شیطان کا مجسمہ لگانے پر تنازع 

Share Article


اسپین کے ساگوویا میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ وہاں کے مشہور قدیمی نالہ’ شیطان ‘کو بیوقوف بنا کر اس سے ہی بنوایا گیا تھا۔چونکہ اس کو شیطان کے ہاتھوں سے بنوایا گیا تھا اس لئے ایک روایت چلی آرہی ہے کہ وہاں پر ایک شیطان کا مجسمہ نصب کیا جاتاہے۔ روایت کے مطابق امسال شیطان کا جو مجسمہ بنایا گیا، اس پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
تنازع اس لئے پیدا ہوگیا ہے کہ یہ شیطان اپنے ہاتھ میں اسمارٹ فون لئے ہوئے مسکرارہا ہے اور اس کے چہرے سے انسان دوستی کا اشارہ مل رہا ہے ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان کبھی بھی انسان دوست ہوہی نہیں سکتا اور نہ ہی وہ انسان کے لئے اچھا کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی شیطان کو ترشرو چہرے والا ہونا چاہئے۔جبکہ اس مجسمہ میں شیطان مسکرارہا ہے۔ تنازع کے بعداس کو نصب کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس تنازع نے مجسمہ ساز انٹونیو ابیلا کو حیران کر دیا ہے۔ابیلا نے جو کے پہلے ڈاکٹر تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد مجسمہ ساز بن گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’یہ میرے لیے ناقابل یقین بات ہے کہ لوگ اس شیطان کے مجسمے کی اتنی شددت سے مخالفت کر رہے ہیں، وہ جو ہمارے مقبول افسانے کی یاد میں ہے اور جس کے بارے میں سگوویا کے بچوں کو اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے سگوویا سے محبت ہے۔ میں یہاں گذشتہ تین دہائیوں سے رہ رہا ہوں اور امید کر رہا تھا کہ یہ مجسمہ میری جانب سے اس شہر کے لیے اظہارِ تشکر ہو گا۔‘ وہ کوشش کریں گی کہ منصوبے کے تحت مجسمہ نصب کیا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *