بدنام نہ کریں، کسی بھی فساد میں شامل نہیں ہوتے ہیں ہندو: گری راج سنگھ

Share Article

 

راجیو دھون کے متنازعہ بیان کا گری راج سنگھ کاردعمل

اجودھیا معاملے میں مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون کے ذرئعہ دیئے گئے متنازعہ بیان پربیگو سرائے کے ایم پی اور مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے تیکھا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان میں ہوئے کسی بھی فسادات میں کوئی ہندو شامل نہیں ہوئے ہیں۔

گری راج سنگھ نے بدھ کی رات ٹویٹ کر کہا ہے کہ ‘راجیو دھون جی، کانگریس کے اشارے پر ہندوؤں کو بدنام نہ کریں اور انہیں فسادی نہ کہیں۔ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے اور میں چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہندوستان میں جتنے بھی فسادات ہوئے، اس میں ہندو شامل نہیں ہیں‘۔

قابل ذکر ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اجودھیا معاملے پر آئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا ہے کہ اس معاملے میں وہ عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرے گا۔ اس کے بعد راجیو دھون نے یہ بیان دیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہوئی اور اجودھیا تنازعہ کیس میں انہیں آفر کی گئی کوئی زمین قبول نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی بدھ کے روز راجیو دھون نے کہا کہ ملک کا امن اور سکون ہمیشہ ہندو ہی بگاڑتے ہیں، امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مسلم ایسا کبھی نہیں کرتے۔

راجیو دھون کے اسی متنازعہ بیان کے بعد گری راج سنگھ نے بدھ کی رات ٹویٹر کے ذریعے سخت ردعمل دیا ہے۔ گری راج سنگھکے ٹویٹ کرتے ہی ہزاروں یوزرس نے اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے اور اس کے ذریعہ وکیل راجیو دھون اور کانگریس پر زور دار حملے بولے جا رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *