’آیا رام، گیا رام اور جے شری رام‘کے نعرے کے درمیان شروع ہوا مانسون اجلاس

Share Article

 

مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس کیہنگامہ دار شروعات ہوئی ہے۔ پیرکے روز نو منتخب رہائشی تعمیرارت وزیر رادھاکرشن وکھے پاٹل اور جے دتچھیرساگر جیسے ہی اسمبلی ہائوس پہنچے، کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے ‘آیارام گیارام، جے شری رام’ کے نعرے سے مظاہرہ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے کسان خودکشی، تعلیم کی گرتی حالت اور ڈاکٹروں کے استحصال کو لے کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ ہاتھ میں پوسٹر لے کر کانگریسی ممبران اسمبلی نے اپنے سابق رہنما رادھاکرشن وکھے پاٹل کی زور دار مخالفت کی۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور بدعنوان لیڈروں کو بچانے کا الزام لگایا۔

 

قابل ذکر ہے کہ 17 جون سے دو جولائی تک چلنے والے اس تین ہفتوں کے مانسون اجلاس میں صرف 12 دن تک ایوان کی کارروائی چلے گی۔ حالانکہ مہاراشٹر اسمبلی کا مانسون اجلاس پیر کے روزاپوزیشن کے ہنگامے کے ساتھ شروع ہوا۔ بی جے پی حکومت میں شامل 13 وزراء کی ٹیم جیسے ہی اسمبلی احاطے پہنچی، ویسے ہی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ‘آیا رام، گیا رام اور جے شری رام’ کے نعرے لگائے جانے لگے۔ بی جے پی ۔شیوسینا اتحاد حکومت نے مانسون اجلاس سے ایک دن پہلے اتوار کے روز ہی کابینہ توسیع کے تحت 13 نئے وزراء کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے۔

 

اسمبلی اجلاس کے 12 دنوں میں اپوزیشن نے جہاں حکومت کو اس کی ناکامیوں اور وعدہ خلافیوں کو لے کر گھیرنے کی تیاری ہے، تو وہیں حکومت نے سیشن سے ایک دن پہلے اتوارکے روز 13 نئے وزرا ء کو اپنی کابینہ میں شامل کر اپوزیشن کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور کا یہ آخری سیشن ہے۔ اس بارکل 28 بل پر بحث کی جائے گی۔ مانسون اجلاس کے ایک دن پہلے ہی وزیر اعلیٰ نے واضح کر دیا تھا کہ مانسون اجلاس کے دوسرے دن 18 جون کو ہی دونوں ایوانوں میں سال 2019-20 کی مکمل بجٹ رکھا جائے گا۔ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فڑنویس حکومت کسانوں اور عام عوام کے لئے بہتکے لئے کئی پرکشش اعلانات کر سکتی ہے۔ گزشتہ بجٹ سیشن میں لوک سبھا انتخابات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے عبوری بجٹ ہی پیش کیا تھا۔ اپوزیشن مانسون اجلاس شروع ہوتے ہی ریاست کی قانون کا نظام، دسویں امتحانات کے نتائج کا فیصد گھٹنے، خشک سالی کی مار جھیل رہے کسانوں کے مسائل، وزراء پر لگے بدعنوانی کے کئی الزامات، وزیر اعلیٰ کی جانب سے کئے گئے میگا بھرتی کے وعدے اور بحیرہ عرب میں بنائے جانے والا چھترپتی شیواجی مہاراج کا یادگار اور دادر میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی یادگار کے معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی۔ اگلے ایک دو دن ایوان میں اپوزیشن پارٹی مہاراشٹر کی اقتصادی بگڑتی حالت اور بے روزگاری کی شرح کو لے کر بھی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *