p-10bاعظم گڑھ ریلی میں مسلمانوں کو بہلانے کے لئے مایا وتی نے کہا کہ بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے معاملوں میں جھوٹا پھنسایا جاتاہے۔ مایاوتی کا یہ بیان صرف انتخابی جملہ ہے۔یہ مشہور ہے کہ مایاوتی کے 2007والے دور حکومت میں سب سے زیادہ بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے معاملوں میں پھنسایا گیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ مایا وتی کے دور حکومت میں گورکھپور کے تین بم دھماکوں (22مئی 2007)سمیت وارانسی کچہری دھماکہ (23نومبر 2007) ،فیض آباد کچہری دھماکہ (23نومبر 2007) اور لکھنؤ کچہری دھماکہ (23نومبر 2007) میں کئی مسلمان بے وجہ پھنسائے گئے تھے۔
اس حقیقت کی توثیق اس بات سے ہوتی ہے کہ 2008 میں جب دہشت گردی کے معاملوں میں انڈین مجاہدین گروپ کے کچھ لوگ دیگر ریاستوں میں پکڑے گئے تھے تو انہوں نے یہ قبول کیا تھا کہ اتر پردیش میں مذکورہ بم دھماکہ انہوں نے کئے تھے۔ اس کی اطلاع اتر پردیش پولیس کو بھی حاصل ہو گئی تھی لیکن اس سے پہلے ہی اترپردیش پولیس ان معاملوں میں دوسرے لوگوںکو پکڑ کر جیل بھیج چکی تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اتر پردیش پولیس کے ذریعہ ان بے قصور لوگوں کو ضمانت پر چھڑا دینا چاہئے تھا اور صحیح مجرموں کو پکڑنا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہی بے قصور لوگوں میں خالد مجاہد بھی تھا جس کی بعد میں فیض آباد سے بارہ بنکی عدالت میں پیشی پر لاتے وقت مشتبہ حالت میں موت ہو گئی تھی۔ ان الزامات میں بند کئے گئے کچھ لوگ حال میں چھوٹ گئے ہیں اور زیادہ تر ابھی بھی جیلوں میںسڑ رہے ہیں۔ بہر کیف اعظم گڑھ ریلی میں مایاوتی کا بیان اگر صحیح ہے تو اس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار مایا وتی ہی ہیں۔
2007 میں جب مایا وتی اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ بنی تھیں تو اسی وقت دلی میں بٹلہ ہائوس مڈبھیڑ واقعہ ہوا تھا۔ اس مڈبھیڑ میں اعظم گڑھ کے تین لڑکے مارے گئے تھے اور اعظم گڑھ کو دہشت گردی کی نرسری اعلان کر دیا گیا تھا۔ اس پر جب اتر پردیش پولیس کے بارے میں یہ کہاجانے لگا کہ دوسری ریاستوں کی پولیس اتر پردیش سے دہشت گردوں کو گرفتار کرکے لے جارہی ہے لیکن اترپردیش پولیس کچھ نہیں کررہی ہے تو اس پر اتر پردیش نے بھی فرضی مڈبھیڑ کی ایک اسکیم بنائی۔ اس میں 4/5 اکتوبر 2007 کی رات میں فوج اور پولیس کے ذریعہ مل کر فوج کے دفتر پر لکھنو چھائونی میں فرضی دہشت گردانہ حملہ دکھانے کی اسکیم بنائی گئی۔ اس مڈبھیڑ میں فوج اور پولیس کو شامل ہونا تھا اور دو کشمیری دہشت گردوں کو مار گرایا جانا تھا۔ کسی طرح اس سازش کی خبر سماجی کارکن سندیپ پانڈے کو مل گئی۔ انہوں نے ایک سروس سے ریٹائر پولیس ڈائریکٹر جنرل سے اسے رکوانے کی اپیل کی۔ پھر فوری پولیس ڈائریکٹر جنرل سے بات چیت کی اور مذکورہ فرضی مڈبھیڑ کو رکوانے کے لئے اپیل کی گئی۔ سندیپ پانڈے نے اس کے بارے میں رات میں ہی پریس کو مطلع بھی کر دیا تھا۔ مڈبھیڑ تو ٹل گئی لیکن انٹی ٹیریرسٹ اسکوائڈ نے سندیپ پانڈے کو پوچھ تاچھ کے لئے کئی بار اے ٹی ایس دفتر بلایا تھا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ جن دو کشمیری لڑکوں کو لکھنو میں فرضی مڈبھیڑ میں مارے جانے کی تیاری تھی،انہیںبعد میں 25جنوری 2008 کو دلی غازی آباد بارڈر پر مار گرایا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی شکل میں مایا وتی نے مسلمانوں کو کتنی سیکورٹی دی تھی اور کتنا انصاف دیا تھا۔ مایاوتی کے سخت انتظامیہ کی یہی توضیح ہے۔

دہشت گردی کے معاملے میں مایاوتی کے یکطرفہ نقطہ نظر کا حال یہ تھا کہ کانپور بم دھماکے کے معاملے میں قصورواروں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 23اگست 2008 کو ہوئے اس واقعہ میں بجرنگ دل کے دو کارکن بم بناتے وقت مارے گئے تھے۔ موقع سے بم بنانے کا بہت سا سامان بھی ملا تھا۔ اس معاملے میںپولیس نے اسے صرف ایک حادثہ مان کر اس کے پیچھے کے گروہ کا پتہ لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔بعد میں یہ بھی پتہ چلا تھا کہ جنم اشٹمی کے موقع پر مندر میں بم دھماکہ کرکے مسلمانوں کے خلاف ماحول پیدا کرنے کی سازش چل رہی تھی۔ لہٰذا اب جو مایا وتی یہ کہہ رہی ہیں کہ بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے معاملوں میں جھوٹا پھنسایا جاتاہے تو اس کے لئے وہ خود سب سے زیادہ قصوروار ہیں کیونکہ ان کے وقت میں ہی اتر پردیش میں سب سے زیادہ بے قصوروار مسلمان نوجوان دہشت گردی کے معاملوں میں پھنسائے گئے تھے۔

مایاوتی کے دورحکومت میں ہی 6فروری 2010 کو سیما آزاد اور اس کے شوہر کو الٰہ آباد میں مائو وادی ہونے کے الزام میں گرفتار کیاگیا تھاور ان پر سنگین مجرمانہ الزامات کے ساتھ ساتھ ملک سے غداری کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ سیما آزاد ایک صحافی اور سماجی کارکن بھی ہیں، سیما آزاد پی یو سی ایل اتر پردیش کی آرگنائزیشن سکریٹری بھی ہیں۔انہوں نے الٰہ آباد میں بالو کی غیر قانونی کانکنی کرنے والے مافیا کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ سیما نے مایاوتی کے محبوب پروجیکٹ گنگا ایکسپریس وے کے لئے زبردستی زمین تحویل کئے جانے کی بھی سخت مخالفت کی تھی۔ اس وجہ سے اور بالو مافیا کے اشارے پر سیما آزاد کو مائو وادی کہہ کر گرفتار کیا گیا۔ اسے کئی سال تک جیل میں رہنا پڑا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے سیما آزاد اور اس کے شوہر کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے جس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل چل رہی ہے۔ اس واقعہ سے بھی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مایاوتی نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کانکنی مافیا کے اشارے پر کس طرح سماجی کارکنوں کو خوفزدہ کیا۔ سیما آزاد کے معاملے میں جب پی یو سی ایل کے ایک وفد نے مایا وتی کے ایک قریبی ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل ( جرائم ) برج لال سے جو اَب بی جے پی میں چلے گئے ہیں، ملنے کا وقت مانگا تو انہوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ آپ لوگ تو مائووادیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
دہشت گردی کے معاملے میں مایاوتی کے یکطرفہ نقطہ نظر کا حال یہ تھا کہ کانپور بم دھماکے کے معاملے میں قصورواروں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 23اگست 2008 کو ہوئے اس واقعہ میں بجرنگ دل کے دو کارکن بم بناتے وقت مارے گئے تھے۔ موقع سے بم بنانے کا بہت سا سامان بھی ملا تھا۔ اس معاملے میںپولیس نے اسے صرف ایک حادثہ مان کر اس کے پیچھے کے گروہ کا پتہ لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔بعد میں یہ بھی پتہ چلا تھا کہ جنم اشٹمی کے موقع پر مندر میں بم دھماکہ کرکے مسلمانوں کے خلاف ماحول پیدا کرنے کی سازش چل رہی تھی۔ لہٰذا اب جو مایا وتی یہ کہہ رہی ہیں کہ بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے معاملوں میں جھوٹا پھنسایا جاتاہے تو اس کے لئے وہ خود سب سے زیادہ قصوروار ہیں کیونکہ ان کے وقت میں ہی اتر پردیش میں سب سے زیادہ بے قصوروار مسلمان نوجوان دہشت گردی کے معاملوں میں پھنسائے گئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here