’چوتھی دنیا ‘ کا انکشاف موضوع بحث رافیل ڈیل تنازع پر راہل کے تین سوالات

Share Article

رافیل ڈیل کو لے کر کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے حال میں وزیر دفاع نرملا سیتا رمن سے جو تین سوالات پوچھے ہیں، اسے ایک سال پہلے 21 تا 27 نومبر 2016 کے شمارہ میں ’’یہ گھوٹالے کا لڑاکو طیارہ ہے ‘‘ کے عنوان سے ہندی کا پہلا ہفتہ وار اخبار ’’ چوتھی دنیا ‘‘ اور اردو شمارہ میں پہلے ہی اٹھا چکا ہے۔سوال رافیل ڈیل کی قیمتوں کو لے کرتو ہے ہی، ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ کیا ڈیل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لئے نہیں کیا گیاتھا۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے اپنے مضمون میں یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ ڈیل طے ہونے کے بعد امبانی کی ریلائنس کمپنی نے جوائنٹ وینچر کیوں بنایا؟ہم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ یو پی اے نے جن نکات پر معاہدہ کیا تھا، اسے مودی سرکار نے کیوں خارج کیا؟کیا اس ڈیل میں ٹکنالوجی ٹرانسفر بھی شامل ہوگا؟حال میں راہل گاندھی نے ٹویٹ کر کے وزیر دفاع سے سوال کیا ہے کہ رافیل طیارہ کی پوری قیمت عوامی کی جائے۔
ان کا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیامودی نے رافیل ڈیل سے پہلے کابینہ کمیٹی آف سیکورٹی ، سی سی ایس کی منظوری لی تھی۔ تیسرا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہہندوستان ایئر ناٹیکس لمیٹیڈ کو درکنار کرکے یہ ڈیل ایک صنعتکار کو کیوں سونپی گئی جس کے پاس ڈیفنس کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ راہل گاندھی نے رافیل ڈیل پر پہلی بار سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے پہلے بھی سرکار پر یہ کہہ کر حملہ بولا تھا کہ ایک کاروباری کو فائدہ پہنچانے کے لئے فائنل ڈیل میں کئی بدلائو کئے گئے۔ سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری نے بھی رافیل ڈیل پر سرکار کو گھیرا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سرکار یو پی اے کے دوران ہوئے ڈیل اور موجودہ ڈیل کی متوازی قیمت کیوں نہیں بتا رہی ہے؟اس کے علاوہ سی سی ایس سے منظوری اور تکنیکی ٹرانسفر کو لے کر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔
ان بیانوں کے بعد وزیر دفاع نرملا سیتا رمن سرکار کے بچائو میں آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ رافیل ڈیل پر سوال اٹھانے سے سیکورٹی دستوں کا حوصلہ کم ہوگا۔ رافیل طیارہ کی قیمتوں پر انہوں نے کہا کہ یو پی اے سرکار کے دوران طے قیمتوں سے بہتر قیمت پر یہ طیارہ خریدے گئے ہیں۔ حالانکہ رافیل ڈیل میں امبانی کے کردار پر سرکار خاموشی لگائے ہوئی ہے۔
’’چوتھی دنیا‘‘ نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ یو پی اے سرکار رافیل لڑاکو طیارہ کے سودے کو لے کر فرانس کی کمپنی سے مول تول کررہی تھی۔ یو پی اے سرکار کا یہ صاف ماننا تھاکہ ان طیاروں کی قیمت زیادہ ہے، اس لئے اب یہ ماننا چاہئے کہ مودی سرکار نے طے قیمت سے کم میں سمجھوتہ کیا ہوگا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ مودی سرکار اسی طیارہ کو دوگنے قیمت میں خرید رہی ہے۔ اس خرید میں انیل امبانی کی ریلائنس کمپنی کو بھی حصہ دار بنایا گیا ہے، جس میں ریلائنس کو ہزاروں کروڑ روپے منافع ہوگا۔ اس رافیل کو وزیر دفاع سے بھی خفیہ رکھا گیا اور اس میں سیدھے سیدھے پی ایم او کی مداخلت تھی۔ ’’چوتھی دنیا ‘‘نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اس خفیہ سمجھوتے سے پرائیویٹ کمپنی کو فائدہ پہنچانا گھوٹالہ نہیں تو اور کیا ہے؟اس سلسلہ میں ’’ چوتھی دنیا ‘‘کا ماننا ہے کہ سرکار نے رافیل ڈیل فائنل کرنے کے دوران ہندوستان-پاکستان کے بگڑتے رشتوں کو بھی اپنے حق میں استعمال کیا،تاکہ اس سمجھوتے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکے۔ بارڈر پر لگاتار گولہ باری اور پٹھان کوٹ اور اوری جیسے حملوں نے ملک میں انتہائی راشٹرواد کا ماحول پہلے سے بنا دیاتھا۔ اس ماحول میں رافیل ڈیل کو خفیہ طریقے سے لاگو کرنا سرکار کی ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔

 

 

 

 

 

’’چوتھی دنیا‘‘ نے رافیل ڈیل کی قیمتوں کو لے کر بھی سوال اٹھائے تھے۔ یو پی اے کے دوران 126 طیاروں کو 10.2 بلین ڈالر میں خریدنے کی تجویز تھی۔ اس حساب سے ہر طیارہ کی قیمت تقریباً 81 ملین ڈالر تھی۔ اس میں ٹکنالوجی ٹرانسفر کی بھی بات شامل تھی۔ اس سودے کے تحت 18 طیارہہندوستان کو خریدنے تھے اور 108 طیارے ہندوستان سرکار کی کمپنی ہندوستان ایئروناٹیکس کو اسمبل کرنے کی بات تھی۔ جبکہ 2015 میں مودی سرکار نے پیرس میں اعلان کیا کہ ہم 126 طیاروں کے سودے کو رد کررہے ہیں اور اس کے بدلے 36 طیارے سیدھے فرانس سے خرید رہے ہیں اور ایک بھی رافیل طیارہ نہیں بنائیں گے۔ جانکاروں کا ماننا ہے کہ ہندوستان نے اس سودے کے ذریعہ فرانس کی دسو کمپنی کو ختم ہونے سے بچایا ہے۔
’’چوتھی دنیا ‘‘نے یہ سوال بھی اٹھایا تھاکہ ڈیل ہونے کے فوری بعد انیل امبانی کی قیادت والے ریلائنس گروپ اور رافیل طیارہ بنانے والی کمپنی دسو ایویئشن جوائنٹ وینچر لگانے کا اعلان کرتی ہے۔ دونوں کمپنیوں کے جوائنٹ وینچر سے یہ صاف لگتاہے کہ سرکار، دسو اور ریلائنس نے مل کر ایک ایسا مسودہ تیار کیا جس سے بند ہونے والی کمپنی دسو بچ بھی جائے اور ریلائنس کو فائدہ بھی ہو جائے۔ جوائنٹ وینچر کا مقصد صرف اتنا تھاکہ پورے سودے کی 50فیصد رقم کو آف سیٹ کنٹریکٹ کے تحت متعلقہ کمپنی کو سودے کی رقم کا ایک متعین فیصد لگانا پڑتا ہے۔ سمجھوتے میں 50 فیصد آف سیٹ کمپولشن ہے جو ملک میں اب تک کا سب سے بڑ اآف سیٹ معاہدہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ سرکار انیل امبانی کی ریلائنس پراتنی مہربان کیوں ہے؟انیل امبانی کا سیکورٹی سیکٹر میں کیا تجربہ ہے؟سیکورٹی سیکٹر میں ریلائنس کا تجربہ صفر ہے ،پھر بھی مودی سرکار نے ہندوستان کی سیکورٹی میں استعمال ہونے والے سب سے اہم لڑاکوں طیارے کو فضائیہ تک پہنچانے اور مینٹن کرنے کی ذمہ داری ریلائنس کو کیوں دے دی؟یہ سوال آج بھی لا جواب ہے اور سرکار ان سوالوں کے جوابات دینے میں ناکام ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *