اشرف استھانوی
  ملک میں دہشت گردی کا کوئی بھی چھوٹا یا بڑا واقعہ ہو، مسلم نوجوانو ں پر شامت آجاتی ہے۔ بھلے ہی دہشت گردی کے اس واقعے میں سنگھی دہشت گرد ہی کیوںنہ شامل ہوں یا اس کا تعلق سرحد کے اس پار بیٹھے دہشت گردوں سے کیوں نہ ہو۔ پھر شروع ہوجاتی ہے شہروں سے گائوں تک کے بے قصور اور معصوم مسلم نوجوانوں کی گرفتاری۔ حیدر آباد کے سیریل بلاسٹ کے بعد بھی یہی ہوا ہے۔ حال کے برسوں میں بہار چونکہ اس کا سافٹ ٹارگیٹ رہاہے، اس لیے اس بار بھی این آئی اے کی ٹیم بہار کے قصبوں اور گائوں کی خاک چھاننے میں جٹ گئی ہے۔ وہ جگہ جگہ چھاپہ ماری کررہی ہے اور پوچھ تاچھ کے نام پر یا شک کی بنیاد پر کم عمر زیر تعلیم یا تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے انہیں اور ان کے پورے خاندان کو مشتبہ بنانے اور انہیں عام لوگوں کی نظر میں مشکوک اور معتوب بناکر انہیں مین اسٹریم سے الگ کرنے کا خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔ این آئی اے کی ٹیم کو اس پاداش میں بہار کے بیگوسرائے میں سخت عوامی مزاحمت اور احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اور دو سگے بھائیوں کو گھنٹوں کی پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑنا بھی پڑا ہے۔

حیدر آباد کے دل سکھ نگر دھماکوں نے بہار کی سرزمین کو ایک بار پھر این آئی اے کی چراگاہ بنادیاہے۔ کہایہ جارہاہے کہ دل سکھ نگر دھماکوں کے سلسلے میں تحقیقاتی ایجنسیوں کے رڈارپر پانچ موبائل نمبر ہیں۔ ان میں سے ایک نمبر کالوکیشن بعد میں بہار میں پایا گیا، لیکن پھر یہ نمبر بند ہوگیا۔ بہر حال، 5 میں سے 1 نمبرکے بہار میں بند ہوجانے کی بنیاد پر این آئی اے کی ٹیم اگلے ہی دن، یعنی 22 فروری کو سمستی پور پہنچ گئی اور تحسین عرف مونو کی تلاش میں جٹ گئی۔ حالانکہ اس واقعہ میں تحسین عرف مونو یا کلیان پور اور سمستی پور علاقے کے کسی نوجوان کے ملوث ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی اور نہ ہی کوئی ایسا سراغ ملاتھا، مگر این آئی اے چونکہ پہلے بھی اس علاقے میں اپنی کارروائی کرچکی ہے اور اس علاقے سے دانش نام کے ایک نوجوان کو گرفتار بھی کرچکی ہے۔

بہار میں حالانکہ گزشتہ دوبرسوں سے ایک نئی روایت چل پڑی ہے کہ این آئی اے کی ٹیم رات کی تاریکی میں آتی ہے ، کسی خاص مسلم آبادی کے گھر کو نشانہ بناتی ہے اور وہاں سے کسی تعلیم یافتہ یا زیر تعلیم مسلم نوجوان کو اٹھاتی ہے اور لے کر غائب ہوجاتی ہے یا پھر گھروالوں کو اس نوجوان کو پیش کرنے کے لیے ٹارچرکرتی ہے، جو ملک کے اندر یا باہر تعلیم یا ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہونے کے سبب اپنے آبائی گھر میں نہیں ملتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہوجاتاہے، مگر مقامی پولس اور انتظامیہ کو اس کی بھنک تک نہیں ملتی ہے۔ جو لوگ گرفتار کیے جاتے ہیں، نہ تو ان کا قصور اہل خاندان کو بتایاجاتاہے اور نہ ہی یہ بتایاجاتاہے کہ انہیں اور کس سلسلے میں لے جایاگیاہے اور کتنے دن رکھا جائے گا۔ حالانکہ ایسے معاملوں میں مقامی پولس کو اعتماد میں لینا، گرفتار شخص اور اس کے اہل خانہ کوگرفتاری کی وجہ اور کہاں لے جایاجارہاہے، یہ سب بتانا قانونی طور پر ضروری ہوتاہے۔ اس پر ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کئی بار مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے رویہ پر مرکزی حکومت سے احتجاج بھی کرچکے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرچکے ہیں کہ اولاً تو بلا وجہ بے قصور لوگوں کو گرفتار کرکے ہراساں اور ذلیل نہ کیاجائے اور بالفرض کسی خاص معاملے میں کسی خاص فرقہ کے کسی فرد کی گرفتاری ضروری ہو، تو اس سلسلے میں تمام قانونی ضابطوں کی پاسداری کی جائے اور رات کی تاریکی میں مقامی پولس کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کی کارروائی نہ کی جائے، کیونکہ ویسی صورت میں زبردست عوامی مزاحمت اور اس کے نتیجے میں نقص امن کا خطرہ رہتاہے، لیکن صورتحال اب بھی جوں کی توں ہے اور این آئی اے کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
حیدر آباد کے دل سکھ نگر دھماکوں نے بہار کی سرزمین کو ایک بار پھر این آئی اے کی چراگاہ بنادیاہے۔ کہایہ جارہاہے کہ دل سکھ نگر دھماکوں کے سلسلے میں تحقیقاتی ایجنسیوں کے رڈارپر پانچ موبائل نمبر ہیں۔ ان میں سے ایک نمبر کالوکیشن بعد میں بہار میں پایا گیا، لیکن پھر یہ نمبر بند ہوگیا۔ بہر حال، 5 میں سے 1 نمبرکے بہار میں بند ہوجانے کی بنیاد پر این آئی اے کی ٹیم اگلے ہی دن، یعنی 22 فروری کو سمستی پور پہنچ گئی اور تحسین عرف مونو کی تلاش میں جٹ گئی۔ حالانکہ اس واقعہ میں تحسین عرف مونو یا کلیان پور اور سمستی پور علاقے کے کسی نوجوان کے ملوث ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی اور نہ ہی کوئی ایسا سراغ ملاتھا، مگر این آئی اے چونکہ پہلے بھی اس علاقے میں اپنی کارروائی کرچکی ہے اور اس علاقے سے دانش نام کے ایک نوجوان کو گرفتار بھی کرچکی ہے۔ این آئی اے یہ مان کر چل رہی ہے کہ اس دھماکہ میں انڈین مجاہدین کا ہاتھ ہے اوراس کا مبینہ سرغنہ یاسین بھٹکل 2009-10 کے دوران اس علاقے میں تحسین اور دانش کے ساتھ آیاتھا اور ان دونوں کی مدد سے وہ یہاں کے کئی نوجوانوں کو اپنی تنظیم میں شامل کرنے کے بعد نیپال کے راستے کشمیر چلا گیا تھا۔ حیدر آباد دھماکہ میں جس منظر نامی شخص کانام آیا ہے، وہ بھی اسی علاقہ اور گروپ کا ہے، ایسا این آئی اے کا ماننا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حال ہی میں گرفتار دانش نے حالانکہ دھماکوں کی تیاری کے بارے میں بتایا تھا، مگر وہ یہ نہیں بتاسکاتھا کہ دھماکے کہاں ہونے والے ہیں۔ تحسین کی گرفتاری کا وارنٹ لے کر وہاں پہلے بھی ٹیم آئی تھی، مگر وہ ہاتھ نہیں آیاتھا۔ اس بار بھی وہ گرفت سے باہر ہی رہا۔ خیال رہے کہ دانش کو بھی این آئی اے کے حوالے تحریری یقین دہانی کے بعد محض جانچ میں تعاون کے نام پر گھروالوں نے کیاتھا۔
لیکن اگلے ہی دن اس وقت تصویر بدل جاتی ہے جب جانچ ایجنسی یہ کہتی ہے کہ دھماکوں کے بعد حیدر آبادسے بہار کے راستے نیپال فرار ہورہے دومشتبہ افراد کو رکسول کے امیگریشن چیک پوسٹ سے گرفتار کیاگیاہے، ان میں سے ایک محمد عبداللہ، محمد اکرم صومالیہ کا رہنے والاہے اور دوسرا محمد عدنان حیدرآباد کا باشندہ ہے۔ صومالیہ کے رہنے والے مشتبہ شخص کے بارے میں بتایاگیاکہ وہ 26 سال کا ہے اور اس نے جرمن کی شہریت بھی حاصل کررکھی ہے۔ وہ کب اور کیسے بھارت کی سرحد میں داخل ہوا اس بارے میں کہاجاتاہے کہ تقریباً 15 روز قبل بیرگنج (نیپال) کے راستے بھارت آیا تھا۔ اس کے پاس کوئی پاسپورٹ، ویزا نہیں ہے، وہ کسی طرح بھارت کی سرحد میں داخل ہو گیا تھا، مگر واپسی کے دوران حیدرآباد دھماکوں کے بعد چوکس ایجنسیوں نے اسے پکڑ لیا۔ ابھی ان دونوں گرفتار افراد سے پوچھ تاچھ بھی پوری نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس کی طرف سے فراہم کی گئی اطلاع کی جانچ ہوسکی تھی کہ این آئی اے کی ٹیم اگلے روز بیگوسرائے پہنچ گئی اور تیگھڑا تھانہ علاقہ کے بریارپور گائوں کے باشندہ سید مظفرسلطان کے گھر سے ان کے دولڑکوں 22 سالہ محمد زید اور 18 سالہ محمد سعد کو اٹھایا، ان کے موبائل اپنے قبضے میں لیے اور انہیں گاڑی میں بٹھاکر چلنے لگے ۔ اس وقت شام کے صرف 5 بج رہے تھے اس لیے چاروں طرف دھوپ اور دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور لوگ بھی اپنے گھروں کے باہر تھے۔ اس طرح کی دیدہ دلیری سے گھر اور محلہ کے لوگ بپھرگئے اور انہوںنے اس گرفتار ی کے خلاف نہ صرف احتجاج کیا، بلکہ ان کا راستہ روکا اور جانناچاہا کہ یہ سب کیوں اور کس گناہ کی پاداش ہیں۔ تب ان سفید پوش اور سفید گاڑیوں میں آئے این آئی اے ٹیم کے ارکان نے اپنا تعارف پیش کیا اور شناختی کارڈ دکھلایا اور کہاکہ ہم صرف پوچھ تاچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے بھی لوگ مطمئن نہیں ہوئے اور انہوںنے کہاکہ آپ کے ساتھ مقامی پولس کیوں نہیں ہے؟ ٹیم کے ارکان نے لاکھ وضاحت کی کہ وہ ضلع کے ایس پی اور مقامی پولس کو اس کی اطلاع دے کر آئے ہیں، لیکن لوگ ٹس سے مس نہیں ہوئے، کیونکہ عوامی بیداری مہم نے انہیں اپنے حق سے آشنا کردیاتھا۔ انہوںنے مقامی پولس کو بلانے کا مطالبہ کیا۔ تب مجبور ہوکر تیگھڑا اور پھلوریہ تھانہ کو اطلاع دی گئی اور دونوں تھانوں کی پولس کو موقع پر طلب کیاگیا۔ جب تک پولس وہاں پہنچی ہزاروں کا مجمع لگ گیا۔ بعد میں مقامی پولس کی مداخلت اور ضمانت کے بعد ہی وہ لوگ انہیں لے کر آگے بڑھ سکے، لیکن پھر بھی ہزاروں کی بھیڑ ان کا تعاقب کرتے ہوئے تھانہ پہنچ گئی اور جب تک پوچھ تاچھ چلتی رہی لوگ تھانے سے نہیں ہٹے۔ آخر گھنٹوں کی پوچھ تاچھ کے بعد انہیں رہاکرنے پر مجبور ہوئے۔
اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ سید مظفر سلطان اور ان کا گھر گائوں یا علاقہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ ان کے خلاف پولس تو کیاپرائیوٹ سطح پر بھی کسی کو کوئی شکایت نہیں ۔ مظفرسلطان خود سرکاری ملازم ہیں اور کھگڑیا بلاک میں اردو مترجم کے عہدے پر فائز ہیں۔ بڑا لڑکا محمد زید حیدر آباد کی ایک دینی درسگاہ میں قضا کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، جب کہ چھوٹا لڑکا محمد سعداعظم گڑھ کے ایک مدرسہ میں عالمیت کی تعلیم حاصل کررہاہے۔ حیدر آباد میں تعلیم حاصل کرنے والا لڑکا دودن قبل گھر آیاتھا۔ ظاہر ہے کہ اس کے موبائل کا لوکیشن حیدرآباد کے بعد بہار رہاہوگا۔ صرف اسی بنیاد پر اس پورے خاندان کو مشتبہ بنانے اور اسے قربانی کا بکرابنانے کا منصوبہ تیار کرلیاگیا اور اگر عوامی مزاحمت نہ ہوئی ہوتی، تو پولس ان دونوں کو لے جاتی اور بعد میں ان کے قبضے سے قابل اعتراض اشیاء برآمد ہونے کا الزام عائد کرکے انہیں کسی خطرناک سازش کا حصہ بناکر ان کی زندگی تباہ کردیتی۔ دہشت گردانہ حملے کے لیے کون حقیقتاً ذمہ دار ہے اس کا پتہ لگانا اور اسے قرارواقعی سزا دینا تو ٹھیک ہے، مگر محض شک کی بنیاد پر یہ خاص فرقہ کے لوگوں کو پریشان اور ہراساں کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوسکتا ہے۔ اس سے ہندستانی معاشرہ میں نہ صرف فرقہ وارانہ منافرت پھیلتی ہے، بلکہ ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی کے مین اسٹریم سے الگ ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوتاہے، جو کسی بھی طرح ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ راشٹریہ جنتادل کے قومی صدر لالو پرساد سمیت مختلف سیکولر سیاسی جماعتوں کے ارکان نے یہ معاملہ بڑے شدومد کے ساتھ اٹھایا اور حکومت پر یہ الزام لگایاکہ وہ دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کو مختلف الزامات میں پھنساکر انہیں جیلوں میں ڈال رہی ہے۔ ان کی زندگی کے قیمتی ماہ وسال برباد کرنے کے بعد انہیں بے قصور قرار دے کر رہاتو کردیتی ہے، مگر ان کی بازآباد کاری کا کوئی انتظام نہیں کرتی ہے، جب کہ وہ اپنے ملک میں باعزت زندگی گزارنے کے لائق بھی نہ رہ جاتے ہیں۔ لالو پرساد کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں مسلمانوں کے لیے پوٹا سے بھی زیادہ خطر ناک حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ کیسے ،کب اور کہاں سے کس الزام میں اٹھالیاجائے گا، کہنا مشکل ہے۔ حالانکہ اس کے جواب میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت آرپی این سنگھ نے صفائی دی کہ حکومت دہشت گردی کو کسی مذہب ، فرقہ، یاذات سے جوڑ کر نہیں دیکھتی ہے اور حکومت کی نظر میں سب برابر ہیں، لیکن لوگ اس سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے اس موضوع پر خصوصی بحث کا مطالبہ جاری رکھا۔ بہر حال، دیکھنا اب یہ ہے کہ اس صورتحال میں تبدیلی کب آتی ہے اور بہار سمیت پورے ملک کے مسلم نوجوانوں کو مشکوک اور معتوب بنانے کا سلسلہ کہاں جاکر تھمتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here