سامعہ جمال
اب تک ہم نے قارئین کوگھریلو تشدد کے بارے میںبتایا۔لیکن کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آج کل کے نوجوان شادی سے پہلے یا بعد محبت کے رشتے میں کبھی نہ کبھی تو بندھتے ہیں۔آج ہمارا یہی موضوع ہے۔جس کو انگریزی میں Dating Violence کہا جاتا ہے۔ ڈیٹنگ وائلنس میں مرد اپنے ایم سی پی Male Chaunvinist Pig ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ یعنی تشدد یہاں بھی ملتا ہے۔ اس طرح کے تشدد میں مرد اپنے آپ کو طاقتور بتانے کی وجہ سے گالی گلوچ یا پھر مار پٹائی کرتا ہے۔ان ہی سب باتوں کی وجہ سے اکثر لڑکیاں جذباتی ،ذہنی ، جسمانی اذیت میں پڑ جاتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے الگ تھلگ کر لیتی ہیں۔ اکثر تو لڑکیاں جب اپنے اس طرح کے دوستوں سے تھوڑی دوری بنانے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ لڑکے جو کہ کہنے کو ان کے بوائے فرینڈ ہوتے ہیں، ان کا غنڈوں کی طرح پیچھا کرتے ہیں۔
چاہے لڑکی اونچے خاندان کی ہو یا نچلے خاندان کی، چاہے اس کا خاندان امیر ہویا غریب ہو، اکثر لڑکیوں میں کچھ اس طرح کا خوف پایا گیا ہے۔ Centre for Promoting Alternatives to Violence اس خوف کے پیچھے کی چند وجوہ کو بتاتا لازمی ہے۔ اکثر اس کی وجہ ہوتی ہے لڑکوں میں حد سے زیادہ جلن، احساس بہتری، گھر والے گالی گلوچ کرتے ہوں وغیرہ۔
آئیے سمجھیں کہ اس طرح کی پریشانیوں کی نشاندہی کیسے ہوتی ہے:۔
(الف) جسم پر نشانات ہوتے ہیں۔
(ب)اسکول ،کالج یا دفتر میں وقت نہیں دیا جاتا ۔
(ج)اسکول ، کالج یا دفتر کا کام وقت پر پورا نہیں ہوتا ۔
(د)ڈرگ لینا شروع کر دینا۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ مختلف طرح کی پریشانیاں کون کون سی ہیں۔
جذباتی پریشانیاں
(الف) لڑکی اپنے دوست سے ڈرنے لگتی ہے (ب)اگر کوئی بات غلط بھی ہوتی ہے تو لڑکی ڈر کی وجہ سے اسے مان لیتی ہے (ج) اس کا دوست اسے سب کے سامنے ذلیل کرنے میں ہچکچاتا نہیں۔
ذہنی پریشانی
لڑکا لڑکی کو ہر طرح سے ڈراتا ہے۔ مثلاً اگر تم نے مجھے چھوڑا تو میں تمہیں مار دوں گا یا اگر تم نے مجھے چھوڑا تو میں خود کشی کر لوں گا۔
جنسیت سے متعلق پریشانی
(الف)لڑکا لڑکی کو زبردستی جسمانی تعلقات بنانے کے لئے زور دیتا ہے(ب)لڑکی مارے خوف کے کوئی بات نہیں کہہ پاتی(ج) لڑکا لڑکی کی عزت نہیں کرتا بس اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنا چاہتا ہے(د)لڑکی کو اکثر لڑکے کی اصل نیت کا پتہ نہیں ہوتا۔
جسمانی پریشانی
(الف) لڑکا اکثر لڑکی پر ہاتھ اٹھا کر اسے جسمانی چوٹ پہنچاتا ہے(ب)دھکا دینا، گھونسہ مار دینا، لات مار دیان، چیزیں لڑکی کے منہ پر مارنا۔
پوری طرح سے قابو میں رکھنے کے لئے پریشان کرنا
(الف)دوستوں سے ملنے نہ دینا (ب)گھر والوں کے خلاف بھڑکا کر اپنا قابو رکھنا(ج)ہر بات پر جواز مانگنا یا پھر کسی بھی چیز کے پیچھے وجہ جاننے کی کوشش کرنا (د)اگر لڑکی کسی دوسرے لڑکے سے بات کرے تو اسے روکنا(ھ)لڑکی کے پہناوے پر روک ٹوک(و)یہاں تک کہ بیماری میں بھی بنا لڑکے سے پوچھے دوا لینے سے بھی منع کرنا ۔
اس طرح کے موضوع پر آئیے پہلے کچھ جانی مانی ہستیوں کے نام سے جڑے واقعات پر نظر ڈالیں۔
راجا چودھری اور شردھا شرما
بھوجپوری فلموں میں کام کرنے والے راجا چودہری کا نام ایسی باتوں میں آنا عام بات ہے۔ راجا کو اپنے رویے کی وجہ سے کئی دفعہ گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ ایسے ہی ایک مسئلے پر شردھا شرما کا نام بھی جڑا۔ایک دفعہ راجا چودہری شردھا شرما کے گھر میں رات کو تین بے پہنچ گئے۔ وہاں وہ اس وقت ڈراونگ روم میں سوئے۔ صبح جب شردھا اٹھیں تو شردھا نے راجا کو اپنے کمرے میں آنے سے منع کر دیا۔ اس بات کی وجہ سے راجا نے شردھا کو خوب مارا۔شردھا کو سورج اسپتال میں بھرتی کیا گیا۔ انہیں کافی چوٹیں آئی تھیں۔ اسپتال سے باہر آکر انہوں نے راجا کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی۔
راہل مہاجن
شادی کے بعد راہل مہاجن کی بیوی ڈمپی گنگولی نے سب کے سامنے راہل کی طرف سے کئے گئے گھریلو تشدد کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد راہل کی پرانی دوست پایل روہاتگی بھی سامنے آئیں۔ انہوں نے بھی سب کو بتایا کہ راہل مہاجن نے ایک دفعہ ان کا سر دروازے سے ٹکرا دیا تھا۔ایسا ایک دفعہ نہیں ، راہل نے کئی دفعہ کچھ اس طرح کا رویہ پایل کے ساتھ روا رکھا۔ اسی وجہ سے پایل نے اپنا راستہ الگ کر لیا۔ لیکن آج جب کہ راہل شادی شدہ ہیں، انہوں نے اب بھی پایل کو فون کرنا بند نہیں کیا ہے۔ وہ اکثر پایل سے واپس آنے کی التجا کرتے ہیں۔
نفیسہ
نفیسہ 1997 میں مس انڈیا بنیں۔ وہ میامی میں ہوئے مس یونیورس میں سیمی فائنل تک بھی پہنچی۔انہوں نے ایم ٹی وی پر کچھ دن VJ کا کام بھی کیا۔29 جولائی2004 کو نفیسہ نے اپنے آپ کو پھانسی لگا لی۔ وجہ سمجھی جارہی ہے ان کی شادی۔ ان کی شادی گوتم کھندوجہ نام کے ایک بزنس مین سے ہونے والی تھی۔ نفیسہ نے ایسا اس لئے کیا، کیونکہ گوتم نے اپنا رشتہ ان سے ختم کر لیا تھا۔ رشتہ ختم ہونے کے پیچھے وجہ تھی گوتم کا پہلے سے شادی شدہ ہونا۔ دراصل گوتم نے نفیسہ سے جھوٹ بولا کہ ان کی طلاق ہو چکی ہے۔ بات کھلنے پر جب نفیسہ نے جواب مانگا تو گوتم نے کسی بھی بات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ نفیسہ نے جب گوتم کی بیوی سے ملنے کی دھمکی دی تو گوتم نے ان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ نفیسہ کے ماں باپ نے ایف آئی آر درج کروائی۔ گوتم کی دی ہوئی دھمکی بھی بتائی۔ گوتم سے آج بھی جب پوچھا جاتا ہے تو وہ صاف کہہ دیتا ہے کہ موت کی وجہ وہ ہیں ،اس کا ثبوت کیا ہے؟گوتم سیدھے نفیسہ کے کردار پر انگلی اٹھا دیتا ہے کہ نفیسہ کا چکر تو سمیر ملہوترا اور سمیر سونی کے ساتھ بھی تھا۔ یہ تو تھیں مشہور باتیں۔یہ مضمون پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اسکولوں میںبھی ایسا ہو رہا ہے۔آئیے چند باتوں پر نظر ڈالیں۔
دہلی کے کناٹ پلیس کے پاس ایک مشہور اسکول کے انگڑ ہوجہ کی گرل فرینڈ کا نام سرشتی ماروا ہے۔ انگڑ گیارہویں اور سرشتی دسویں میں ہیں۔ سرشتی کے کئی دوست ہیں۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ، سرشتی سے کھل کر ملتے ہیں۔ انگڑ کو یہ بات پسند نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے کئی دفعہ انگڑ کے دوستوں نے دیکھا کہ انگڑ شرشتی کو دھمکایا اور اس کے بال تک کھینچا۔گالی دینا اور دھکا دینا تو ایک عام سی بات ہے۔
ایک مثال اور، دسویں کلاس کے ہی شرین جوائی نام کا لڑکا اپنی گرل فرینڈ مینا کو جذباتی طور پر پریشان کرتاہے۔ اس نے اپنی گرل فرینڈ کو بولا ہوا ہے کہ اس کو ٹی بی ہے۔ اس کی وجہ سے اس کا بہت خیال رکھتی ہے۔ ایک دفعہ جب مینا نے اپنے ایک اچھے دوست ارجن کو یہ بات بتائی تو ارجن چونکا کیونکہ ارجن شرین جوائی کو جانتا تھا۔ ارجن نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر جب شرین جوائی سے دھمکا کر بات کی تو پتہ چلا کہ شرین جوائی صرف جھوٹ بول رہا تھا۔ اور یہ جھوٹ صرف زیادہ ہمدردی اور پیار پانے کے لئے کر رہا تھا۔ دھمکانے اور سمجھانے کے باوجود شرین جوائی اپنی حرکت سے باز نہیں آیا۔ ایک دفعہ تو ڈرامہ کی حد اتنی آگے بڑھ گئی کہ شرین جوائی نے منہ میں لال رنگ کا پینٹ لے کر مینا کے سامنے الٹی کر دینے کا ڈرامہ کیا۔ یہ دیکھ کر مینابیہوش ہو گئی۔ جب ارجن نے مینا کو ساری بات بتائی تو اس نے دوست پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے بوائے فرینڈ شرین جوائی کا ساتھ دیا۔
اس مضمون کو پڑھ رہے سارے لوگوں سے میری درخواست ہے کہ وہ اپنی جاننے والی لڑکیوں کو آگے دی گئی باتیں سمجھائیں۔ ایک لڑکی کو پورا حق ہے کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے نیچے لکھی باتوں کی مانگ کرے یا پھر خود ہی احتیاط کرے۔ (الف) عزت کے ساتھ مخاطب ہونا اورعزت کرنا(ب) رشتہ تمیز کے دائرے کے اندر ہو(ج)کبھی بھی مار پیٹ یا گالی گلوچ نہ ہو(د)جذباتی طور پر کسی پریشانی کا بہانہنہ کرے،اگر ہو تو ایمانداری کے ساتھ ہو بہانہ یا ناٹک بازی نہ ہو(ھ)جنسی تعلقات سے بچا جائے(و)ایک لڑکے کے علاوہ اس لڑکی کے اور بھی دوست ہوں(ز)رشتہ کبھی بھی ختم کرنے کی آزادی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here