دلی اور دلی والے

Share Article

محمد فیروز دہلوی
گزشتہ مضمون (قسط نمبر:20) میں گراموفون ریکارڈ کے مقابلوں کے تعلق سے بیان کیا گیا تھا کہ دلی والوں کا ایک شوق یہ بھی تھا، چند باتیں بیان کرنے سے رہ گئی تھیں، یہاں شامل کی جاتی ہیں۔ دلی میں آزادی (1947)سے قبل کناٹ پلیس اور چاندنی چوک میں گراموفون ریکارٖڈ کی دوکانیں تھیں۔ گراموفون صدر بازار میں بھی فروخت ہوتے تھے۔ دلی اور دلی کے مضافات کے شائقین انھیں دوکانوں سے ریکارڈ خریدتے تھے۔
پرانے ریکارڈ اور استعمال شدہ گراموفون جامع مسجد کی ان دوکانوں میں مل جاتے تھے ، جو شمالی دروازے کی سیڑھیوں کے دائیں بائیں دریبہ کلاں اور پائے والان کی جانب بنی ہوئی تھیں۔ ملک کی آزادی کے چندسال بعد درگاہ شاہ سرمدؒ اور ہرے بھرے صاحبؒ کے مزار کے ساتھ ایک چوڑا راستہ تھا، جو سیدھا چاندنی چوک جاتا تھا، اس کے دائیں طرف پٹری پر ٹین شیڈ کی عارضی دوکانیں بنادی گئی تھیں (ایمرجنسی میں یہ تمام دوکانیں ختم کردی گئیں) ۔ یہاں برابر برابر تین دوکانیں ایسی تھیں، جن میں نئے پرانے ریکارڈ ملتے تھے۔ صبح سے شام تک اس مارکیٹ میںرونق رہتی، پرانے ریکارڈ کے شائقین کا مجمع لگا رہتا۔ ریکارڈ خریدنے سے پہلے بجاکر دیکھتے، قریب ہی درگاہ شاہ ہرے بھرےؒ کی مسجد تھی، اس میں اذان اور نماز کے وقت دوکاندار ریکارڈ نہیں بجاتے، خریدار بھی احترام کرتے۔ ریاض نامی ایک دوکاندار کے پاس نایاب ریکارڈوں کا ذخیرہ تھا۔ وہ کلکتہ ، بمبئی اور دوسرے مقامات سے ریکارڈ منگواتے۔ لوگ کہتے تھے کہ دلی میں جو ریکارڈ کہیں نہ ملے، ریاض کے یہاں مل جائے گا۔یہیں معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں کو واقعی شوق ہے اور کچھ ایسے ہیں جو دلی میں آکر بس گئے ہیں۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں ڈرائنگ روم میں ایک عدد گراموفون بھی نظر آتا تھا، چنانچہ نو دولتیوں نے جب دلی کی مختلف کالونیوں میں رہائش اختیار کی، تو اپنے ڈرائنگ روم میں ڈیکوریشن پیس (سامان آرائش)کے طورپر گراموفون بھی رکھنے لگے۔
یہاں چالیس سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ راقم الحروف ایک سہ پہر سینٹرل نیوز ایجنسی (کناٹ پلیس نئی دہلی) کے سیلز منیجرکے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ تبھی ایک فون آیا۔ سیلز منیجربغور تمام باتیں سنتے رہے، پھر سامنے میز پر پڑے پیڈ پر کچھ نوٹ کرنے لگے۔ نوٹ کرتے کرتے سوال کیا کہ ڈرائنگ روم میں کیا کیا ہے۔۔۔؟ دوسری جانب سے جو کچھ بتایا گیا وہ پیڈ پر لکھا۔ ریسیور رکھ کر پہلے مسکرائے اور پھر گویا ہوئے ’’کیا زمانہ آگیا ہے، پیسے نے جہاں آدمی کو رہنے سہنے کا سلیقہ سکھایا ہے، وہاں دماغ بھی خراب کر دیا ہے۔ اب انھیں صاحب کو دیکھیے ساؤتھ دلی کی ایک کالونی سے فون کر رہے تھے کہ میرے ڈرائنگ میں 4x3x3 کی ایک بک شیلف ہے۔ اس کے لیے خوبصورت ٹائٹل والی کتابیں چاہئیں۔ ان سے پوچھا کہ کس سبجیکٹ (موضوع) پر ہوں، فکشن یا جنرل۔۔۔فرماتے ہیں کتابیں کیسی بھی ہوں، ان کے ٹائٹل خوبصورت اور چمکتے ہوئے ہوں۔ اب بتائیے کون سی کتابیں بھیجوں۔۔‘‘ راقم نے دریافت کیا کہ آپ نے ڈرائنگ روم کے متعلق بھی تو کچھ پوچھا تھا؟ ’’ہاں اسی لئے کہ ان کے مزاج اور ٹیسٹ (ذوق)کا پتہ چل جائے۔ ایک بڑاڈرائنگ روم ہے، جس میں سامنے کے رخ ایک جانب سائڈ ٹیبل پر گراموفون رکھا ہوا ہے ا وردوسری جانب پھولوں کا گلدان۔ بک شیلف کے سامنے اسی سائز کا مچھلیوں کا ایکوریم ہے۔ جی تو چاہتا ہے انسائیکلو پیڈیا کا نیا سیٹ بھیج دوں، مگر کھول کر کون دیکھے گا، ناقدری ہوگی…‘‘
’’پھر کیا بھیجیں گے…؟‘‘’’یہی سوچ رہا ہوں…‘‘
’’پچھلے دنوں آپ کے یہاں وائلڈ لائف پر ایک سیریز آیا تھا، جس میں تتلیوں مچھلیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے پرندوں اور جانوروں پر علاحدہ علاحدہ آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی کتابیں ہیں، ٹائٹل بھی خوبصورت ست رنگے ہیں، بچے بڑے سبھی دیکھ کر خوش ہوں گے..‘‘
’’یار تم نے تو مسئلہ حل کردیا، یہی بھیجوں گا۔‘‘
یہاں اس واقعہ کا بیان کرنا صرف اس لیے تھا کہ قارئین جان لیں کہ صاحب ذوق ہونا ایک بات ہے اور فیشن میںکسی شے کو اختیار کرنا دوسری بات ۔ لوگ فیشن کو اپناتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ کوا چل ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ کچھ یہی حال گراموفون اور ریکارڈ خریدنے والوں کا تھا۔
خیال آتا ہے 1960کے آس پاس پائے والان کے جانب جامع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے ہر اتوار کو پرانے سامان کا کباڑی بازار لگنا شروع ہوا تھا۔ اس بازار میں کباڑی مختلف اشیا فروخت کرتے تھے۔ ان میں پرانے ریکارڈ گراموفون بھی ہوتے تھے۔ ان اشیا کے خریدنے والے بیشتر وہ لوگ ہوتے جو دور دراز کے علاقوں سے نوادرات کی تلاش میں آتے۔ کچھ لوگ ریکارڈ اور گراموفون بھی خریدتے۔ خریدنے والوں کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ یہ گراموفون کتنا پرانا اور کس کمپنی کا ہے۔ کباڑیوںکو سامان خریدتے اور بیچتے ہوئے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ کن لوگوں کو چیزوں کی پرکھ اور سمجھ ہے اور کون اناڑی۔ پرکھ نہ رکھنے والوں سے وہ منھ مانگی قیمت لیتے، خریدنے اور بیچنے والے دلی میں رہنے والے تھے، دلی والے نہیں تھے۔
دلی والے دنیا سے انوکھے نرالے نہیں تھے، عام انسانوں کی طرح ان کے بھی دو ہاتھ، دو پیر، آنکھ ناک کان تھے، قدوقامت بھی غیر معمولی نہیں۔ ہاں مزاج کے اعتبار سے ذرا تیکھے امیر ہوں یا غریب، ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے ، بقول شخصے ’’دلی والے عجب دل والے اور بے فکرے تھے، ہوتی میںدھڑلے سے خرچ کرتے، کل کی مطلق فکر نہیں کوڑی کفن کو لگا نہیں رکھتے تھے۔ ‘‘ان کا تو یہ کہنا تھا، جس نے دیا ہے تن کو وہی دے گا کفن کو۔ لنگوٹی میں پھاگ کھیلتے۔ دلی میں مشہور تھا تن کو نہیں لتّہ پان کھائیں البتّہ۔ یہ ایسے ہی لوگوں کے لئے تھا کہ غربت اور افلاس میں بھی اپنے اپنے شوق پورے کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار۔ دلی والے سیر سپاٹے کے شوقین، میلوںٹھیلوں کے عاشق، اسی لئے انھیں سیلانی جیوڑے بھی کہا جاتا۔ تفریح کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ آٹھ دن اور نو میلوں کی کہاوت بلا وجہ نہیں تھی۔ طبیعت میں جدت، معمولی معمولی اشیا اور باتوں میں اختراع۔ مقابلہ آرائی پر اترے تو ان چیزوں سے مقابلہ کیا، جن کا تصور کرنا بھی محال تھا۔
ان دنوں گرمی کا موسم ہے اس وقت (بعمر70 سال) اپنے چھٹپن کی کئی باتیں یاد آرہی ہیں۔ تب لال دروازہ (سرکی والان)میں رہائش تھی۔ یہی مئی جون کے مہینے میں دن چڑھے گیارہ بجے کے آس پاس سناٹے کو چیرتی ہوئی ایک آواز آتی’’بیجوں سے میٹھی کچریاں ، کالے پہاڑ کی میٹھیاں، سوندھی سوندھی کچریاں ۔ ایک بڑے چھیپے میں کچریاں اور پھوٹیں (خربوزہ کے مانند ایک پھل جو پک جانے کے بعد درمیان سے عموماً پھٹ جاتا ہے اور شاید اسی لئے پھوٹ کہتے ہیں) بھری ہوئی سر پر رکھے ایک دبلا پتلاشخص آواز لگا رہا ہے۔ محلے کے اندرونی حصے میں پہنچ کر اس نے ایک صاف ستھری جگہ پر سر سے چھیپا اتارکر رکھا، دم لیا اور پھر آواز لگانے لگا۔ چند منٹ گزرے ہوں گے کہ ایک دوسری آواز آئی’’الیاس ! کچری کچری کی ہو جائے۔‘‘ یہ نذیر پہلوان (ڈھلائی کا کارخانہ تھا) تھے، چہکے’’ہاں، ہو جائے ۔‘‘ ٹین کی بالٹیاں اور ٹب بنانے والے بھائی الیاس نے ہاتھ کے اوزاروں کو ایک طرف رکھا، کھڑے ہوکر تہمد جھاڑااور چھیپے کی جانب لپکے۔ دوسری سمت سے نذیر پہلوان بھی آگئے۔ ’’ابے کتنے کتنے کی… سیر سیر بھر ‘‘الیاس بولے،’’نہیں دو دو سیر کی گھر والے پیٹ بھر کر کھالیں گے۔‘‘ دونوں نے ایک ساتھ چھیپے میں ہاتھ ڈالا، ایک دو کچریاں ادھر اُدھر کیں اور پھر نظر سے تولتے ہوئے ایک ایک کچری ہاتھ میں اٹھائی۔ ادھر کچری والے نے اپنے ہاتھ میں چھری سنبھالی، ’’پہلوان کاٹوں۔۔۔‘‘ ’’ہاں بھئی کاٹ، اللہ مالک ہے۔‘‘ کچری تراشی گئی۔ ایک پھانک کاٹ کر پہلون کو دی اور دوسری بھائی الیاس کو۔’’دھت تیری کی ، یہ بیجوں سے میٹھی ہے ، بالکل پھیکی ہے۔‘‘ الیاس مسکرائے’’پہلوان میری کچری دیکھنا انشاء اللہ بیجوں تک میٹھی ہوگی۔‘‘ کچری والے نے دوسری کچری کی بھی قاشیں تراشیں۔ پہلے بھائی الیاس نے چکھی، ’’وہ مارا، پہلوان میں جیت گیا، کھاکر دیکھوپہلوان۔۔‘‘ نذیر پہلوان نے قاش چکھی، ’’تول دے بھئی اسے دو سیرکچریاں، اس کی میٹھی نکلی۔‘‘ نذیر پہلوان اپنی قمیص کی جیجب سے پیسے نکالنے لگے۔ بھائی الیاس نے کارخانے کے لڑکے سے بالٹی منگائی اور کچری والے نے دو سیر کچریاں اس میں ڈال دیں۔ بھائی الیاس نے قریب کھڑے بچوں کو ایک ایک کچری دے کر باقی گھر بھیج دیں۔ جب تک کچری کی فصل رہتی ، دلی والے گلی محلوں میں کچری لڑاتے(مقابلے) ہوتے رہتے ۔
ان دنوں ایسی کچریاں نظر نہیں آتیں، انڈے جیسی بیضوی پیازی رنگ کی دھاریوں والی۔ بتایا جاتا ہے کہ اب ان کی فصل کم ہوتی ہے اور انھیں دوا اور گرم مصالحے کے لئے سکھایا جاتا ہے۔ ان ہی دنوں کی بات ہے ہمارے ایک عزیز کوچہ پنڈت میں رہتے تھے۔ ایک روز ان کے یہاں سے کپڑے کے تھیلے میں آٹھ دس خربوزے آئے۔ سبھی دھاریوں والے لکھنؤ کے خربوزے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ ٹھیلہ بھر خربوزے مقابلے میں جیتے گئے تھے، جس طرح کچریوں کے لڑانے کے مقابلے ہوتے تھے، اسی طرح دلی والے جب جب لکھنؤ کے خربوزے آتے، تو قریبی دوست آشنا یا عزیز یہ شرط لگاتے کہ ان کا منتخب کیا ہوا خربوزہ میٹھا نکلے گا۔ اور پھر خربوزے تراش کر انھیں چکھا جاتا۔ جس کا خربوزہ زیادہ میٹھا ہوتا، وہ مقابلہ جیت جاتا اور مقررہ وزن کے مطابق خربوزے خرید کر ہارنے والا جیتنے والے کو پیش کرتا۔
خربوزوں کی کئی قسمیں ہیں، لیکن عام طور پر دھاری والے لکھنؤ کے خربوزوں کا ہی مقابلے کارواج تھا۔ دلی میں اسی موسم میں تربوز بھی آتا ہے۔ آجکل بڑے سائز کے گول تربوز کے چھوٹے اور قدرے لمبوترے دھاری والے تربوز زیادہ نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مہاراشٹر سے آتے ہیں اور موسم گرما کے علاوہ دوسرے موسم میں بھی دستیاب ہیں۔
ایک وقت تھا جب تربوز کے موسم میں دلی والے اعلی ا لصبح سائیکلوں یا تانگے پر سوار ہو کر جمنا کے کنارے فالیز (خربوزے تربوز وغیرہ کے کھیت) پر جاتے اور وہاں تربوز کا مقابلہ ہوتا۔دو تین شخص اس مقابلے میں شریک ہوتے اور ان کے ساتھی تماشائی یا تربوز چکھ کر زیادہ میٹھا ہونے کا فیصلہ کرنے والے۔ جس کا تربوز مقابلہ کرنے والوں میں سب سے زیادہ میٹھا ہوتا، وہ مقابلے کا فاتح۔ یہ تربوز کئی کئی سیر کے وزنی ہوتے، اس لئے پانچ تا دس تربوز ہی انعام کے لئے مقرر کئے جاتے۔ جیتنے والا بوریاں بھرکر تربوز لاتا اور پھر گھر آکر وہ تربوز کاٹ کر عزیز و اقارب میں تقسیم کئے جاتے۔
ان مقابلوں میں بلا تفریق مذہب و ملت دلی والے شریک ہوتے۔ بڑے ہی نہیں، بچے بھی طرح طرح کے مقابلوں میں حصہ لیتے، شاید کسی ایسے ہی موقع کے لئے کہا گیا تھا ’بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان ا للہ ‘ ۔
1953کی بات ہے ،ہم میونسپل پرائمری اسکول میں پڑھتے تھے۔ یہ اسکول لمبی گلی (سنیما ایکسلسیئرسے گلی شاہ تارا تک جاتی ہے) میں نواب غالب حسن خاںکے مکان سے ملحق حکیم احسن اللہ خاں کی حویلی کا ایک حصہ تھا۔ اسکول کے باہر دو تین خوانچے والے بیٹھے تھے، اسکول میں تفریح(Recess)یا چھٹی کے وقت بچے ان خوانچے والوں کے پاس اکٹھے ہوتے اور بسکٹ توڑنے کا مقابلہ شروع ہوتا۔ آج کے ’’میری بسکٹ‘‘ کی طرح گول مگر پتلے پتلے بسکٹوں کا ایک بنڈل آتا تھا۔ اس میں دس بسکٹ ہوتے تھے۔ ایک بسکٹ دو پیسے اور بنڈل چار آنے (پچیس پیسے) کا، مل جاتا تھا۔ ایک لڑکا ایک بسکٹ خرید کر کسی دوسرے لڑ کے سے کہتا،’’بول کتنے ٹکڑے کروں؟‘‘دوسرا لڑکا مقابلہ کے تیار ہوتا، تو بتاتا کہ دو یاتین ٹکڑے کرو۔ پہلا لڑکا بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر بسکٹ رکھتا اور اسی ہاتھ کی انگلیوں کو کھڑا کرکے ذراجھکاتا، بسکٹ کے نیچے ذراسا گڑھا ہوجاتا ، تب وہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے والی انگلی کو موڑکر ہڈی کے رخ سے ایک خاص انداز میں بسکٹ پر ضرب لگاتا اور بسکٹ کے ٹکڑے ہوجاتے۔ اگرمطلوبہ ٹکڑے ہوتے تو وہ لڑکا مقابلہ جیت جاتا اور دوسرا لڑکا پورا بنڈل خرید کر اسے دیتا۔ اگر اس کے برعکس ہوتا ، تو بسکٹ توڑنے والا ہارتا اور پھر بسکٹ کا پورا بنڈل خرید کر دوسرے لڑکے کو دیتا۔ اس طرح بچوں کے درمیان ایسے ان گنت مقابلے ہوتے۔ بعض لڑ کوں نے بسکٹ توڑنے میں اتنی مہارت حاصل کرلی تھی کہ وہ شرط کے مطابق تین چار تک ٹکڑے کرتے۔ مقابلے کی ایک شرط یہ بھی ہوتی کہ اگر کوئی ٹکڑا چنے سے بڑا ہوتا تو اسے ایک ٹکڑا مانا جاتا۔ اس سے چھوٹے ٹکڑے کو شمار نہیں کیا جاتا تھا۔ آج کے چھوٹے بڑے ان سب مقابلوں سے واقف ہی نہیں۔ اب ان کی دلچسپی کے سامان دوسرے ہیں۔ ہماری عمر کے دلی والے ان باتوں کو پڑھیں گے تو ماضی میں کھو جائیں گے۔ g
جاری

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *