بی جے پی کی مغربی بنگال ریاستی یونٹ کے صدر اور ممبر اسمبلی دلیپ گھوش نے پابندی کے باوجود تلوار لے کر رامنومی پر ہفتہ کو نکالی گئی شوبھا یاترا میں حصہ لیا۔ یہ شوبھا یاترا ان کے اسمبلی حلقہ کھڑگ پور میں نکالی گئی تھی۔ وہ لوک سبھا انتخابات میں مدنا پور علاقے سے امیدوار بھی ہیں۔
 
Image result for Dilip Ghosh
انتظامیہ کی پابندی کے باوجود تلوار لے کر شوبھا یاترا میں شامل ہونے کے سوال پر گھوش نے کہا کہ ہتھیار لے کر چلنے سے کس نے روکا ہے؟ اسلحہ جرائم کی تباہی کی علامت ہے۔ الیکشن کمیشن آئے گا اور جائے گا، لیکن بھگوان رام ابدی ہیں۔ ہمارا ملک بھی ابدی ہے۔ یہ ہماری ثقافت ہے۔ اس سے منہ نہیں موڑ سکتے۔ بھگوان رام کے لئے یہ کرنا ہی ہوگا۔
 
Image result for Dilip Ghosh
قابل ذکر ہے کہ رامنومی پر اسلحہ پوجا اور تلوارو بھالا وغیرہ لے کر شوبھا یاترا نکالنے کا اصول رہا ہے، لیکن مغربی بنگال حکومت نے شوبھا یاترا یا ریلی میں کسی بھی طرح کے ہتھیار لے کر چلنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔ گزشتہ سال بھی دلیپ گھوش نے اسی طرح سے تلوار ہاتھ میں لے کر شوبھایاترا نکالی تھی، تب پولیس نے ان کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔حالا نکہ گھوش نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اس سال بھی وہ تلوار لے کر شوبھا یاترا میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر رامنومی کی شوبھا یاترا کو روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here