محمد فیروز دہلوی
p-10ہمارے دادا اور نانا دونوں انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ عالیہ، مسجد فتح پوری، دلی سے فارغ تھے۔ تجارت پیشہ، دلی کے شرفا میں شمار ہوتا تھا۔ 1960 میں اللہ کو پیارے ہو ئے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے ان گنت چھوٹے بڑے کارخانہ داروں کو دیکھا تھا، مراسم تھے، خود ہمارے خاندان کے چند بزرگوں کے بھی ٹھپہ گوٹہ کناری کے کارخانے تھے۔
دادا کے انتقال سے چند سال پہلے ہم نے ان سے دریافت کیا کہ ’’دلی میں چند لوگ لفظ بگاڑ کر بولتے ہیں، یہاں تک کہ اچھے خاصے ناموں کو بھی بھونڈے انداز میں ادا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ’یہ کرخنداری زبان‘ ہے۔‘‘ ہمیں ان کا چہرہ آج بھی یاد ہے، جب انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’بیٹے پہلے دلی میں شستہ زبان بولی جاتی تھی۔ روزمرہ اور محاورے کا اہتمام ہوتا تھا۔ پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں ہی دلی کی ٹکسالی زبان بولتے تھے۔ عورتوں کے ہاں ایک خاص نسوانی لہجہ ہوتا تھا۔ البتہ پڑھے لکھے افراد فارسی الفاظ اور اشعار کا استعمال زیادہ کرتے تھے۔ بس یہ سمجھو کہ دلی میں زبان کا بگاڑ اس وقت سے شروع ہوا، جب انگریزوں نے دلی کو دارالخلافہ بنایا اور نئی دلی تعمیر (1911) ہونے لگی، تو روزگار کی تلاش میں گاؤں دیہات سے نوجوان یہاں آنے لگے۔ ان میں سے جو لوگ تعمیراتی کاموں میں کھپ نہیں سکے، انہوں نے دلی کے کارخانوں کی راہ لی۔ دلی والے سدا کے رحم دل، خدا ترس ان بیکار نوجوانوں کو کارخانے میں بھرتی کر لیا۔ یہ لوگ کارخانوں میں کام سیکھتے۔ کارخانوں کی صفائی ستھرائی، دیکھ بھال کرتے۔ دن رات یہیں گزرتے۔ کارخانہ دار نہ صرف یہ کہ ان کو دہاڑی (یومیہ اجرت) دیتے، بلکہ کھانے پینے اور رہن سہن کا بھی خیال کرتے۔ اس کے عوض یہ نوجوان کارخانہ داروں کی خدمت کرتے، گھر کا سودا سلف بھی لاتے۔
باہر سے آنے والے یہ لڑکے بالے بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہوئے آئے تھے۔ شین قاف درست نہیں تھا۔ زبان کے معاملے میں محتاط کارخانہ دار انہیں سمجھاتے اور اور صحیح تلفظ سکھانے کی کوشش کرتے۔ ان سے لفظ کی صحیح ادائیگی نہیں ہوتی اور اصل لفظ کچھ سے کچھ ہو جاتا۔ اس کے علاوہ دلی کے دستکاروں اور کاریگر پیشہ افراد کا یہ المیہ بھی ہوا کہ مشینیں آنے کے بعد ان میں سے بیشتر بیکار ہوگئے۔ بڑھتی عمر کی بناپر مشینیں چلانے میں تامل تھا۔ کارخانے چھوڑ کر گھر میں بیٹھ گئے۔ آمدنی ختم ہوئی، مفلسی کا راج ہوا، گھر کی عورتوں نے اپنے ہاتھ کے ہنر سے بچوں کا پیٹ پالنا شروع کیا۔ زردوزی، کامدانی، کپڑوں کی سلائی اور ایسی ہی دوسری گھریلو دستکاری سے کچھ آمدنی ہونے لگی۔ انھیں لوگوں کے دس بارہ سال کے بچے گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرتے، گلی ڈنڈا کھیلتے نظر آتے، مدرسے اور اسکولوں سے بھاگتے۔ چنانچہ ان لڑکوں کو کارخانے دار کے سپرد کر دیا۔ کچھ کام سیکھیں گے اور پیسے دو پیسے گھر میں آئیں گے۔ یہ لڑکے دیہات سے آئے ہوئے لڑکوں سے گھل مل گئے اور انھیں کے رنگ میں رنگ گئے۔ یہ لوگ کارخانے دار کہنے کے بجائے ’کرخندار‘ کہتے۔ انھیں لوگوں میں سے جب چند نے کام سیکھ کر اپنا چھوٹا موٹا کام شروع کیا، کسی نے کارخانہ کھولا، تو پھر یہ بھی کرخندار ہی کہلائے اور ان کی بگڑی ہوئی زبان کرخنداری!!
بزرگوں سے سنی ہوئی ان باتوں پر بعد میں جب ہم نے غور کیا، تو معلوم ہوا کہ اسے بولنے والے ایک ہی لفظ کو ایک سے زائد تلفظ اور لہجے کے ساتھ ادا کرتے ہیں، مثلاً لُطف کو لُطُف اور کچھ ’’لُفُط‘‘ کہتے ہیں اور کچھ نفت ’’فقرہ‘‘ کو فخرہ اور پھِکرہ اور یہاں تک پھِخرہ بھی سنا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب ایک نے کہا اور دوسرے نے سنا، تو اپنی سماعت کے مطابق ذہن میں محفوظ کر لیا اور بوقت ضرورت اپنے طور پر ادائیگی کی۔ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ان لفظوں کی ادائیگی کے لیے کوئی قاعدہ یا قواعد مقرر نہیں، اس کی ادائیگی کے گُر اور محاورے الگ ہیں، اسی لیے کرخنداری زبان کو ’’نرالی اردو‘‘ بھی کہا گیا۔
دلی کے کرخندار بنیادی طور پر ظریف، بلکہ ’’ستم ظریف‘‘ تھے۔ ان کے ہاں کھانوں کے ساتھ ساتھ زبان کا چٹخارہ بھی تھا۔ ایسے فقرے کستے کہ سننے والا پھڑک جائے۔ ان کی باتیں سنیں، تو افسردہ دل بھی کھل جائے، بسورتی شکلیں مسکرانے لگیں۔ ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی، اس لیے دلی کے بعض سنجیدہ ادیبوں نے کوشش کی ان کی باتیں ضابطہ تحریر میں لائیں۔ ایم اے مغنی کے علاوہ یوسف بخاری اور شاہد احمد دہلوی نے چند مضامین تحریر کیے۔ حضرت آوارہ (آل عبا قادری) مرزا محمود بیگ اور سراج انور وغیرہ نے ریڈیائی فیچر لکھے، جو بے حد مقبول ہوئے۔
1947 سے پہلے کرخنداری اردو پر مبنی گرامو فون ریکارڈ بھی تیار کیے گئے، جن میں کرخنداروں کے مکالموں کی صدا بندی تھی۔ ’’ٹر کی سیر‘‘، ’’پردہ باغ کی سیر‘‘، ’’دو بیویاں‘‘ اور ’’بچہ پیدا ہونے کو ہے‘‘ ایسے ہی گراموفون ریکارڈ تھے، جو خوب مقبول ہوئے۔ ان ریکارڈوں اور دلی سے باہر جانے والے کرخنداروں کے باعث کرخنداری زبان دوسرے علاقوں میں پہنچی اور وہ لوگ جوان کرخنداروں سے واقف نہیں تھے، یہی سمجھنے لگے کہ دلی میں سبھی یہی زبان بولتے ہیں، اسی لیے دلی کے بعض ادیبوں نے دلی کی ٹکسالی زبان اور غیر پڑھے لکھے کرخنداروں کی زبان کا فرق سمجھانے اور بتانے کے لیے مضامین لکھے اور بتایا کہ دلی کی ٹکسالی زبان کیا ہے۔ (بعض ماہر لسانیات نے دلی کی کرخنداری اردو کو اپنی تحقیق کا موضوع بھی بنایا۔ اردو اور انگریزی میں کتابیں بھی شائع ہوئیں۔)
والد محترم نے ایک واقعہ سنایا تھا کہ غازی آباد کے علاقے کا ایک غیر مسلم لڑکا دلی آیا اور فراشخانے میں ایک کارخانے میں کام کرنے لگا۔ دوتین سال تک کام سیکھتا رہا۔ کارخانے میں تار کھینچا جاتا تھا۔ مالک کارخانہ ایک دین دار حافظ صاحب تھے۔ کارخانے میں بیٹھے ہوئے ورد کرتے رہتے تھے۔ ایک روز وہ لڑکا بولا ’’کرخندار آپ جو بولتے رہے ہو، مجھے بھی سکھا دو۔‘‘ حافظ صاحب نے پوچھا ’’بھئی تو کیا کرے گا۔‘‘ کہا ’’میں بھی وَئی بولونگا۔‘‘ بات یہ تھی کہ کارخانہ خوب چلتا تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی اور لڑکا سمجھ رہا تھا کہ جو کرخندار بولتے رہتے ہیں، اسی کی وجہ سے ہے۔ چند دن بعد لڑکا چلا گیا۔ سال دو سال بعد پھر کارخانے آیا اور ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ کرخندار نے ذرا سخت لہجہ اختیار کیا ’’کہاں غائب ہو گیا تھا، اب آیا ہے؟‘‘… ’’کرخندار مافی دو۔ میں جندگی بھر آپ کے چرن دھو دھوکر پیوں گا۔ ذرا دیری کے لیے میرے کرخانے میں پدھاریں، بڑی کرپا ہوگی…‘‘ حافظ صاحب نے تعجب سے کہا ’’کارخانہ!‘‘ … ’’ہاں جی، دو چار کاریگروں کے ساتھ مل کر شاہدرہ میں بنایا ہے۔‘‘ لڑکے نے بتایا۔ ’’بھئی تو نے تو کمال کر دیا۔‘‘ حافظ صاحب نے خوش ہو کر کہا۔ ’’نئی جی کمال تو آپ کا ہے، بس جو آپ بولتے رہتے تھے، میں بھی وہی بولنے لگا… کرمو کرمو کرمو۔‘‘ دراصل، حافظ صاحب ’’یا کریم‘‘ کا ورد کرتے تھے۔ اس لڑکے نے اپنی سمجھ کے مطابق ’کرمو کرمو‘ کہنا شروع کردیا۔ خدا لفظ سے زیادہ نیت دیکھتا ہے، بس اللہ کا کرم ہو گیا اور ایک نوسیکھیا لڑکا کارخانے کا مالک بن گیا۔
اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کارخانوں میں کام کرنے والے کاریگر کس طرح کارخانے داروں پر نظر رکھتے تھے اور ان کے منھ سے نکلنے والے کلمات کو اپنے طور پر ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ شاید اسی طرح کرخنداری یا ’’نرالی اردو‘‘ وجود میں آئی۔
اب چلتے چلتے ’’دلی کے کرخنداروں‘‘ کے یہ مکالمے بھی پڑھ لیجیے اور دیکھیے 1940 کے آس پاس کرخنداروں کی گفتگو کا انداز کیا تھا۔ یہ عبارت پڑھتے وقت زیر اور زبر اور الفاظ کی بدلی ہوئی شکل محفوظ رہے۔
’’صبح کا وقت ہے۔ سات بج رہے ہیں۔ خلیفہ بندو کے مکان پر اُن کے پڑھے لکھے دوست بابو ننھے خاں کھڑے ہیں۔ کنڈی کھٹکھٹاکر اُن کو آواز دے رہے ہیں۔
بابو جی : خلیفہ، اے میاں خلیفہ جی۔
گھر والی: خدا کی سنوار ابھی منہ بھی نہیں دھویا ہے کہ خلیفہ جی کے چہیتے آنے شروع ہو گئے۔ اب میں ننھے کو بہلاؤں یا اِن آنے جانے والوں کی خبر رکھوں … ارے بھئی تم کون ہو؟
بابوجی: میں ہوں ننھے خاں، خلیفہ بندو ہیں۔
گھر والی: وہ تو ابھی سورہے ہیں۔
بابو جی : اُو ہو ابھی تک ! رات کب آئے تھے؟
گھر والی: مالوم نئی، کوئی دو ڈھائی بجے آئے ہوں گے جو روزیانہ آتے ہیں۔
بابو جی: اچھا اُن سے کہنا بابو ننھے خاں آئے ہیں مگر دیکھنا جگانا مت۔
گھر والی: اُٹھنا … اُٹھو … اے اٹھونا تمھارے ننھے خاں آئے ہیں۔
خلیفہ بُندو: وَئی کیا آفیت ہے، کسی وَخت تمارے اس ننھے سے فرصت بھی ملے گی یا نئی۔ جَد دیکھو ننھا ننھا، میں کوئی تمارے لمڈے کا خذمت گار ہوں۔
گھر والی: اے کون کَے رہا ہے کہ تم بچے کو بہلاؤ، کَدِی بہلایا بھی ہے اس نیستی پیٹے کو، خذمت گار تو تماری میں ہوں۔
خلیفہ بندو: خانا خاں میں لڑتی ہو، صبُو ہی صبُو کو سا پیٹی شروع کردی، اِتّا خیال نئی کہ میں رات کو آدھے بجے سویا ہوں۔
بابو جی: یہ کیا بات ہے خلیفہ جی! صبح ہی صبح لڑائی اچھی نہیں ادھر تو آؤ مجھے تم سے ایک کام ہے۔
خلیفہ بندو: اماں کیا بتاؤں بابوجی ہماری گھر والی نے تو ہمارا ناک کی پھُلنگ میں دم کر دیا ہے۔
بابو جی: ارے میاں تم کو تو میں بلا رہا ہوں۔ اس غریب عورت نے تم کو کب جگایا ہے۔
خلیفہ بندو: کچھ نئی جی کچھ نئی، آپ ٹھیریئے ابھی آریہ ہوں دو مِلٹ میں۔ او نیک بَخَت لپک کے زلدی سے ایک پان تو لگا دے بابوجی کو۔
گھر والی: اے آگ لگے اِن بابوجی کے دَم کو، صبُو ہی صبُو آ کے کِل کِل کرادی۔جاؤ نئی ہے پان دان۔ میں کیا تُماری یا وِن کی تنخادار ہوں۔
خلیفہ بندو: اچھا یہ مطبل ہے تو آیندہ تو مجھ سے بات بھی نہ کرئیو بھلا، مجھ سے بھول کر بھی نہ بولیو۔
بابو جی: خلیفہ تم بھی لڑے جاتے ہو میں کہتا ہوں کہ تم ذرا باہر آ جاؤ۔
خلیفہ بندو: ذرا ایک دو چھپکے مار لوں بابوجی ابھی آیا ابھی دو مِلٹ میں۔ اتنے میں اُن کے ایک پڑوسی دوست خلیفہ شمّو اُن کے مکان پر آتے ہیں۔ اُن کے ہاتھ میں تیتروں کا ایک پنجرہ ہے جس پر نورانی نگندوں کا ایک خوبصورت غلاف چڑھا ہوا ہے۔ بابو ننھے خاں سے دروازے پر مُڈبھیڑ ہوتی ہے۔
خلیفہ شمّو : سلاما لیکم جناب! بابو جی مجاز تو اچھے ہیں آپ کے، اور کہئے بال بچے آرام سے ہیں نا آپ کے۔
بابوجی: خدا کا شکر ہے خیریت ہے۔
خلیفہ شمّو: کہئے کیسے تکلیف فرمائی اِس وخَت آپ نے۔
بابوجی: کیا بتاؤں خلیفہ جی اس وقت تو …
خلیفہ شمّو: کہئے کہئے خیریت تو ہے کیا کسی لمڈے نے آپ پر ہاتھ چھوڑ دیا؟ مجھے بتاؤ میں وِس ہرامی کا ابھی نَمدا کَس دوں گا۔
بابوجی: نہیں بھائی یہ بات نہیں ہے۔
خلیفہ شمّو: اچھا فِر اور کیا؟
بابوجی: بات یہ ہے کہ کل خلیفہ بندو نے یہ کہا تھا کہ صبح آنا، شاہ جی کے تالاب چلیں گے، وہاں تیتر لڑیں گے لیکن
خلیفہ شمّو: لیکن کیا شادی کے تلاؤ پر تو ہر جُمّے لڑتے ہیں، بڑے بڑے جنگی جوڑے پہنچتے ہیں، میں بھی تو وَئیں جا ریہ ہوں۔ دیکھنا میرا یہ جِناور کیسا لڑتا ہے، تو فِر چلو نا، بے فضول میں کیوں دیری کریں۔
بابوجی: چلتے ہیں خلیفہ بندو تو آ جائیں۔
خلیفہ شمّو : اچھا میں اب سمجہا آپ وِن کی اِنتظاری میں کھڑے ہیں۔ میں ابھی بلاتا ہوں۔ کیا نام کے کہ خلیفہ بندو ہیں وَئی، کیا کر رہے ہو اندر؟ باہر آؤ نا زلدی سے، میں تو سمجھا کہ تم تلاؤ پر ہو گے۔
خلیفہ بندو: آریہ ہوں بھائی آریہ ہوں ماف کرنا بابوجی آپ کو بے ناق اِتّی دیر کھڑا رہنا پڑا، کیا کروں صبُو ہی صبُو یہ لُگائی پَنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ گئی۔ جَد توڑی گالیاں نہ کھائے سیدھی نئی ہوتی۔
خلیفہ شمّو: پیارے سر پر چڑھانے کا یہی نتیجہ ہے ہماری جوزہ کی مجال نہیں جو ہوں کرے۔
بابوجی: اچھا بھئی خلیفہ اب چلو کہیں پالی کا وقت ختم نہ ہو جائے۔
خلیفہ شمّو: بہت ٹھیک صلاّ ہے۔ بابو جی، مگر یہ تو بتاؤ کہ تلاؤ پہ چلوگے کِس طریاں۔
خلیفہ بندو: وَئی خلیفہ سُنو، میں بتاؤں سر نیچو اور ٹانگیں اوپر کر لو ایک پَل میں پہنچ جاؤ گے۔
خلیفہ شمّو: یار تم تو مذاخ کرتے ہو۔
خلیفہ بندو: بڑی مشکلوں کی بات ہے تم میرا اقین نئی کرتے اچھا آؤ، بازار توڑی تو چلو۔
تینوں جامع مسجد پر پہنچتے ہیں۔ تانگے والے اِدہر اُدہر پھر رہے ہیں اور چیخ چیخ کر سواریاں تانگے میں بٹھا رہے ہیں۔‘‘ g
(تحریر: سید یوسف بخاری دہلوی، مرحوم)
………………………………………………(جاری…)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here