امریکہ کے اسامہ آپریشن کی طرح مودی حکومت بھی ایئراسٹرائک کا پختہ ثبوت دے: دگوجے سنگھ

Share Article

digvijay-singh

اندور: کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے حکومت سے پاک سرحد پر ہندوستان کے ائیر اسٹرائک کے ثبوت دینے کے لئے کہا ہے۔ ان کے مطابق، جس طرح امریکہ نے اسامہ آپریشن کے ٹھوس ثبوت دیئے تھے، ویسے ہی بھارت سرکار کو بھی پیش کرنے چاہئے۔26 فروری کو فضائیہ کے میراج ۔2000 طیاروں نے مظفر آباد، چکوٹی اور بالاکوٹ میں دہشت گردانہ کیمپ تباہ کئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی میں 350 دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے۔ 27 فروری کو پاک کے طیارے ہندوستانی سرحد میں داخل ہوئے تھے، جوابی کارروائی میں مگ ۔21 نے پاک کے ایف ۔16 کو مار گرایا تھا۔

’میں سوال کھڑے نہیں کر رہا‘

دگ وجے نے کہا،’میں پاکستان کے دہشت گرد کیمپوں پر بھارتی فضائیہ کے حملے پر سوال کھڑے نہیں کر رہا، ہم تکنیکی دور میں رہ رہے ہیں۔ کھلے میں کی گئی کسی کارروائی کی تصاویر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے مل سکتی ہیں، لہٰذا حکومت کو ثبوت دینا چاہئے۔ امریکی حکومت نے اسامہ بن لادن کو مارنے کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔‘‘

ونگ کمانڈر ابھینندن کی رہائی کے لئے دگوجے سنگھ نے پاکستان سرکار کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک وزیر اعظم عمران خان نے ابھینندن کی رہائی کا فیصلہ کر کے دکھایا کہ وہ ایک اچھے پڑوسی ہیں۔اب انہیں (عمران) دہشت گرد حافظ سعید اور مسعود اظہر کو ہمیں سونپ کر بہادری دکھانی چاہئے۔

دگوجے کے مطابق۔ پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور حکمراں پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چاہتے تھے کہ ان کی حکومت ابھینندن کو سونپنے کے لئے بھارت کے ساتھ سودے بازی کرے۔ پاک میں عمران کی اس بات کو لے تنقید ہو رہی ہے کہ انہوں نے ابھینندن کی رہائی کے بدلے بھارت سے کوئی مانگ نہیں رکھی۔

جمعہ کو مودی نے کنیا کماری میں کہا تھا کہ 26/11 کے ممبئی حملے (2008) کے بعد فضائیہ پاک میں سرجیکل اسٹرائک کرنا چاہتی تھی لیکن اس وقت کے یو پی اے حکومت نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔ اس پر دگ وجے نے کہا،’میں نے مودی جیسا جھوٹا شخص نہیں دیکھا۔‘

انڈین فضائیہ نے 4 عمارتوں کو نشانہ بنایا تھا

ہندوستانی فضائیہ نے26 فروری کو صبح بالاکوٹ میں واقع جیش محمد کے مدرسہ تعلیم الحق قرآن میں بنی 4 عمارتوں کو نشانہ بنایا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق، ٹیکنکل انٹیلی جنس کی حدود اور زمینی انٹیلی جنس معلومات کی کمی کی وجہ سے حملے میں مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا۔

ایک افسر کے مطابق، ’انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس سنتھیٹک ایپرچر ریڈار (کے بی) کی تصاویر ہیں۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ 4 عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ میراج ۔2000 جنگی طیارے نے پانچ ایس ۔2000 پریسیشن۔گائڈ لائنمیونیشن (پی جی ایم) داغے۔‘ پی جے ایم ایک اسمارٹ بم ہوتا ہے جو خاص نشانے پر داغا جاتا ہے۔ بھارت نے پی جی ایم اسرائیل سے لئے تھے۔

افسر نے بتایا، ’پاک آرمی نے حملے کے بعد مدرسہ سیل کیوں کر دیا؟ صحافیوں کو وہاں جانے کیوں نہیں دیا گیا؟ ریڈار سے ملے ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ بلڈنگ کا استعمال گیسٹ ہاؤس کے طور پر ہوتا تھا۔ اس میں جیش محمد سرغنہ مسعود اظہر کا بھائی رہتا تھا۔ ایل سائز کی اس عمارت کا استعمال وہ لوگ بھی کرتے تھے،جنہیں دہشت گرد بننے کی تربیت دی جاتی تھی۔‘

افسر نے یہ بھی بتایا،اب یہ لیڈرشپ کو ہی طے کرنا ہے کہ رڈار کی تصویر کو عام کرنا ہے یا نہیں۔ ایس اے آر رڈار کے ذریعہ لی گئی تصویر سیٹلائٹ کی تصاویر جیسی صاف نہیں ہیں، ہمیں 26 فروری کو سیٹلائٹ سے تصاویر اس لیے نہیں مل پائیں کیونکہ آسمان میں گھنے بادل تھے۔‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *