دلی اور دلی والے

Share Article

محمد فیروز دہلوی
اس سے پیشتر ’’دلّی کی آوازوں‘‘ کے تعلق سے لکھا تھا کہ کس طرح عہد شاہجہانی سے کچھ عرصہ پہلے تک شاہجہاں آباد کے گلی کوچوں میں سودا بیچنے والے کیسی کیسی صدائیں لگاتے تھے۔ اسی ضمن میں یہ واقعہ یاد آیا کہ حکیم ناصر نذیر فراقؔ (مصنف لال قلعہ کی ایک جھلک) بیان کرتے ہیں کہ ’’اکبر ثانی کے حضور میں پرچہ گزرا کہ آج شاہ جہاں آباد میں شہر والوں نے کھُٹ بُنوں کو خوب مارا پیٹا، کیوں کہ کھٹ بنوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ شہر میں پھیری پھرنے آتے ہیں، تو آواز لگاتے ہیں، ’کھاٹ بنا لو، کھاٹ بنا لو کھاٹ‘۔ شہر والوں نے کہا، نکلے تمہاری کھاٹ۔ یہ کیا بری فال منھ سے نکالتے ہو۔ پھر جو انہیں پیٹا تو پیٹتے پیٹتے جھلنگا بنا دیا اور اس ٹکسال باہر لفظ سے توبہ کروائی اور سمجھایا کہ بجائے کھاٹ بُنا لو کے چارپائی بنا لو کہا کرو۔ چنانچہ جب سے اب تک کھٹ بُنے چار پائی بُنا لو‘  کہتے ہیں۔ اس تکلف و تنبیہ اور تدبیر سے اردوئے معلی کو سنوارا گیا ہے ، اور جگہ اردو کو چار چاند نہیں لگ سکتے …‘‘اس ایک واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اہلِ دلی زبان کے معاملے میں کتنے محتاط تھے۔ خلاف روز مرہ و محاورہ بات سننا پسند نہیں تھا۔ ٹکسال باہر کوئی لفظ با محاورہ سنا، فوراً ٹوک دیا۔ اٹھارویں صدی کے مشہور شاعر میر تقی میرؔ جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بولی جانے والی زبان کو سند مانتے تھے۔ دورِ شاہی سے دورِ جمہور تک صدیاں گزریں، لیکن دلی والوں نے زبان کی پاسداری کی۔ ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد اِدھر کی آبادی اُدھر ہوئی اور ہندو، مسلمان ، سکھ مہاجر اور شرنارتھی کہلائے، تو دلی کی آبادی، جو کبھی ’’خالص‘‘ تھی، اب ’’تخالص‘‘ ہو گئی اور دلی کی ٹکسالی زبان پر بھانت بھانت کی بولیوں کا سایہ پڑنے لگا۔ آبادی کے ساتھ ساتھ زبان بھی ’’کھچڑی‘‘ ہو گئی، ایسی کھچڑی، جس میں دال چاول کے ساتھ کنکروں کی بھی آمیزش تھی۔ دلی کے چند گھرانے تھے، جنہوں نے اقدار اور قدیم روایات کا دامن تھام رکھا تھا اور نہیں چاہتے تھے کہ ان کے اہل و عیال پر ’’بد روحوں‘‘ کا سایہ پڑے۔
پچپن چھپن سال پہلے، جب یہ خاکی اینگلو عربک ہائر سیکنڈری اسکول میں پڑھتا تھا، تو گلی شاہ تارا سے اجمیری دروازے تک سڑک کی دونوں جانب موچیوں کی دوکانیں تھیں، ان میں بعض مسلمان دوکاندار جوتے فروخت بھی کرتے تھے اور سلیم شاہی جوتیاں، عورتوں اور مردوں کی چپلیں اور سینڈل بناتے بھی تھے۔ ان میں بیشتر حافظ قرآن تھے اور ان کی دوکانوں میں بچے بیٹھ کر کلام پاک حفظ بھی کرتے تھے۔ چونکہ ہمارے دادا حافظ محمد یوسف صاحب کا شمار دلی کے معروف حفاظ میں ہوتا تھا، اس وقت ان کی عمر یہی اٹھاسی نواسی سال تھی، ضعیفی کے باوجود صبح اسکول چھوڑنے آتے اور دوپہر کو چھٹی کے وقت واپس لینے آتے۔ اکثر دوکاندار انہیں سلام کرتے۔ مزاج پرسی اور رسمی گفتگو ہوتی۔ ایک بار جولائی کی چھٹیوں کے بعد جب اسکول شروع ہوا، تو معمول کے مطابق دوپہر کو دادا جان اسکول آئے۔ میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ گلی شاہ تارا سے کچھ پہلے ایک دوکاندار کی آواز آئی، حافظ صاحب اس بھری دوپہر میں، لو چل رہی ہے، ٹھنڈا پانی پی لیں۔ اس وقت ایک دو دوکانوں کے بیرونی پٹڑوں پر پانی کے مٹکے رکھے ہوتے تھے، راہگیر اور دوکاندار ان کا پانی پیتے۔ دادا جان مٹکے سے ہٹ کر تختے پر ٹک گئے۔ دوکاندار، جو خود حافظ تھے، دوکان کے اندرونی حصے میں گئے، دو قلعی دار تانبے کے کٹورے لائے، مٹکے سے پانی نکالا۔ پہلے ایک کٹورہ مجھے اور دوسرا دادا جان کو دیا۔ پانی پی کر کٹورے واپس کیے ہی تھے کہ دوکاندار بولے، حافظ صاحب! اب تو آپ کا پوتا ماشا ء اللہ بڑا ہو گیا ہے، خود اسکول آ جا سکتا ہے۔ آپ اس عمر میں اسکول لاتے لے جاتے ہیں …‘‘ نہیں بھائی، اب دلی پہلی جیسی نہیں رہی۔ میں نہیں چاہتا میرے بچوں کی زبان بگڑے، اس لیے خود آتا ہوں۔ ان کے ابا صبح سے گئے رات کو دوکان سے واپس آتے ہیں۔ ’’حافظ صاحب! آپ صحیح کہتے ہیں۔ ہم بھی صبح سے شام تک یہاں بیٹھے اونگی بونگی بولیاں سنتے رہتے ہیں …‘‘ دوکاندار نے تائید کی۔لڑکپن کی سنی ہوئی یہ بات آج تک یاد ہے۔ 1960 میں دادا جان کا انتقال ہوا۔ اس وقت تک ہمارے گھر میں یہ معمول تھا کہ کوئی بچہ گھر کے باہر نہیں رہتا تھا۔ اسکول سے آنے کے بعد دوپہر کا کھانا، ظہر کی نماز ادا کرکے عصر تک قیلولہ، عصر کی نماز کے بعد اسکول کا ہوم ورک کرتا۔ جمعہ کی نماز کے لیے دادا جان جامع مسجد آتے اور ہمیں ساتھ لاتے، کبھی تنہا نہیں آنے دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تادمِ تحریر کوئی کلمہ بد زبان سے ادا نہ ہو سکا، نہ کسی سے دست و گریبان ہوئے۔ گلی محلے کے بچوں کے ساتھ کھیل کود اور کوئی شرارت نہ کر سکے۔ بڑے ہوئے، شادی ہوئی، تو اہلیہ کے بھائی بہنوں کے رشتے کے نام لینے میں ایک تکلف تھا۔ یہ نام ہمیشہ ایک ’’گالی‘‘ ہی نظر آئے۔ ہمیشہ برادرِ نسبتی یا اہلیہ کی چھوٹی، بڑی بہن ہی کہا۔ کبھی کبھی کچھ لوگ کہہ بھی دیتے کہ ’’میاں سیدھا سیدھا نام کیوں نہیں لیتے۔‘‘ بہرحال، اس سب سے یہ بتانا مقصود تھا کہ گھر کے بڑے کس طرح بچوں کی تربیت کرتے، بول چال، رہن سہن، کھانے پینے پر نظر رہتی۔ کسی نہ کسی بات پر ٹوکتے، اصلاح ہوتی اور پھر کوئی بچہ وہ غلطی نہیں دوہراتا۔ آج کی نئی نسل تو شتر بے مہار ہے، نہ بڑوں کو احساس، نہ چھوٹوں کو پروا۔
1950 تک دلی میں اتنی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان ہجرت کرنے والوں پر کیا گزری، اس کا خمیازہ ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ اُدھر سے آنے والے شرنارتھی دیکھتے ہی دیکھتے دس بارہ سال میں یہاں رچ بس گئے۔ کچھ بدلے اور کچھ نے بدل دیا۔ آزادیٔ وطن اور ملک کی تقسیم سے پہلے تحریک آزادی کے ہنگاموں کے باوجود دلی کا ادبی منظر نامہ روشن تھا۔ داغؔ دہلوی کے چار اہم شاگرد نواب سائل دہلوی، بیخود دہلوی، آغا حشر دہلوی اور پنڈت تربھون ناتھ زار دہلوی کے علاوہ ساحر دہلوی کے دم سے دلی شہر شعرو ادب کا مسکن تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل سے نصف صدی سے کچھ پہلے تک میر ناصر علی، ناصر نذیر، فراق، راشد الخیری، ملا واحدی، خواجہ حسن نظامی، پنڈت برج موہن دتا تریہ کیفی، خواجہ محمد شفیع، آصف علی بیرسٹر، اشرف صبوحی، شاہد احمد دہلوی، آغا طاہر، آغا اشرف، فضل حق قریشی، ظفر قریشی، رازق الخیری، صادق الخیری، تابش دہلوی، انصار ناصری اور اخلاق دہلوی ادبی محفلیں بپا کرتے۔ متعدد علمی، ادبی، نیم ادبی، مذہبی اور خواتین کے لیے بھی جرائد کثیر تعداد میں شائع ہو رہے تھے۔ خواص ہی نہیں، عوام میں بھی شعر و سخن کے چرچے تھے۔ ہر چند کہ مغربی تہذیب کے سائے گہرے ہونے لگے تھے، تاہم بقول خواجہ محمد شفیع ’’اس شہر کے باشندوں کے طبائع پر سے ابھی پرانا رنگ نہیں اترا تھا نیز نیا انداز بھی پورا رنگ نہیں جما سکا، اس لیے بازاروں میں تجارتی انداز کے ساتھ ساتھ شاعرانہ چاشنی پائی جاتی ہے …‘‘اسی شاعرانہ چاشنی کی بدولت دلی کے بعض دوکاندار اپنے اپنے کاروبار کو چمکاتے، دوکانوں کے اندرونی حصے میں اشعار، موزوں ناموزوں مصرعے (تک بندی) طغروں میں آویزاں ہوتے، جن کی خطاطی اور مصوری راہ چلتے لوگوں کے قدم روک لیتی۔ وہ انہیں دیکھتے، پڑھتے اور متعلقہ دوکاندار کے ادبی ذوق کی داد دیتے۔ ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے ہم بھی ایسی دوکانوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔پرانی دلی کے بازار لال کنویں پر ایک برف فروش کی دوکان تھی۔ اس کی دوکان میں ایک طغرے میں یہ شعر لکھا ہوا تھا :
برف ہے یا کسی معشوق کے گھر کی سِل ہے
لگ کے سینے سے یہ کرتی ہے کلیجا ٹھنڈا
کسی نے پوچھا کہ بھائی یہ شعر کس کا ہے؟ برف فروش بولا، سامنے گلی قاسم جان سے ایک سفید داڑھی والے بزرگ برف لینے آتے تھے، ہم نے ان سے یوں ہی کہہ دیا کہ چالیس دن ہماری برف سے دل ٹھنڈا کر لیں، اللہ نے چاہا تو داڑی کے بال چاندی سے زیادہ چمکنے لگیں گے۔ وہ بولے، میاں چاندی تو پہلے ہی ہے، سونے کے ہو جاتے تو اچھا تھا۔ ہفتہ بھر بعد آئے، تو اپنے ساتھ یہ طغریٰ لائے اور کہا، سامنے لگا دو پھر اس کی کرامت دیکھنا، جو برف نہیں بھی خریدتا، وہ کئی کئی سیر آ کے لے گا اور بھائی خدا جھوٹ نہ بلوائے، جب سے یہ طغریٰ لگایا ہے، دو چار سلیاں زیادہ ہی بک جاتی ہیں۔کٹرہ بڑیان سے آگے فتح پوری مسجد کے دروازے کے سامنے کھانے کا ایک ہوٹل تھا، جو پشاوری کا ہوٹل کہلاتا تھا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ ہوٹل کا مالک جس جگہ خود بیٹھتا تھا، اس کی نشست سے کچھ اوپر سنہری چوکھٹے میں یہ شعر لکھا ہوا تھا:
ایک چپاتی کے ورق میں سب ورق روشن ہوئے
اک رکابی میں ہمیں چودہ طبق روشن ہوئے
دلی میں جب چائے کا رواج ہوا، تو اردو بازار (جامع مسجد) کے چائے خانے میں یہ شعر پڑھنے کو ملا :
مریضانِ محبت کو ہماری چائے کافی ہے
صدا دیتی ہے یہ پیالی پیو، اللہ شافی ہے
اور کچھ دن بعد مٹیا محل میں ایک نئے ریسٹوراں کی دیوار پر لکھے ہوئے یہ اشعار لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے :
قدردانی کیجیے کچھ مہربانی
یہ ہوٹل آپ کی گویا دکاں
حلوا گاجر کا ہے اور بسکٹ نفیس
کیک انڈہ چائے ہے ایسی کہاں
موسمِ سرما کا میوہ ہے یہی
یہ بنا دیتا ہے بڈھوں کو جواں
وصف میں کوئی کسی سے کم نہیں
الغرض ہر چیز ہے اعلیٰ یہاں
آئیے تشریف جلدی لائیے
کیجیے اک بار کھا کر امتحاں
جامع مسجد کے جنوبی دروازے سے جب مغربی سمت میں جائیں گے، تو یہاں 1975 سے پہلے چند کبابیوں کی دوکانیں تھیں، جن میں مِستا کبابی کے کباب مشہور تھے، اس کے بعد میرٹھ کے ایک کبابی کی دوکان تھی اور پھر آگے چل کر بریلی کا ایک پرانا کبابی تھا۔ اس دوکان کے سائن بورڈ پر لکھا ہوا تھا :
کبابِ سیخ ہیں ہم کروٹیں ہر دم بدلتے ہیں
جو جل اٹھتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں
کسی ستم ظریف نے سیخ کے ’س‘ پر تین نقطے لگا دیے۔ اب لفظ سیخ، شیخ ہو گیا۔ لوگوں نے کباب فروش کو توجہ دلائی، تو وہ بولا، ہمارا کوئی جاننے والا ہی ہوگا، ہم بریلی کے شیخ ہیں۔محلہ رودگران میں ایک پان والے تھے۔ شعری ذوق کے مالک، بذلہ سنج اور بلا کے حاضر جواب۔ کوئی پان کھانے آتا اور کہتا کہ کم چونے بنا تمباکو کے بنا دیں، تو ناریل چٹخ جاتا اور تیز لہجے میں کہتے، یہاں بنتے نہیں لگائے جاتے ہیں، چھوٹے بڑے کئی پڑے ہوئے ہیں، فرمائیے دو لگادوں یا چار۔ سمجھدار ہوتا، تو اس طنزیہ فقرہ پر مسکرا کر پان لگانے کے لیے کہتا اور نا سمجھ پھر بنانے کے لیے کہتا، تو وہ ہاتھ روک، پیک تھوک کر کہتے، بھلے آدمی کوڑیا پل زیادہ دور نہیں، فوراً وہاں چلے جائیے، آپ کے سائز کے بن جائیں گے۔ (پرانی دلی ریلوے اسٹیشن کے قریب بازار کوڑیا پل پر موچیوں کی دوکانیں تھیں، اسی طرف ان کا اشارہ تھا)۔ پان کھانے والوں کے ساتھ اگر کوئی پان نہ کھانے والا ہوتا، تو ترنم سے یہ شعر گنگناتے :
پان کہتا ہے کہ میں سوکھ کر مر جاؤں گا
گر لبِ یار منھ نہ لگایا تو نے
سنا ہے کہ لاہور (پاکستان) میں بھی کسی پان فروش کی دوکان پر یہی شعر نظر آیا۔ انھیں پان فروش کی ایک اور ادا تھی، جب کوئی شناسا پان کھا کر پیسے نہ دیتا اور کہتا ادھار رہے، تو دیوار پر لٹکی ہوئی فصلی (دفتی، وہ کاغذ جس پر خوش نویس مشق کرتے تھے) کی جانب اشارہ کرتے، جس پر یہ قطعہ لکھا ہوا تھا:
شوق سے آؤ خریدو نقد جو درکار ہے
قرض کی امید پر آنا یہاں بیکار ہے
رنج کی بنیاد تو ہم سے نہ ڈالی جائے گی
قرض جب مانگو گے حضرت بات ٹالی جائے گی
اسی طرح جامع مسجد، چاؤڑی بازار، لال کنواں، چاندنی چوک، صدر بازار کی بیشتر دوکانوں پر اس طرح کے شعر نظر آتے تھے :
قرض دینے کا یہاں اس لیے دستور نہیں
آپ سے ترکِ محبت ہمیں منظور نہیں
قرض ہے مقراضِ الفت اور محبت فرض ہے
قرض سے پرہیز کیجیے بس یہی اک عرض ہے
ہے یہ بات اصول کی
بس آج نقد کل اُدھار
اصول کی بات سمجھ لے یار
آج نقد کل اُدھار
لال دروازہ (سر کی دالان) کے سامنے بانس والے پھاٹک اور کوچہ پنڈت کے درمیان ایک مسلمان پان والے تھے۔ دوکان کے اندر الماری کے دروازے پر ایک آئینہ لگا ہوا تھا، جس پر کسی پینٹر نے سرخ روغن سے یہ شعر لکھا تھا :
یوں تو ہر وقت جان حاضر ہے
لیکن اِس وقت پان حاضر ہے
حوض قاضی کے سامنے سبزی منڈی تھی۔ باہر پھل فروشوں کی دوکانیں تھیں۔ انہیں دوکانوں سے آگے چاؤڑی بازار جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر ایک مسلم عطر فروش کی دوکان تھی، جس میں عطر ہی نہیں، سر کے بالوں میں ڈالنے والے طرح طرح کے تیل، سرمہ، مہندی اور سہاگ پڑے بھی فروخت ہوتے تھے۔ دوکان میں طرح طرح کے طغرے تھے۔ ایک طغرے کا شعر تھا:
سرمہ نورِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ مزیدار پہ احساں میرا
دوسرے طغرے میں مہندی کی خوبی بیان کی گئی تھی :
مہندی نے غضب دونوں طرف آگ لگا دی
تلووں میں اُدھر اور اِدھر دل میں لگی ہے
پرانی دلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں گیارہ بارہ بجے دن سے رات گئے تک دیگوں اور پتیلوں میں بریانی فروخت ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے وقت بازار مٹیا محل میں حویلی صدرالصدور کے باہر ایک صاحب نے سب سے پہلے ایک بڑے پتیلے میں بریانی بیچنا شروع کی۔ جہاں بریانی بیچتے ہیں، پشت پر دیوار میں ٹین کے ایک بورڈ پر یہ شعر لکھوا کر لٹکایا :
حسینوں نے ہماری عمر بھر یہ بات نہ مانی
جوانی پھر آ جائے گی کھائے جاؤ بریانی
اسی علاقے کے ایک دودھ بیچنے والے بھی کیوں پیچھے رہتے۔ کسی شاعر کے عطیے کے باعث ان کے دودھ کی خوب شہرت ہوئی:
یوں تو ہر شخص کو دعویٰ ہے زباں دانی کا
گرم بازار ہے نقارۂ لسانی کا
پر کھرے کھوٹے کی ہوتی ہے تمیز
لب کو آتا ہے مزہ دودھ کا پانی کا
گلی قاسم جان میں ایک حجام کی دوکان میں یہ شعر لکھا ہوا تھا :
اصلاحِ گیسو یا زلف کی زینت
ہم ہیں حاضر بہرِ خدمت
دلی کے چند بزرگ بتاتے تھے، 1947 سے پہلے علاقہ سبزی منڈی میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی تھی۔ ملکہ گنج کے باہر تجہیز و تکفین کے سامان کی ایک دوکان تھی۔ دوکاندار جتنی دیر تھان سے کفن کا کپڑا کاٹتا، خریدار دوکان میں لگے ہوئے طغرے پڑھتے :
اپنی ہستی کو غم و درد و مصیبت سمجھو
موت کی قید لگا دی ہے غنیمت سمجھو
یہ چھن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے
دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ
کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے
دلی بدل گئی، دلی کے دوکاندار بدل گئے، نہ سخنور ہے، نہ سخن شناس۔ ہر طرف تجارت ہے۔ ’متاعِ شوق‘ اب جنسِ کوچہ بازار ہے۔ جیسے شعر کہنے والے، ویسے ہی سمجھنے والے۔ مشاعرہ کیا ہے، سرکس کا تماشا اور سامعین محض تماشائی۔ مکرر ارشاد، سبحان اللہ، ماشاء اللہ کی صدائیں قصۂ پارینہ، تالیوں کا بے ہنگم شور اور ہائے ہو۔ ناظم مشاعرہ غیر سنجیدہ، لطیفہ گو، مشاعروں کے کاروباری متشاعر داد کے بھکاری۔ داد نہ ملنے پر قیامت کے دن دامن پکڑنے کا اعلان۔ اللہ اللہ۔ میرؔ و غالبؔ کی دلی کو اب یہ دن بھی دیکھنے تھے۔
………………………………جاری

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *