الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ممکنہ خرابی کو لے کر وقتاً فوقتاً متعدد پارٹیوں کے لیڈروںکی جانب سے آوازیں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔اس سلسلے میں متعدد تحریکیں میں شروع کی گئی ہیں اور متعدد تنظیموںکی جانب سے سپریم کورٹ میں بھی درخواستیں دی جا چکی ہیں۔ مگر ای وی ایم کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بند نہیں ہورہی ہیں۔ دو ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے ایک بار پھر ای وی ایم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
سابق وزیر اعلی دگوجے سنگھ نے ایک بار پھر انتخابات کے نتائج آنے سے پہلے ای وی ایم مخالف بیان دیا ہے۔ انہوں نے پیر کو انگریزی میں ایک کے بعد ایک کل 6 ٹویٹ کرکے ای وی ایم سے ووٹنگ میں خرابی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اپنی تجاویز دی ہیں۔ انہوں نے ایک نیوز ویب سائٹ کی طرف سے پوسٹ ای وی ایم میں رکاوٹ کے ایک ماہر کے دعوے کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے- ہریانہ-مہاراشٹر انتخابات 2019: یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے ای وی ایم-وی وی پیٹ میں کس طرح توڑ کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو اس کمی کی معلومات ہے، لیکن وہ خاموش ہے۔ اگر الیکشن کمیشن نے بھی ای وی ایم سے ووٹنگ پر زور دے رہی ہے، تو میری ایک درخواست ہے۔ بیلٹ یونٹ کے بٹن دبانے کے بعد ووٹر کو ایک پرچی پرنٹ ہوکر ملے، جس پر اس کا ووٹ مکمل ہونے کی تصدیق درج ہو اور جسے وہ بیلٹ باکس میں ڈال سکیں۔
دگ وجے نے اپنے اگلے ٹویٹ میں لکھا ہے- اب چیف الیکشن کمشنر یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ اس سے ووٹوں کی گنتی میں بہت وقت لگے گا، تو جیسا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق کیا جا رہا ہے، الیکشن کمیشن 5 کوئی بھی پانچ بوتھوں کا انتخاب کر کے ان پر ڈالے گئے ووٹ کا ملاپ ووٹر کے ڈالی گئی پرچیوں سے کر سکتا ہے۔ اگر ووٹر نے اپنے اپنا پرنٹیڈ ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالا ہے تو وہ خود یا سیاسی جماعتوں کے امیدوار کوئی شکایت نہیں کر سکیں گے۔ اس میں لگنے والا وقت بھی پہلے جتنا ہی ہوگا۔ اس طرح ای وی ایم اور بیلیٹ پیپر کا یہ اختلاط ووٹنگ کا ایک قابل اعتماد نظام ہوگا۔
دگ وجے نے لکھا ہے- میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ان تمام سیاسی جماعتوں کو جو الیکشن کمشنر سے ای وی ایم پر روک اور بیلٹ پیپر پر واپس لوٹنے کی درخواست کرتے رہے ہیں، انتخابات کو پر اعتمادبنانے اور ہماری جمہوریت کو مضبوطی دینے والا یہ آپشن قبول کریں گی ۔اگر بیلٹ باکس میں ملے ووٹوں کی تعدادکاؤنٹنگ یونٹ کی تعداد کے برابر نہ ہو، تو متعلقہ الیکشن علاقے میں تمام پولنگ مراکزکے ووٹوں کی گنتی بیلٹ باکس کے ووٹوں سے ہی کیا جائے اور اس کے بعد ہی رزلٹ کا اعلان کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here