اویس شیخ
پاکستانی جیل میں بند سربجیت نے کچھ خطوط لکھے ہیں، جن سے ان کی حالت اور ان کے ساتھ ہو رہی نا انصافی کاپتہ چلتا ہے۔ اپنی بہن اور وکیل کے علاوہ سربجیت نے ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ، سونیا گاندھی اور لال کرشن اڈوانی کو بھی خط لکھے ہیں۔ یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی کو لکھے خط میں سربجیت نے سونیا گاندھی سے درخواست کی ہے کہ چونکہ ان کی رہائی میں کافی وقت لگنے کا امکان ہے،اس لیے ان کی بہن اور داماد کو ان سے ملاقات کرنے کے لیے پاکستان آنے کی ویزافراہم کرانے میں مدد کریں۔ سونیا گاندھی کو لکھے خط میں سربجیت نے اپنے ہم وطنوں، مرکز اور صوبائی سرکار کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا ہے کہ ملک میں ان کی رہائی کے لیے ایک تحریک چلائی گئی، جس سے ان کے اندر رہائی کی امید جاگی ہے۔ اسی طرح کا ایک خط سربجیت نے ہندوستانی وزیر اعظم کو بھی لکھا ہے۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ کو لکھے خط میں سربجیت نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ بنائیں۔ اس کے علاوہ سربجیت نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے وکیل اویس شیخ کو کچھ اہم افسروں سے ملنے کی اجازت دیں،تاکہ اویس شیخ کو ان کا مقدمہ لڑنے میں آسانی ہو۔ اس کے ساتھ ہی سربجیت نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو لکھے خط میںمذہبی رواداری کا ذکر کیا ہے۔ سربجیت لکھتے ہیں کہ ہم سبھی مذاہب کا احترام کر تے ہیں اور ہمارے درمیان کسی طرح کا کوئی مذہبی بھید بھاؤ نہیں ہے۔ سربجیت نے اپنے ملک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میری رہائی کے لیے کوشش کی جائے، تاکہ ایک بارپھر سے وہ اپنے ملک کی خدمت کر سکیں۔ ان دونوں کے علاوہ سربجیت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی کو بھی خط لکھا، جس میں رہائی کے لیے پاکستانی سرکار پر دباؤبنانے اوروکیل اویس شیخ کو اعلیٰ افسران سے ملاقات میں مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔
مجھے بھی سربجیت نے کچھ خطوط لکھے ہیں۔ایک خط میں سربجیت نے یہ بتایا ہے کہ ان کے ساتھ عدالت میں کیا ہوا۔ سربجیت کا کہنا ہے کہ جتنے بھی ثبوت ریکارڈ کئے گئے تھے یا پھر سوال جواب اکٹھا کیے گئے تھے، وہ سارے میرے حق میں تھے۔ اینٹی ٹیررسٹ کورٹ کے جج اسلم ہاشمی نے ان سارے سوال وجواب کو نامنظور کر دیا جو کہ پولیس میں درج کیے گئے تھے۔ مجسٹریٹ نے کہا کہ سربجیت خود آیا تھا اور اس نے قبول کیا ہے، لیکن حقیقی صورتحال کچھ اور تھی۔ سربجیت نے لکھا ہے کہ ان کے وکیل تصور حسین کسی وجہ سے دیر سے آئے تھے۔ سربجیت نے جب جج سے کہا تھا کہ کیا جس شخص نے اپناجرم قبول کیا تھا، وہ داڑھی والاتھا، تو جج نے اس پراتفاق کیا تھا، لیکن جب سربجیت کے وکیل نے یہی بات پوچھی تو جج صاحب اپنی ہی باتوں سے مکر گئے۔ جب سربجیت کے وکیل نے کہا کہ کیا اقبال کرنے والا شخص داڑھی والا تھا تو جج نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں، وہ شخص داڑھی والا نہیں تھا۔ جب وکیل نے جج سے پوچھا کہ کیا آپ نے اسٹیٹمنٹ پڑھا ہے تو جج کا جواب تھا کہ نہیں، میں نے نہیں پڑھا ہے۔ سربجیت نے اپنے وکیل اویس شیخ کو لکھا ہے کہ کس طرح سے ان کے معاملے میں قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اور ان کے پاس اپنا د فاع کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ جج نے اپنی فائل میں لکھاہے کجہ پہچان پریڈ نہیں کرائی گئی ہے۔ کسی طرح کی کوئی ریکوری نہیں ہوئی ہے۔ ایف آئی آر کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ کسی طرح کی کوئی بحث نہیں ہوئی ہے۔ ملزم کو بچاؤ کا موقع نہیں دیا گیا ہے اور قبول نامہ میں صرف نام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس طرح سے سربجیت اپنے وکیل اویس شیخ کو لکھتے ہیں کہ اگر یہفائل کورٹ میں پیش کی جائے تو فیصلے کی بہت ساری کمیاںاجاگرہو سکتی ہیں۔ سربجیت کا کہنا ہے کہ جس قبول نامہ کا حوالہ دیا گیا ہے، اس پر ان کی انگلیوں کے نشان نہیں ہیں۔ کیا ان کی انگلیوں کا نشان لیا جانا اتنا غیر اہم تھا کہ اس کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ اگر یہ اتنا غیر اہم ہے تو پھر انھیں اتنی بڑی سزا کیوں دی گئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کورٹ سے یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ اگر کوئی بے بس ہے یا پھر ہندوستانی ہے، تو کیا اسے اپنا موقف رکھنے کا کوئی موقع نہیں دیا جاناچاہیے۔ کیا پاکستان کا قانون بے بس یا ہندوستانی کو سزادینا جانتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ قانون اندھا ہوتا ہے۔ قانون کی آنکھ جج اور ثبوت ہوتے ہیںاور ایک آنکھ کو دوسری آنکھسے نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ لیکن میرے ساتھ ایسا ہی ہواہے۔ مجھے پہلی بار 01-07-1991 کو حاضر کیا گیا تھا۔ اس کے کچھ دنوں کے بعد میرا چالان بھیجا گیا اور 15-08-1991 کومجھے سزا ہو گئی۔ سربجیت نے اپنے اس خط میں لکھا ہے کہ آپ اسے پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری کے پاس بھی بھیج سکتے ہیں۔ ایک دوسرے خط میں سربجیت نے میراشکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آپ جو میرے لیے کر رہے ہیں، اس کے بدلے میں، میں تو آپ کو کچھ نہیں دے سکتا، لیکن اس کا پھل اللہ آپ کو ضرور دے گا۔ صدیوں سے یہ روایت رہی ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی مدد کرتا ہے اور آپ اسی روایت پر عمل کر رہے ہیں۔ اس کے لیے اللہ آپ کی مدد ضرورکرے گا۔اسی خط میں سربجیت نے اویس شیخ سے اپنے کیس کے بارے میں جانکاری مانگی ہے۔ سربجیت نے شیخ سے یہ بات بھی پوچھی ہے کہ وہ پاکستان کے صدر سے ملنے والے تھے، اس کا کیا ہوا؟ کیا آپ صدر سے ملے یا پھر ابھی ملاقات ہونا باقی ہے؟ کیا آپ کو ان سے ملنے کی اجازت ملی ہے؟ سربجیت لکھتے ہیں کہ ایک نیا جیلر آیا ہے۔ جب وہ اسسٹنٹ جیلر تھا ، تو اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا اور اب وہ جیلر بن گیا ہے، تو اس بات کا ڈر ہے کہ وہ پھر سے ستائے گا۔ سربجیت نے خط میں لکھا ہے کہ 2006-07 میں مجھیکافی ذہنی اذیتیں دی گئی تھیں اور اس بار بھی ایسا لگتا ہے کہ پھر سے مجھے ذہنی اذیتیں جھیلنی پڑیں گی۔ اس نے لکھا ہے کہ اس کے سیل کے پاس کے سیل میں کرپال سنگھ ہے، جو اس کے بارے میں جیلر کو غلط جانکاری دیتا ہے۔ سربجیت نے ہندوستانی ہائی کمیشن کو 09-09-2009 میں لکھاتھا کہ کرپال سنگھ کو اس کے سیل کے پاس سے الگ بھیج دیا جائے، لیکن ہائی کمیشن نے اس بابت کچھ نہیں کیا۔ اس نے ایک دوسرے خط میں بھی کرپال سنگھ کو اس کے سیل کے پاس سے ہٹانے کی درخواست کی ہے۔ سربجیت نے لکھا ہے کہ کرپال سنگھ کے رویے سے وہ بہت پریشان ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر کرپال سنگھ کو وہاں سیہٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بھی سہارا لینا پڑے تو لیجیے۔
سربجیت نے کچھ خطوط اپنی بہن کو بھی لکھے ہیں۔ ان خطوط میں پاکستان کی جیل میں اس کے ساتھ ہو رہے سلوک کے بارے میں لکھا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اس کیساتھ جیل میں اچھا سلوک نہیں کیا جارہا ہے۔ وہ درد سے پریشان ہے اور رات میں جب اسے درد ہوتاہے تو جیل کے افسراسے دوا بھی نہیں دیتے ہیں۔ جب وہ خود کھانا پکاتا ہے تب تو وہ پیٹ بھر کے کھانا کھاتا ہے اورجب جیل کا کھانا کھاتا ہے تو اسے کسی طرح زندگی بچانے کے لائق کھانا کھا کر سونا پڑتاہے۔اس نے اپنی بہن کو کچھ پیسے کے لیے بھی لکھا ہے، جس سے وہ سردی کے موسم میں کچھ گرم کپڑے بنوا سکے۔ اس نے اپنی بہن کو لکھے خط میں سرجیت سنگھ کا بھی ذکر کیا ہے۔ سربجیت اپنی بہن کو لکھتا ہے کہ سرجیت سنگھ نے اس کے بارے میں جو کچھ کہا وہ غلط ہے۔ اس نے ایک دوا کے لیے بھی اپنی بہن کو لکھاہے۔ اپنی بہن کو لکھے خط میں سربجیت نے اپنی بے بسی کا ذکر کیا ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ جوڈیشل کمیٹی سے بھی اسے ملنے نہیں دیا جاتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ جیلر نے جوڈیشل کمیٹی کے ساتھ ملنے کے لیے پھر سے منظوری لینے کی بات کہی ہے۔ اپنی بہن کو سربجیت نے حکومت ہند سے اس مدعے پر ملنے کے لیے کہا ہے۔ اس طرح مختلف خطوط کے ذریعے سربجیت نے پاکستان کی جیل میں اس کے ساتھ ہو رہے سلوک، عدالتی فیصلے کی کمیاں اور خود پر لگے الزام کی حقیقت بتانے کی کوشش کی ہے۔ g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here