پٹنہ کی نوری فاطمہ کو صرف اس لئے اس کے شوہر نے طلاق دے دی کیونکہ اس نے اپنے شوہر کے کہنے پر چھوٹے کپڑے پہننے اور شراب پینے سے منع کردیا تھا۔ اس سلسلے میں نوری نے ریاستی وومین کمیشن سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ دراصل نوری فاطمہ کی شادی 2015 میں عمران مصطفی سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ شوہر کے ساتھ دہلی چلی گئی۔
نوری نے ریاستی وومین کمیشن کو دیئے گئے خط میں بتایا ہے کہ دہلی میں قیام کے دوران شادی کے کچھ دنوں بعد ہی اس کے شوہر اسے چھوٹے کپڑے پہننے اور شراب پینے کا دباؤ بنانے لگے۔ شوہر کا کہنا تھا کہتم بھی دیگر لڑکیوں کی طرح ماڈل بن کر رہا کرو اور رات میں پارٹی میں جاؤ۔ نوری نے اپنے شوہر پر دو بار اسقاط حمل کرانے کا بھی الزام لگایا ہے۔ نوری نے بتایا ہے کہ چھوٹے کپڑے پہننے اور شراب پینے سے جب میں منع کرتی تو عمران پٹائی بھی کرتاتھا۔
ریاست وومین کمیشن کی صدر دلمنی مشرا نے کہا کہ ہم نے معاملے پر نوٹس لیا ہے۔ نوری کے شوہر نے اسے یکم ستمبر کو تین طلاق دی ہے۔ اس پر اس کے شوہر کو نوٹس جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوری کا شوہر اس ہراساں کیا کرتا تھا اور دو بار اس نے اس کا اسقاط حمل بھی کرایا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here