فلم ’پدماوت‘ کی مخالفت میں دگوجے سنگھ اوروی کے سنگھ بھی کودپڑے

Share Article
vk-singh-digvijay-singh
ڈائریکٹرسنجے لیلابھنسالی کی فلم ’پدماوت‘ بھلے ہی تمام رکاٹوں کوپارکرتے ہوئے ملک بھرکے سنیماگھروں میں دستک دے دی ہو، مگرمظاہرین کے تیور وں میں کوئی بدلاؤ نہیں آیاہے۔ وہیں اس فلم پربھی سیاست جاری ہے۔کچھ ہستیاں اس کے حمایت میں ہیں تو کچھ کھل کراس کے خلاف سامنے آئے ہیں۔
فلم پدماوت کی مخالفت میں مرکزی وزیر جنرل وی کے سنگھ اور کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ جنرل سنگھ نے کہا کہ جب چیزیں رضامندی سے نہیں ہوتی ہیں تو وہاں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا اظہار رائے کی آزادی تاریخ کو مسمار کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ جو مخالفت کر رہے ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر اس کو حل کیا جائے۔ جب چیزیں رضامندی سے نہیں ہوتی ہیں تو پھر اس میں گڑبڑی ہوتی ہے‘‘۔
دگ وجے سنگھ نے بھی فلم کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی ہے کہ حقائق سے پرے تاریخ کو نہیں دکھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا’’ کسی بھی مذہب اور ذات اور تاریخی حقیقت سے ہٹ کر فلمیں نہیں بننی چاہئیں۔ اگر اس سے کسی ذات یا مذہب کو ٹھیس پہنچتی ہے تو ویسی فلمیں نہیں بننی چاہئیں‘‘۔
وہیں، قومی راجدھانی دہلی میں فلم پدماوت کے خلاف مظاہرہ کے مدنظر سنیماگھروں کے اردگرد سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ راجدھانی کے کئی علاقوں میں گزشتہ روز ہوئے مظاہرے کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی لگا دی گئی ہے۔ یہاں کئی سنیما گھروں کے باہر کل سے ہی کثیر تعداد میں پولیس فورس تعینات ہے۔ قومی راجدھانی کے کئی مقامات پر کرنی سینا کے حامیوں نے آگ زنی اور بسوں میں توڑ پھوڑ کی۔ دہلی کے روہنی علاقے میں کچھ لوگوں نے فلم کی مخالفت میں سڑک جام کی اور وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے۔ گروگرام میں ایک اسکول بس میں جا رہے بچوں پر احتجاجیوں نے پتھراؤ بھی کیا۔ مدھیہ پردیش،راجستھان، گجرات اور گوا میں ملٹی پلیکس مالکان اس فلم کو ریلیز نہیں کررہے ہیں۔فلم کی ریلیز کرنے پر کرنی سینا نے آج ملک بھر میں بند کی اپیل کی ہے۔ حالانکہ جنوبی ہند، مہاراشٹر اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں فلم کی ریلیز پر کوئی پریشانی نہیں ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں  یوم جمہوریہ تقریب میں 10غیرملکی مہمانان خصوصی شرکت کریں گے
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *