پلوامہ حملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بولے۔ پاکستان کے خلاف کچھ بڑا کرنے جا رہا ہندوستان

Share Article
trump
واشنگٹن: پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کے سخت رخ کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک بھی اس کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے۔پہلی بار پلوامہ حملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بیان آیا ہے۔ٹریمپ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالات کو انتہائی خراب بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا ایڈمنسٹریشن دونوں ممالک کے رابطے میں ہیں اور وادی میں کشیدگی جلد ہی ختم ہونے کی امید ہے۔ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے کہا، اس وقت ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالات بیحد خراب ہیں۔ یہبیحد خطرناک صورت حال ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ (دشمنی) ختم ہو جائے۔کافی لوگ مارے گئے ہیں۔ ہم اسے بند ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اس میں (عمل میں) بڑی حد تک شامل ہیں۔
ٹرمپ نے یہ باتیں صحافیوں کے ذریعے جموں و کشمیر کے پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہی۔پاکستان کہ طرف سے ہوئے حملے میں اب تک ہندوستان نے اپنے 46 جوان کھوئے ہیں۔صرف 40 سی آر پی ایف جوان تو فدائین حملے میں ہی شہید ہو گئے تھے، پاکستان واقع دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے اس حملے کی ذمہ داری لی تھی۔
بڑا فیصلہ لے سکتا ہے ہندوستان

امریکی صدر نے کہا، ’’ بھارت کسی ٹھوس فیصلے پر غور کر رہا ہے۔ہندوستان نے حملے میں اپنے 50 لوگوں کھویا ہے۔میں بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ایڈمنسٹریشن دونوں ممالک کے حکام سے بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم بات کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں۔ یہ ایک بہت ہی نازک توازن گے۔ جو کچھ ہوا ہے اس کے باعث ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہت سارے مسائل ہیں۔

صدر نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں سدھارکیا ہے اور پاکستان کے رہنماؤں اور حکام کے ساتھ میٹنگوں کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔ میں نے پاکستان کو 1.3 ارب امریکی ڈالر ادا کرنا بند کر دیا، جو ہم انہیں دیا کرتے تھے۔اس بیچ ، ہم پاکستان کے ساتھ کچھ میٹنگ کر سکتے ہیں۔پاکستان نے دیگر امریکی صدور کے دور اقتدار میں امریکہ کا بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ہم ہر سال پاکستان کو 1.3 ارب امریکی ڈالر ادا کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے کہا، میں نے اس ادائیگی کو ختم کر دیا، کیونکہ وہ اس طرح سے ہماری مدد نہیں کر رہے تھے، جیسی انہیں کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ مہینوں میں پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *