دگ وجے سنگھ نے بی جے پی کے خلاف ٹوئٹر کے کھولا مورچہ، بے روزگاری اور مزدوروں کامسئلہ اٹھایا

 

بھوپال پارلیمانی سیٹ پر الیکشن ہونے میں اب صرف دس دن کا وقت باقی ہے۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی پارٹیوں کے امیدوار اپنی تشہیر میں کوئی کمی نہیں چھوڑناً چاہتے ہیں۔ ایسے میں کانگریس امیدوار دگ وجے سنگھ نے عوام کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرنے کا نیا طریقہ نکالا ہے۔ دگ وجے سنگھ نے تشہیر کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے، جس میں وہ دس دنوں میں ریاست کی سابقہ بی جے پی حکومت اور موجودہ وقت میں مرکز کے زیرانتظام والی بی جے پی حکومت سے سوال پوچھیں گے۔

 

دگ وجے سنگھ نے بدھ کو سوشل میڈیا صفحہ ٹوئٹر پر اپنے دس_دن_دس_سوال_روز مہم کا آغاز کرتے ہوئے لکھا ’نمسکار‘۔مزدور ڈے پر سبھی کو نیک خواہشات۔ ملک اپنی نئی حکومت منتخب کر رہا ہے۔ یہ صحیح وقت ہے جب مرکز کی 5 سال کی مودی حکومت اور مدھیہ پردیش میں 15 سال حکومت کرنے والی بی جے پی سے کام کا حساب مانگا جائے۔ میں شروع کر رہا ہوں۔ آپ بھی ’جملہ حکومت‘ سے کام کا حساب مانگیں۔ # دس_دن_دس_سوال_روز۔

دگ وجے سنگھ نے یوم مزدور پر اپنے مہم کا آغاز کرتے ہوئے پہلا سوال مزدوروں سے متعلق ہی پوچھا۔ دگ وجے سنگھ نے پہلا سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ’وزیر اعظم مودی جس نوٹ بندی پر گمان کرتے رہے اسے لے کر آر ایس ایس کے بھارتی مزدور یونین کے قومی صدر بیجناتھ رائے نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کی وجہ چار سے پانچ کروڑ مزدوروں کا روزگار چلا گیا۔ کیا سنگھ جھوٹ بول رہا ہے؟ جواب دیجیے کہ کارکنوں کے ساتھ یہ نا انصافی کیوں؟

وہیں اپنے دوسرے سوال میں دگ وجے سنگھ نے ملک میں بی جے پی دور حکومت کے دوران گزشتہ پانچ سال میں بڑھا بے روزگاری کی شرح پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’کیا یہ درست نہیں ہے کہ بی جے پی حکومت میں بے روزگاری کی شرح 6.1 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے جو 45 سال میں سب سے زیادہ ہے؟ 2018 میں ملک میں 1.1 کروڑ روزگار ختم ہوئیں۔ نوٹ بندی کی وجہ 50 لاکھ روزگار یںچلی گئیں۔ کون ہے اس کا گنہگار ؟

مدھیہ پردیش میں اضافہ ہوا بے روزگاری کی شرح پر سوال اٹھاتے ہوئے دگوجے سنگھ نے کہا کہ ’سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی (سی ایم آئی ای) کے مطابق 2016 میں مدھیہ پردیش میں بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد تھی جو دسمبر 2018 میں بڑھ کر 9.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ریاست میں بے روزگاری کی شرح قومی اوسط سے بھی زیادہ کیوں ہو گئی ؟

مزدوروں کی حفاظت سے متعلق قانون کو ختم کئے جانے پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ Ease of Business کے نام پر مزدوروں کی حفاظت سے منسلک 44 قانون ہو ختم کر صرف 4 نئے کوڈ بنانے کی کوشش کیوں ہیں؟ مزدور تنظیموں کے مشورہ کے بغیر! صرف صنعت کاروں کی زندگی آسان ہونا چاہئے مودی جی، کارکنوں کی نہیں؟ صرف فیکٹری محفوظ رہے، مزدور نہیں؟ کیوں ؟

دگ وجے سنگھ نے وزیر اعظم مودی پر طنز کستے ہوئے کہا کہ’مودی جی، آپ کا کہنا ہے کہ نوجوان نوکری مانگنے والے نہیں، نوکری دینے والے بنیں، لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں 80 فیصدنوکری پیشہ کی ماہانہ آمدنی 10000 روپے سے کم ہے! اس میں وہ کیا اپنا گھر چلانے، کیا دوسروں کو روزگار دیں؟ ایسے جملوں سے بے روزگاری کا مذاق کیوں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *