات و خدمات اور ادب و صحافت سے متعلق ان کے نظریات جاننے کی کوشش کی۔ بات چیت کے اہم اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔
سوال:ڈاکٹرخالدصاحب آپ اپنی پیدائش اور تعلیم کے بارے میں ہمیںکچھ بتائیں؟
جواب: میری ولادت یوپی کے مردم خیز خطۂ ارض، پٹھانوں کی قدیم بستی ضلع شاہجہانپور میں 25 نومبر،1952 کو ہوئی۔ اس جہانِ آب وگل میں، آنکھیں کھولنے کے بعد عہد طفلی میں والد محترم الحاج قاری حافظ اور فاضل علوم مشرقیہ حمیداللہ خاں صاحب مہمندی اور والدۂ ماجدہ کے زیرسایہ حرف و صوت سے شناسائی ہوئی، بسم اللہ کی مبارک و مسعود اسلامی رسم کے معاً بعد والد محترم اپنے ہمراہ شاہجہانپور سے کلکتہ لے گئے جہاں وہ مرکزی حکومت میں برسرکارتھے اور کلکتہ ریڈیو اسٹیشن سے ہفتہ میں دوبار ان کی تلاوت کلام پاک بھی نشر ہوتی تھی، جس کا سلسلہ غالباً 1955میں ہندوستانی حکومت کی جانب سے منقطع کردیاگیا تھا۔ بہرنوع: اولاً والد بزرگوار کی زیرسرپرستی وزیرنگرانی ناظرہ سے شرف یاب ہوا، اس کے بعد حفظ کلام ربانی کی سعادت سے سرفراز ہوا۔ حفظ کے بعد والد مرحوم نے فن تجوید، رموز اوقات اور قرأت کی دولت بے بہا سے مکمل عرفان و آگہی دی۔ والد بزرگوار کی شفقتوں، عنایتوں اور نوازشوں میں مگن، علم کا متلاشی ذہن، علم دین کے ساتھ ساتھ علوم دنیوی کا بھی ہمیشہ جویارہا۔ دوران حفظ مجھے مصوری کا چسکا بھی پڑگیاتھا، اس کی بھنک اور میری مصوری سے مزین مہوشوں کے فوٹوئوں کی جھلک، والد مرحوم نے دیکھ کر نیز میری پوشیدہ رجحان مصوری کی پہچان وپرکھ کے بعد، میرا ذوق مصوری، فن خطاطی کی جانب دانشمندی سے اس طرح منتقل کردیا کہ میں زندہ افراد، جاندار حیوانات اورنازک اندام پری جمال حسینائوں کی تصویر کشی کے برخلاف، فن خطاطی کے قوسوں، دائروں، محرابوں میں اپنی مہارت، ندرت اور جدت طرازی میں مصروف ہوگیا۔دو برس کلکتہ کے صف اول کے خطاط و کاتب قاری محمد ابراہیم جونپوری صاحب جو میرے والد محترم کے فن قرأت و تجوید کے شاگرد رشید تھے، میری راہ نمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
کلکتہ کے 1964کے ہندومسلم فساد کے نتیجہ میں والد مرحوم کا مکان، دکان، کتب خانہ اورجملہ اثاثۂ زیست، شرپسندوں، بلوائیوں، فسادیوں اور پولس نے آگ کی نذر کردیے، بحمدللّٰلہ، مکین سلامت رہے۔ بہرکیف1964کے اس بدترین مسلم کش فساد سے بد دل و بد حظ ہوکروالدمرحوم کلکتہ سے ہم لوگوں کو لے کر اپنے موروثی وطن شاہجہانپور واپس آگئے۔
شاہجہانپور میں 1965میں سب سے پہلے مدرسہ فیض عام میں داخلہ لے کرعربی، فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران عربی اور فارسی بورڈ الہ آباد کے مولوی (عربی) اور منشی وکامل (فارسی) کے امتحانات بھی امتیازی حیثیت سے کامیاب کیے اسی کے ساتھ ساتھ جامعہ اردو علیگڑھ کے امتحانات مثلاًماہر، کامل بھی درجہ اول اور امتیاز کے ساتھ پاس کرلیے۔
جی ایف کالج شاہجہاپور سے 1970میں انٹرمیڈیٹ، 1972 میں بی اے کے بعد بریلی کالج (آگرہ یونیورسٹی) سے 1974 میں ایم اے اردو، ریگولراول پوزیشن سے پاس کیا۔ پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کے مراحل میرٹھ یونیورسٹی سے سرکیے۔
سوال: وہ کیا محرکات تھے جنہوںنے آپ کو ادب کی طرف راغب کیا؟
جواب:تقریر وتبلیغ اورقرآن وقرأت مجھے ورثہ میںملے تھے۔ عہد طفلی سے ہی اپنے والد مرحوم کے ہمراہ میلاد و عظ اور تقریری و تبلیغی مجلسوں، محفلوں اور تقریبوں میں شریک ہوتا تھا۔ جیسا میں نے پہلے عرض کیا کہ میرے بچپن اوراس کے بعدکا بیشتر حصہ کلکتہ میں گزرا، میری پرورش وپرداخت ایک قدامت پسند مذہبی، علمی اوراخلاقی ماحول میںہوئی۔ میرے والد محترم قرآن و حدیث، مذہبی کتب اور سنی مسلک کے علاوہ دیگر مسالک مثلاًوہابی، دیوبندی، شیعہ اور قادیانی مقرروں اور مبلغوں سے برابر تقریری معرکہ آریوں میں بھی حصہ لیتے رہتے تھے اس لیے ان کی ادبی، مذہبی، مسلکی اور تحریری و تقریری سرگرمیوں کا راست اثر میرے قلب و ذہن اور شعور وشعار پر پڑا اور میں ان محرکات کے سبب ہی میدان ادب کی جانب راغب ہوا۔ اس دور کے ادب اطفال کے اہم رسائل مثلاً کھلونا، کلیان، پھلواری، پیام تعلیم، ٹافی اور غنچہ وغیرہ کے مطالعے سے میرے ذہن میں وسیع النظری اور قلمی و تحریری امنگ و ترنگ پیدا ہوئی۔ اس کے علاوہ میرے کلکتہ کے دو دوست اور ہم جماعت پرویز معیض اور جاوید معیض کے حقیقی خالو پرویز شاہدی مرحوم تھے، جن سے تمام اردو دنیا واقف ہے۔ میرا ن لوگوں سے خاصا یارانہ تھا اور میں پرویز شاہدی (مرحوم) کے گھر بلاتکلف اور بغیر روک ٹوک اپنے دوستوں کی ہمراہ تقریباً روزانہ جایاکرتاتھا، وہاں کے ادبی و شعری اور سیاسی ماحول نے بھی مجھے کسی حدتک ادب کی طرف مہمیز کیا۔ اس دور میں میری اولین تحریر، کلکتہ کے ایک ادبی میگزین میں ’’شمشیر وقلم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی تاہم عرصہ بیتنے کے بعد اس جریدہ کانام، ذہن سے محوہوگیا ہے۔
سوال: آپ نے تنقید کی طرف ہی کیوںتوجہ دی؟
جواب: تنقیدکی طرف میں نے توجہ نہیں دی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تنقید نے ہی مجھے اپنی طرف بے محابامائل ومتوجہ کیا۔ دوران تعلیم اور مطالعہ ومشاہدہ کے بنظر عمیق تجزیہ کے بعد میں نے یہ محسوس کیا کہ اردو کے اکثر ناقد، غیرجانبدارانہ رویہ و رجحان کے برخلاف، کسی ازم، گروہ، طبقہ، دبستان یا اپنے ہم خیال و ہم نوا قلمکاروں کی تحسین شناسی میں بے جاطورپر رطب اللسان رہتے ہیں۔ا سی کے ساتھ ساتھ میں نے یہ بھی دیکھا، محسوس کیا اور پڑھا بھی کہ اکثر ناقدوں کے یہاں شدت پسندی، تخریب کاری اور پیروی مغرب کی بے جا حمایت وپاسداری، ان کی تنقیدی تحریروں میں شدومد سے جاری ہے۔ دراصل ہندوستان اور پاکستان میں چونکہ بیشتر ناقدذاتی سطح پر وجدانی اور حسیاتی انداز واسلوب میں کسی تخلیق کار کے فن پارے کو پورے طورپر پڑھے بغیر بلکہ اکثر دیکھے بغیر کوئی فیصلہ صادر کردیتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ معاملہ و مرحلہ فن تنقید کے بنیادی اصول وضوابط کے نقطۂ نظر سے بالکل غلط اور غیرذمہ دارانہ کام بھی ہے۔ اس کے علاوہ میں نے ابتدائے ہوش و گوش سے ہی احتشام حسین، آل حمدسرور، کلیم الدین احمد، مسعودحسن رضوی ادیب، حنیف نقوی، رشیدحسن خاں، اخترتلہری، شمس الرحمن فاروقی، وزیرآغا، گوپی چند نارنگ، محمد حسن، جگن ناتھ آزاد، قاضی عبدالودود، عبادت بریلوی، حسن عسکری، مجنوں گورکھپوری، مشفق خواجہ، امتیاز علی عرشی وغیرہ کی تحریروں کو پوری توجہ، سنجیدگی سے پڑھا اور معیار ومیزان کی کسوٹی پر ان کی نگارشات کے حسن و قبح اور خوب وزشت کو پرکھا بھی۔ ان اکابرین کے اسلوب رنگا رنگ کے گہرے اثرات بھی میرے ذہن میں شروع سے مرتسم ہوئے۔
سوال: ادب کے ساتھ تنقیدکا کیا تعلق ہے؟
جواب: ادب کے ساتھ تنقید کا وہی تعلق ہے جوادب کا ہماری زندگی وزمانہ سے ہے، یعنی جس طرح ادب ہماری زندگی کا عکاس بھی ہے، رفتار واطوار شناس بھی ہے اور زندگی وزمانہ کی عصری حقیقتوں کاغماز بھی ہے۔ اسی طرح تنقیدبھی ہمارے ادب کی مرقع نگار بھی ہے اور سمت ورفتار کی روشناس بھی ہے اور ادب کی صحیح صورت حال کی نباض بھی ہے۔
اس کو یوں بھی سمجھاجاسکتاہے کہ تنقید، ادب کی تفسیر بھی ہے، تعبیر بھی ہے اور توضیح بھی۔ تنقیدکے بغیر ادب وتخلیق میں بے راہ روی اور بے سمتی پیداہوجانے کا از حد خطرہ و خدشہ بھی لاحق ہوسکتاہے تاہم یہ امر ملحوظ رہے کہ ناقد کاایماندار، غیرجانبدار اور وسیع النظر اور گداز قلب ہونا بھی ضروری ہے ورنہ وہ ادبی ناقد کے برخلاف نقارچی یا ناصح کا فریضہ اداکرے گا۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ تنقید اور ادب میں چولی دامن جیسا رشتہ و رابطہ ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
سوال : آج کی اردو شاعری سے کیا آپ مطمئن ہیں؟
جواب: آگہی کے لیے عرض ہے کہ شاعری دراصل انسان کی مادری زبان ہے۔ اس لیے کہ جب ادب کا سکہ معرض وجود میں آیا تو اس کے اولین رخ پر شاعری کا ہی چہرۂ دل نشیں کندہ کیا گیا تھا۔ شاعری سے کرۂ ارض کا کوئی بھی دور، عہد اور زمانہ خالی نہیں رہا اورنہ ہی اس دنیا کا کوئی ذی روح اس کے وجدو وفور سے عاری رہا۔ اس سیاق کے مدنظر، عصر جدید کی اردو شاعری اپنے ادبی، علمی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار ومعیار پر یقینا کھری نہیں اترتی۔ اس میں سیاست، دولت جوڑ توڑ تعلقات اور مافیائوں کے علاوہ متشاعر ومتشاعرات کے سبب، گرواٹ اور تنزلی میں بتدریج اضافہ ہورہاہے۔ مذکورہ وجوہ کے تحت میں آج کی اردو شاعری سے مطمئن نہیں ہوں۔ گرچہ چند باشعور اور دانشور شعراء کے یہاں عصری حقائق اور زمینی کوائف سے معمور شاعری بھی سپردقلم کی جارہی ہے۔ لیکن اس قبیل کے شاعر انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جن کے یہاں دین و دنیا دونوں کی مرقع نگاری ہے۔
سوال: کیا مشاعرے زبان وادب کے فروغ میں کوئی کردار اداکرتے ہیں؟
جواب:مشاعرے، زبان وادب، تہذیب وثقافت کے سب سے مستحکم و مضبوط نیز گوناگوں جہات وابعاد کے فرائض ادا کرنے کے ادارے کہے جاسکتے ہیں۔ مشاعرے کا ایک اہم مقصد و منصب، معاشرے کی اصلاح، ترویج اخلاق اور تربیت دینا بھی ہے۔ چونکہ اردو شعروادب نے اپنی آنکھیں خانقاہوں میں کھولیں اورصوفیوں کی انگلی پکڑ کر اس نے چلنا سیکھا۔ اس کے علاوہ درباروں اور بازاروں نے بھی مشاعرے کی روایات کو پروان چڑھانے میں اہم کردار اداکیا ہے۔ عصر حاضر میں گرچہ درباروں کی جگہ ایوانوں اورانجمنوںنے مشاعرے کی سرپرستی اور برقراری کو برقرار رکھاہے البتہ عہد قدیم کے مشاعروں اورآج کے ماڈرن مشاعرہ میں بنیادی فرق یہ آگیا ہے کہ پہلے مشاعرے حاضرین اور سامعین کی تربیت و تہذیب کا فریضہ انجام دیتے تھے مگر آج عوام مشاعرے سننے نہیں، دیکھنے اور سطحی لذت و جنسی لطافت حاصل کرنے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ آج مشاعرے کے معیار و وقار میں بھی کمی آئی ہے یعنی ہر ایرا غیر انتھوخیرا،دولت و شہرت کی خاطر شاعر بننے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کررہاہے جو ناقابل بیان ہے۔ مزید برآں، آج بحر سے خارج اور غلطیوں سے پر اشعار کہنے والے پیشہ ورمتشاعر اور متشاعرات کی فوج ظفر موج منظر عام پر آگئی ہے جو صرف آواز، اداکاری، جوبن اور جنسی حرکات و سکنات کے بل بوتے مشاعروں میں سستی شہرت اور عوامی مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔
سوال: آپ کا واسطہ اردو کے طالب علموں سے ہے۔ ان کے بارے میں عمومی رائے کیاہے؟
جواب:ہمارے اردو طلبا کسی مقصد، منصوبہ، ہدف اور لائحہ عمل کے مطابق سخت محنت، مشورت، اورسنجیدہ جدوجہد نہیں کرتے، نصابی کتب کی زیارت سے محروم رہتے ہیں۔ صرف بازاری ’’کی نوٹس‘‘(Key Notes) اور فرسودہ کلاس نوٹس (Class Notes) پر کاربند رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سالوں کے امتحانی سوالوں کے پرچہ پر تکیہ کرتے ہیں۔ ان کا مطمح نظر صرف امتحان میں کامیاب ہونا ہوتاہے۔ البتہ، خوش بختی سے کبھی کبھی مستثنیاتی طورپر چند طلبا ایسے بھی میسر آجاتے ہیں جو نصاب کے علاوہ دیگر معیاری معاون کتب کا مطالعہ بھی سنجیدگی و سچائی سے کرتے ہیں اور منصوبہ بند طریقے سے وہ اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بے طرح اور بے نہایت محنت و مشق بھی کرتے ہیں۔
سوال: کیا مروجہ نصاب سے آپ مطمئن ہیں؟
جواب:آج کے مروجہ نصاب اردو سے میں مطمئن اور متفق نہیں ہوں، چونکہ نصف صدی سے وہی شاعر و ادیب، ناقدومحقق شامل نصاب چلے آرہے ہیں۔ جدید سائنسی نظریات، عصری مسائل ومعاملات اور نئے قلمکاروں کو آج بھی پوری طرح نصاب میں شمولیت نہیں ملی ہے۔ اس لیے میرے خیال میںنصاب نامکمل (ادھورا) اور پوری طرح کارآمد نہیں ہے۔ آج کی اہم اور بنیادی ضرورت یہ ہے کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (U.G.C) کے زیرنگرانی،ا ردو کے معمروممتاز، بے لوث وبے داغ، غیرجانبدار اورعصری ومغربی علوم سے شناسااساتذہ کے زیرسرپرستی، تمام ملک میں یکساں، معیاری اور ایسا نصاب ترتیب دیا جائے کہ جو نہ صرف طلبائے اردو کے ذہن، ذوق اور ظرف کو کشادگی، علمی بصیرت فراہم کرے بلکہ ان کی معاشی، معاشرتی، تہذیبی، اخلاقی، بطور خاص ان کی روزی روٹی کے حصول میں بھی بھرپور معاونت کرے۔
سوال: کیا آپ اردو صحافت سے مطمئن ہیں؟
جواب: میرا جواب نفی میں زیادہ اور اثبات میں کم ہے یعنی آج ہندوپاک دونوں کے یہاں صحافت میں سچائی، بیباکی، جانفشانی، ایمانداری اورغیرجانبداری کے تصورات ورجحانات خال خال ہی نظرآتے ہیں۔ دراصل، صحافت، دولت اور شہرت کمانے اور تعلقات بنانے اور بسا اوقات بلیک میل کرنے کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔ مثلاً ہر حاکم وقت کی موافقت اور رخصت ہونے کے بعد اس کی مخالفت۔ اس کے علاوہ آج کی صحافت کسی نہ کسی آئیڈیالوجی، پارٹی یاسرمایہ دار گھرانے سے منسلک ہے اس کے سبب صحافی کو سیاسی، مذہبی، مسلکی اور اقتصادی فیوض و فوائد بآسانی حاصل ہوجاتے ہیں۔ انہی وجوہ کے سبب آج کی صحافت اپنے معیارو وقار اور اعتبار کو کھوتی جارہی ہے۔ سچ پوچھئے تو صحافت آج کا روبار اور ایک ادارہ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ صحافت میں صداقت کی جگہ سیاست اور شرافت کی جگہ شیطانیت حاوی ہوچکی ہے اور ہر صحافی، (باستثنائے چند) دولت و شہرت اور مقام و منصب حاصل کرنے کے لیے کاسہ گربن چکاہے۔
درحقیقت ایماندارانہ صحافت خون جگر کی ریاضت چاہتی ہے، یہ ایک نوع کی سچی عبادت ہے اور قلمی ریاضت بھی۔ اور یہ باتیں اب داستان پارینہ بن چکی ہیں۔ اب صحافی نہ دیانت دار ہے، نہ ریاضت شعار اورنہ ہی عبادت گزار ہے۔ تو بھلا صحافت میں معیار ومیزان کیسے قائم ہوسکتاہے؟ آج کل توعجلت اور عجوبہ کا دور ہے جو جتناچٹخارے دار، دھماکے دار اور بوس وکنار سے بھرپور خبریں، مواد اور موضوع اپنائے گا وہی کامیاب وکامران ہوگا۔
سوال: اردو زبان و ادب کے مستقبل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب:اردو کے بارے میں ہم لوگ خوش فہم زیادہ ہیں۔ گزشتہ کئی کانفرنسوں اور سیمیناروںمیں جانے کا اتفاق ہوا۔ کہیں’’اردو‘‘ کو دنیا کی پہلی، کہیں دوسری اور کہیں تیسری بڑی زبان کہاگیا مگر حقیقت یہ ہے کہ جس زبان کا رزق سے تعلق نہ ہو، وہ کسی بھی وقت معدوم ہوسکتی ہے۔ سنسکرت اور عبرانی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *