ڈاکٹر فرینک اسلام نے اے ایم یو میں فرینک اینڈ ڈیبی ماس کمیونیکیشن آڈیٹوریم اور انٹرپرینئرشپ سنٹر کا افتتاح کیا

Share Article

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم اورامریکہ نشیں ممتاز سماجی کارکن، مصنف اور صنعت کار ڈاکٹر فرینک اسلام نے آج یہاں یونیورسٹی کے شعبہ? ترسیل عامہ میں فرینک اینڈ ڈیبی ماس کمیونی کیشن آڈیٹوریم اور بزنس ایڈمنسٹریشن شعبہ میں انٹرپرینئرشپ سنٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ہی ان کی تربیت کی اور ایسی قدریں سکھائیں جس سے ا نھیں زندگی میں کامیابی ملی۔ تقریب کی ابتدا میں اے ایم یو کے ایک طالب علم انس شمسی کے سانحہ? ارتحال پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے ان کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ یونیورسٹی کے ممتاز ہاسٹل میں بھی تعزیتی تقریب منعقد ہوئی۔

شعبۂ ترسیل عامہ میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فرینک اسلام نے کہا کہ ماس کمیونیکیشن آڈیٹوریم و پریویو تھیئٹر بہت اہم جگہ ہوگی جہاں اساتذہ، طلبہ اور ماہرین علم و فن جمع ہوں گے اور آزاد صحافت اور جمہوریت پر خیالات کا تبادلہ ہوگا۔ انھوں نے کہا ’’یہ خالی الفاظ نہیں بلکہ سچائی پر مبنی جذبہ ہے اسی لئے میں نے اور میری اہلیہ نے اس آڈیٹوریم کے لئے مالی تعاون فراہم کیا‘‘۔ انھوں نے آڈیٹوریم میں ایئرکنڈیشننگ نظام کے لئے بھی مالی تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ انھوں نے کہا ’’مجھے دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں (ہندوستان اور امریکہ) میں رہنے کا موقع ملا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان جمہوریتوں کو زندہ و تابدار رکھنے اور دنیا کے لئے ایک مثال بننے کے لئے متحرک و فعال شہریوں کا ہونا ضروری ہے‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر فرینک اسلام نے مینجمنٹ کامپلیکس کے لئے 14/کروڑ روپئے اور ماس کمیونکیشن آڈیٹوریم کے لئے ایک کروڑ روپئے کی خطیر رقم عطیہ کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی دستور کی دفعہ 19، اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے اور اس پر عام اتفاق ہے کہ اس دفعہ میں پریس کی آزادی شامل ہے۔ انھوں نے کہاکہ 1947ئ￿ سے ہندوستان میں آزاد پریس نے کافی ترقی کی ہے اور اس نے ہندوستانی جمہوریت کے ارتقائ￿ میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔

ڈاکٹر فرینک اسلام نے زور دیتے ہوئے کہاکہ فرضی اور سچی خبر کسی جمہوریت میں بڑا فرق پیدا کرسکتی ہے۔ انھوں نے کہا ’’سچی خبر مسائل کے حل، سماج کی تعمیر اور مشترکہ عزائم کے حصول میں مددگار ہوتی ہے جب کہ جھوٹی خبر اختلافات کو ہوا دیتی ہے، شہریوں کے درمیان تفریق کو بڑھاتی ہے اور خیمہ بندی اور دوریوں کو تقویت پہنچاتی ہے۔ افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر فرینک اسلام نے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کے ہمراہ چنندہ صحافیوں کو جرنلزم ایکسیلنس ایوارڈ پیش کئے، جن میں مس رومانہ ایثار (اینکر، اے بی پی نیوز) اور مسٹر انوج کمار (سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر، دی ہندو)، مسٹر سنتوش شرما (دینک جاگرن)، مسٹر پرنو اگروال (ہندوستان) اور مسٹر محمد کامران (نیوز 18اردو) شامل تھے۔

فرینک اینڈ ڈیبی اسلام ماس کمیونکیشن آڈیٹوریم میں افتتاحی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ میڈیا جمہوریت کا اہم ستون ہے اور ہمارے ملک نے خشونت سنگھ، کلدیپ نیر اور ارون شوری جیسے عظیم صحافی دئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ کئی میڈیا ادارے ہیں جو صحافتی قدروں سے سمجھوتہ کئے بغیر جر?ت اور ایمانداری کے ساتھ خبریں لکھ رہے ہیں اور نشر کررہے ہیں۔ بزنس ایڈمنسٹریشن شعبہ میں انٹرپرینئرشپ سنٹر کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر فرینک اسلام نے کہاکہ یہ سنٹر نئے خیالات و تصورات کے فروغ اور نئے صنعتکارو انٹرپرینئرس کی تربیت کرکے ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انھوں نے کہا ’’ہندوستان میں مہم جوکاروباری لیڈروں کے لئے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔

ہندوستان میں نئے کاروبار اور اسٹارٹ اپ امریکہ کے مقابلے دوگنے ہیں اور اسٹارٹ اپ انڈیا، میک ان انڈیا اور اسکِل انڈیا جیسے اقدامات نئے کاروبار کی ابتدا اور توسیع میں معاون ہیں‘‘۔ڈاکٹر فرینک اسلام نے کہاکہ چونکہ عالمی سطح پر ہندوستان ایک بڑی طاقت بن رہا ہے اس لئے حفظان صحت، تعلیم، آب و ہوا کی حفاظت اور اقتصادی ترقی کی بنیادی اہمیت ہے، جو ہم سے نئے نظریات و تصورات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’یہ اقدام کا وقت ہے اور نئے انٹرپرینئر لیڈران مستقبل کے لئے بہت اہم ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ انکیوبیشن سنٹر اے ایم یو کے طلبہ و طالبات کے لئے سرسید احمد خاں علیہ الرحمہ کے وِڑن کو آگے لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا‘‘۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ انکیوبیشن سنٹر دراصل اس لئے ہوتا ہے کہ جب آپ کمزور پڑیں تو آپ کو تحفظ فراہم ہو، اور یہیں پر طلبہ کے نئے تصورات کو فروغ دینے کا ماحول فراہم ہوگا تاکہ وہ پختہ صنعتکار بن سکیں۔ انھوں نے طلبہ پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ ایک ٹیم کے طور کام کرنا سیکھیں اور عزم و حوصلہ سے کام لیں۔ وائس چانسلر نے کہا ’’نئے بزنس پلان کو نافذ کرنے کے لئے خطرہ اٹھانا اہم ہے اور جو امتیازی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے وہی باقی رہیں گے‘‘۔ امریکہ سے تشریف لائے اے ایم یو کے ہی سابق طالب علم مسٹر سید علی رضوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو تعلیم کا عظیم مرکز ہے اور یہاں کے در و دیوار اور ہال ہم سے باتیں کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں پھیلے یونیورسٹی کے سابق طلبہ موجودہ طلبہ کو اپنے علم و ہنر سے مستفید کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اس سے قبل شعبہء ترسیل عامہ کے سربراہ پروفیسر شافع قدوائی اور فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ڈین پروفیسر ولید اے انصاری نے خطبہء استقبالیہ پیش کیا۔ اے ایم یو رجسٹرار مسٹر عبدالحمید آئی پی ایس اور مسٹر عبداللہ ترین نے بالترتیب شعبہء ترسیل عامہ اور شعبہء بزنس ایڈمنسٹریشن میں اظہار تشکر کیا۔ شعبہء ترسیل عامہ میں ڈاکٹر ہما پروین نے اور شعبہء بزنس ایڈمنسٹریشن میں حمدہ صدیقی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *