ذیابیطس کے مریض روزہ رکھنے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں:ڈاکٹر شیلو شفیق صدیقی

Share Article

Dr-Sheelu-Shafiq-Siddiqi

علی گڑھ: ذیابیطس میں مبتلا شخص روزے رکھ سکتا ہے، تاہم اس سلسلہ میں ڈاکٹروں سے مشورہ بہت ضروری ہے تاکہ صحت پر روزے کا منفی اثر نہ پڑے اور بیماری میں اضافہ نہ ہو۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے راجیو گاندھی سنٹر فار ڈائبٹیز کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیلو شفیق صدیقی نے مذکورہ مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر ذیابیطس کو قابو میں رکھنا یقینا مریضوں اور ان کے متعلقین کے لئے ایک مشکل امر ہے، تاہم گلوکوز کو کم کرنے والی دواؤں کے معقول استعمال سے ایسا کرنا ممکن ہے، شرط یہ ہے کہ مریض کی تعلیمی و ذہنی حالت کو سامنے رکھا جائے اور ہائپوگلائسیمیاکے خطرے کو کم کرنے کے لئے ڈیزائنر مالیکیولس دستیاب رہیں۔ ڈاکٹر صدیقی نے کہاکہ روزے رکھنے کا فیصلہ کرنے سے قبل ذیابیطس کے مریضوں کو ڈاکٹر سے مشورہ کرناچاہئے۔ رمضان سے قبل کھانے کی عادت کیا تھی، ہاضمہ کا نظام کیسا تھا، ہائپوگلائسیمیا کو روکنے کے لئے کون سی دوا استعمال کرتے تھے، جسمانی حرکات کیا رہتی تھیں، بدن میں پانی کی قلت تو نہیں ہوتی تھی، ایسے تمام امور و مسائل کا خیال رکھنا ضروری ہے جو ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر ممکن نہیں۔

ڈاکٹر صدیقی نے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کو لگاتار طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہوتی ہے، اور روزے کی حالت میں صحت کو ہائپوگلائسیمیا، پانی کی قلت، شریان میں خون کا جَمنا، کیتونی تیزابیت جیسے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، اس لئے دوا کی مقدار اور اس کے وقت میں تبدیلی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ زیادہ سنگین ذیابیطس میں مبتلا لوگوں کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔

ڈاکٹر شیلو شفیق صدیقی نے کہاکہ ٹائپ وَن اور ٹائپ ٹو کے ذیابیطس میں مبتلا مریض یا جنھیں مستقل انسولین لینے کی ضرورت ہوتی ہے، ان کے لئے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے اپنے خون میں گلوکوز کی نگرانی کرنی لازمی ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ رمضان کے مستقل روزوں سے انسان کو روحانی سکون حاصل ہوتا ہے، جب کہ روزے نہ رکھنے پر نفسیاتی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ تا ہے جس سے گلائسیمیا کے بے قابو ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *