گدھا پولس کی حراست میں

Share Article

منظور عثمانی

حراست کے معاملے میں  پولس بڑی حریص واقع ہوئی ہے، اس کا بس چلتا ہے تو اپنے روزنامچے کی پورتی کے لیے وہ رستہ چلتے کو بند کر دیتی ہے۔ ہمارے ایک ہم جماعت کے والدِ محترم ریٹائرڈ تھانیدار تھے۔ انہیں ’’سالے بند کردوںگا‘‘ اور ’’کچھ دے دلا کے معاملہ رفع دفع کرو‘‘ کہنے کی ایسی عادت پڑ گئی تھی کہ ذرا سی ناگواری کی صورت میں اپنی اہلیہ تک کو بند کر دینے کی دھونس دینے سے بھی نہ چوکتے تھے۔ یہ الگ بات کہ اس کی پاداش الٹا بیگم ہی بند کردیتی تھیں ان کا حقہ پانی۔ بڑی منتوں کے بعد معاملہ ’’رفع دفع‘‘ ہوپاتا تھا۔
اپنی اسی دیرینہ پریکٹس کے تحت خبر ہے کہ کانچی پورم کی پولس نے کچھ مظاہرین کے ساتھ ساتھ ایک گدھے کو بھی لاک اپ میں بند کردیا، جب کہ از روئے قاعدہ اسے ’’کانجی ہاؤس‘‘ میں بند کرنا چاہیے تھا۔ اب اسے بھائی چارہ کہیں یا کچھ اور۔ پولس نے یہ سوچ کر کہ بے چارہ رات میں کہاں مارا مارا پھرے گا۔ اسے بھی دوسرے نیتاؤں کے ساتھ اپنا مہمان بنالیا۔
آپ یہ سوال ضرور کریںگے کہ گدھا نیتاؤں کے ساتھ کیا کر رہا تھا کہ اسے بھی پولس کی مہمانی کا شرف حاصل ہوپایا تو جواباً عرض ہے کہ نیتاؤں کا گدھوں سے واسطہ کب نہیں رہا؟ ہمارے رہبرانِ عالی مقام جنتا کو سوائے گدھا یا الّو بنانے کے اور کرتے ہی کیا ہیں؟ جہاں الیکشن آیا گدھا سازی کا دھندہ شروع۔ ملا نصرالدین کی طرح ایک سے ایک جید گدھے کو قاضیٔ شہر بناڈالنے پر تل جاتے ہیں، کیوںکہ انہیں چاہئیں ہی گدھے جن پر وہ آسانی سے سواری گانٹھ سکیں۔ ان کے چڈھی کھانے کی خصوصیت یہ ہے کہ ’پیرتسمہ پا‘ کی طرح پانچ سال سے پہلے نہیں اترتے اور اگر گدھوں کو فیل گڈ کرانے میں کامیاب ہوجائیں تو مزید پانچ سال کے لیے سواری پکی۔ ’یونہی چلے چلو جب تک گدھے چلیں۔‘
صاحبان! اس پورے واقعہ کی جو کئی روز تک عمرانہ اور گڑیا کی طرح میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہا تفصیل یہ ہے کہ کانچی پورم میں بعض غیرسرکاری تنظیموں نے اراضی کی اصلاحات کے عمل میں متعلقہ افسران کی تانا شاہی اور سست روی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔ لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے ایک گدھے کو بھی شامل کرلیا گیا اور اس کے گلے میں ایک پوسٹر لٹکایا گیا، جس پر ملازمین کے غیرذمہ دارانہ رویہ کو اجاگر کیا گیا تھا۔ مظاہرہ کا اہتمام کرنے والی تنظیموں کے خلاف پولس میں یہ شکایت درج کرائی گئی کہ افسران کو بلاوجہ بدنام کیا گیا۔ اس پر پولس نے مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ ساتھ ہی گدھے میاں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ پورے معاملے کو جب مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو شام ہوچکی تھی۔ جج صاحب نے مظاہرین سمیت تمام چیزوں کو عدالتی تحویل میں رکھے جانے کے احکامات دے دئے۔
پولس پر اب ہر طرف سے نکتہ چینی ہورہی ہے، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں جانوروں کو ان کے مالکان کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ پولس کے مطابق گدھے کے مالک کا پتہ نہیں چل پایا تھا، اس لیے اسے بھی جیل میں رکھنا پڑا(زہے نصیب) دوسرے دن جوں ہی مالک کا پتہ چلا اسے سونپ دیا گیا۔ لیکن گدھے کے مالک کو ہر دو سے شکایت ہے۔ مظاہرین سے یہ کہ انہوں نے اس کے ساتھ وشواس گھات کیا ہے۔ اسے قطعی علم نہیں تھا کہ گدھا اس مقصد کے لیے کرایہ پر لیا جارہا تھا۔ اس لیے وہ نیتاؤں کے خلاف نالش دائر کرنے کی سوچ رہا ہے۔ بات صحیح بھی ہے کیوںکہ گھر لوٹنے پر مالک نے محسوس کیا کہ:
’’بدلے بدلے مرے سرکار نظر آتے ہیں‘‘
اور اس کے مزاج اور رویے میں زبردست بدلاؤ نظر آیا۔ وہ ضدی ہوگیا ہے، یعنی آگرہ کرنے لگا ہے وہ تو ہونا ہی تھا۔ اس بے چارہ کو کیا پتہ تھا کہ سیاست دانوں کے ساتھ رہ کر دھرنا اور ستیہ گرہ نہیں سیکھے گا تو اور کیا سیکھے گا۔
یہاں ہمیں اس بیل کا قصہ یاد آرہا ہے، جو یکا یک سست اور کاہل ہوگیا تھا، کسی فقیر کے ٹکڑے کھا کر۔ گدھے کے مالک غریب کو کیا معلوم تھا کہ نیتاؤں کے ساتھ قیام و طعام تو اس سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔ اس پر مستزاد کہ گدھا جیل یاتری بھی ہوگیا۔ سمجھ دار لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کے دور میں جیل جانا کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں۔ یہ کرشمہ ہم نے ایمرجنسی کے دوران دیکھا کہ اندرا گاندھی کے ہاتھوں بند کئے گئے ایسے نیتا بھی وزیر ہوگئے جن کے باپ داداؤں تک نے دیش سیوا کے نام پر انگلی تک نہ کٹائی تھی، ہاں انگریز سیوا میں ناک ضرور کٹوائی تھی۔ ان سپوتوں کے لیے اے کلاس جیل میں مزے لوٹنا ہی گنگا نہانا ہوگیا تھا۔مرنے پر یاد آیا کہ ہمارے ایک پرنسپل دوست بھی ایمرجنسی میں بند ہوگئے۔ انہیں تہاڑ سے ہرنیا کے آپریشن کے لیے ارون اسپتال لایا گیا۔ ہم نے سنا تو عیادت کے لیے ہم بھی گئے، ان کی تندرستی اور بشاشت کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ انہی کی زبانی معلوم ہوا کہ ان کی ساری شیروانیاں تنگ ہوگئی تھیں۔ دوران گفتگو موصوف ہم سے کہنے گلے ’’عثمانی صاحب! کافی دبلے ہو رہے ہیں‘‘ ہم نے مؤدبانہ عرض کیا’’اب تو آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ کرکے اور نہ کر کے کھانے میں کیا فرق ہے۔‘‘ تو جناب والا اگر گدھا ضدی ہوگیا اور بات بے بات آگرہ کرنے لگا تو ہمیں اس تبدیلی پر ذرا سی بھی حیرت نہیں ہوئی، حیرت تو تب ہوتی جب اس میں کوئی بدلاؤ نہ آتا، وہ تو کریلا نیم چڑھا ہوگیا۔ یعنی ایک تو گدھا اور اس پر نیتاؤں کا صحبت یافتہ وہ تو گیا کام سے۔ اس کے مالک کو ہمارا مشورہ ہے کہ دل پر پتھر رکھ کے اناللہ پڑھ لے اس مجبور باپ کی طرح جس کا ایک بیٹا شاعر ہوگیا تھا افسوس!
جیل نے اس کو نکما کر دیا
ورنہ اس کا بھی گدھا تھا کام کا
ہمارا خیال ہے کہ گدھے کے بگاڑ میں مقدر کابھی بڑا ہاتھ تھا۔ اس کا نتیاؤں کے ہاتھوں میں پڑنا، پولس کا گدھا نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے سیاست دانوں کے ساتھ لاک اپ میں رکھنا اور غضب پر غضب میڈیا کو تشہیر کا موقع ہاتھ آجانا سب نے مل کر گدھے کو کسی کام کا نہ رکھا۔ مسلسل سرخیوں میں آنے سے تو شاہ بانو اور عمرانہ تک کا دماغ خراب ہوگیا تھا، وہ تو گدھا ابن گدھا ابن گدھا تھا۔
صاحب! میڈیا بھی بانس پر چڑھانے میں کمال کرتا ہے، جس انداز سے چوبیس گھنٹے گدھے کی تشہیر کی گئی، اسے دیکھ اور سن کر اچھوں اچھوں کا دماغ الٹ سکتا ہے، وہ تو گدھا تھا۔  ہاں جناب! ہم نے بھی مذکورہ گدھے کو ٹی وی پر دیکھا تھا معصوم سا، مظلوم سا اور حیران سا۔ آپ کی اجازت ہو تو عرض کرنے کی جسارت کریں کہ ہمیں گدھے کے پر تفکر چہرے پر معصومیت کی وہی جھلکیاں نظرآئیں جو نیتاؤں کے چہروں پر جیل کی گڈی پر چڑھتے سمے۔ کان بھی اسی سمان Vکا نشان بناتے ہوئے۔
قارئین! آپ بھی کہیںگے میاں گدھا سرائی آخر کب تک؟ موضوع تمہارا گدھا ہے کہ نیتا؟ تو صاحبان! نیتا جیسی چیز تک ہم جیسے حقیر انسانوں تک گزر کہاں؟ ہم تو بیچارے گدھے کا ذکر کر رہے تھے جو کہیں کا نہ رہا تھا۔
علامہ اقبال کا قول ہے کہ:
بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ
لیکن ہم گدھے کو فقط حماقت کا پیکر نہیں سمجھتے، اس میں بہت سے اوصافِ حمیدہ بھی پائے، جن پر بجا طورسے فخر کیا جاسکتا ہے۔ انشائیہ کے باوا آدم مونٹین کے لفظوں میں: ’’روئے زمین پر گدھے سے زیادہ پراعتماد، مستقل مزاج، گمبھیر دنیا کو حقارت سے دیکھنے والا اور اپنی ہی دھن دھیان رہنے والا اور کوئی ذی روح نہ ملے گا۔ صاحبان! اہل مغرب کی تعریف کرنی پڑے گی کہ حقیقت کے اعتراف میں ذرا بھی بخل سے کام نہیں لیتے۔ ان کے یہاں ہماری طرح الو اور گدھے کو گالی نہیں سمجھا جاتا۔
ہاں! تو جناب مذکورہ گدھے والے کو شکایت ہے کہ اسے قطعی علم نہیں تھا کہ کسی مظاہرے میں اس کے گدھے کو لیڈ رول(Lead Role) ادا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کا اعتراض یہ ہے کہ اس کے گدھے کو مس یوز (Mise use) کیا گیا ہے۔ بے چارے ان پڑھ جاہل کو کیا پتہ کہ نیتاؤں کے ہاتھوں میں پڑ کر تو بھگوان تک مس یوز ہونے سے نہیںرہ سکتا۔ وہ تو غریب لاچار گدھا تھا اوما بھارتی جیسی دھاکڑ Missبھی Mise useہونے سے نہ بچ پائی۔
ہمیں واقعی گدھے کے مالک سے دلی ہمدردی ہے کہ غلط ہاتھوں میں پڑ کر اس کا ’’گدھا گدھا نہ رہا‘‘۔ یہی نہیں خراب شدہ گدھا نہ جانے اور کتنوں کو خراب کرے گا۔ اب اس میں نہ پہلی سی لگن، دھن، مستقل مزاجی، گمبھیرتا، استغنا، صبر و قناعت جو گدھوں کے جواہر ذاتی ہیں کچھ بھی تو باقی نہ رہے گا۔ انسان تو سب کچھ کھونے کے بعد بھی اشرف المخلوقات کہہ لاسکتا ہے، لیکن آپ ہی ایمان سے کہہ دیں سارے اوصاف گنوانے کے بعد اس غریب کے پاس کیا بچ پائے گا لاچار نرا گدھا ہی رہ جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *