دین بچاؤ-دیش بچاؤ کانفرنس نے نئی تاریخ رقم کی

Share Article
desh-bacao-din-bachao
بہارکی راجدھانی پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں ا مارت شرعیہ بہار اڑیشہ و جھارکھنڈ کے زیر اہتمام 15اپریل کو دین بچاؤدیش بچاؤکے عنوان سے ایک تاریخی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں انداز ے کے مطابق کم وبیش 20لاکھ مسلمانان ہند نے شریک ہوکر دینی غیر ت وملی حمیت کا بھر پور ثبوت پیش کیا اور لاکھوں کے مجمع نے امیر شریعت کے سامنے دین و شریعت اور ملک کی حفاظت کا حلف لیا۔ امارت شرعیہ بہار اڑیشہ وجھارکھنڈ کے زیر اہتمام منعقد دین بچاؤ، دیش بچاؤ کانفرنس میں شرکاء کے اعتبار سے تاریخ رقم کی اتنی بھیڑ سیاسی پارٹیوں کی ریلیوں میں بھی کبھی دیکھا نہیں گیا، پورا گاندھی میدان کچھا کچ بھرا ہوا تھا تل رکھنے کی جگہ نہیں تھی ، اور اس سے کہیں بڑا مجمع گاندھی میدان کے ارد گرد اور پٹنہ کی شہروں میں تھا ، ٹریفک کے اچھے نظام کے با وجود شرکاء کو دور دراز سے پیدل آنے کے لئے کئی کئی کیلو میٹر کا پیدل سفر کرنا پڑاگذشتہ دیڑھ ماہ سے اس ریلی کی تیاری چل رہی تھی جو شام کو چھ بجے اختتام کو پہونچی۔دن بجے میں ایک بجے شروع ہوئی تھی ۔اس تاریخی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی نے کہاکہ ہمارا ملک بدترین دور سے گذر رہاہے، حکمراں ،ملک میں دہشت پھیلارہے ہیں، یہ خوف کے بیوپاری ہیں ، نفرت کی کاشت کاری کررہے ہیں،جھوٹ کی آبیاری ان کا پیشہ ہے،ان چیزوں نے پورے ماحول میں بے یقینی کی فضا بنادی ہے،اور یہ بے یقینی ہرسطح پر چھاگئی ہے۔حدیہ ہے کہ قانون کا مطلب بتانے والی ،بے لگام انتظامیہ کو قابو میں رکھنے والی،،وطن عزیز کی جمہوریت کی حفاظت کرنے والی اورآئین کی پاسدارعدلیہ خود پریشان ہے،چار سینئر ججز پریس کانفرنس کرکے بتارہے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے،عدالتیں آزاد نہیں ہیں، ایک خاص نظریہ کو تھوپنے کے لئے عدالتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مولانا ولی رحمانی نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ آئین کی حکمرانی ،قانون کی بالادستی ،انصاف اور مساوات اوربنیادی حقوق کمزور پڑتے جارہے ہیں، ایک طرف دلہے صاحب ہیلی کاپٹر سے سسرا ل جارہے ہیں،دوسری طرف یہ خواہش بھی پوری نہیں ہوسکتی کہ بارات میں دولہا گھوڑے پر سوار ہو، اور سوار ہوا تو زندگی موت کے حوالہ کردی گئی،جھولے میں کوئی گوشت لے جارہاہے تو اس کی درگت بنادی جائے گی،مسلمان کو پہچان کر اس کی اتنی پٹائی کی جائے گی کہ وہ مرجائے،اونچی تعلیم گاہوں کا ماحول ایسی گھٹن والا بنادیا اور ایسے جبروظلم کی فضا بنائی گئی کہ طالب علم خود کشی کرلے،اس کا جرم کیا ہے؟،صرف ایک !شڈولڈکاسٹ ،شڈولڈ ٹرائب سے تعلق رکھتاہے، وہ مظلوم طبقہ سے تعلق رکھتاہے، وہ مسلمان ہے، وہ اقلیتی طبقہ کا فرد ہے، یہی جرم ہے اس کا،چرچوں پہ حملے کئے گئے،پادریوں کو ختم کیا گیا،جرم یہ تھاکہ ان کی تعداد تھوڑی ہے،کیا یہی قانون کی حکمرانی ہے،؟ کیا یہی آئین کی بالادستی ہے۔؟ایک کھرا سچ یہ ہے کہ ظلم ایجاد کرنے والوں، ظلم ڈھانے والوں کا ایک بڑا طبقہ تیار ہوگیا ہے ،جس نے الگ الگ ناموں کی تنظیم بنارکھی ہے، اور وہ بہانے دھونڈ کے پیداکررہاہے جفاکے لئے! مسلمانوں کا خون بہاکر انہیں مزہ آتاہے، مسلمانوں کے دوکانوں کو آگ لگاکر انہیں خوشی ہوتی ہے، ان کو برباد کرکے ان کو سکون ملتاہے، ایس سی/ایس ٹی کو موت کے گھاٹ اتارا جارہاہے، ظالموں کی یہ جماعت انہیں عزت کے ساتھ بٹھانے کے لئے تیار نہیں،یہی ذہنیت آئین ہند سے کھلواڑ کررہی ہے، دستور کو بدلنا چاہتی ہے، انسانوں کے خون کو سستا اور گائے کے پیشاب کو مہنگا کررہی ہے۔
اسی طبقہ کے لوگ واٹس اپ کے ذریعہ دل آزار اور اہانت آمیز پیغام بھیجتے ہیں، اذان کو بند کرانے کی کوشش کرتے ہیں، مسجدوں کو نقصان پہونچاتے ہیں، مذہبی کتابوں کی توہین کرتے ہیں، قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، اور ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہ حالات وہ لوگ پید ا کررہے ہیں، جن کے نمائندے حکمرانی کررہے ہیں، یہ حکمران سماج میں دشمن عناصر کی پرورش اور پرداخت کررہے ہیں اوران کا شکار مسلمان ،ایس سی /ایس ٹی ،عیسائی اور اقلیتیں ہیں، یہ سب مظلوم ہیں، ان کے درد کا مداوا ،پریشانیوں کا علاج ،اور ہونے والے مظالم کے خاتمہ کا طریقہ یہ ہے کہ یہ مظلوم طبقہ ،یہ الگ الگ رہنے والا کمزور طبقہ ،ظلم کے خلاف ،زیادتی کو مٹانے کے لئے ایک جٹ ہوجائیں اور مشکل وقت میں یہ مظلوم طبقات ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔
مسئلہ صرف جان ومال کی حفاظت ،عزت وآبرو کا بچانا اور پروقار زندگی گذارنے کا نہیں ہے۔ان مسائل سے زیادہ اہم اپنے دین کی حفاظت ،اپنے شعائر اور شعار کی حفاظت ،اپنے ملی تشخص کی حفاظت ،اپنی تہذیب اورزبان کی حفاظت کا معاملہ بڑا اہم ہے۔شریعت ہماری روح ہے، قرآن ہماری بنیاد ہے، سنت نبوی ہماری راہ نماہے، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جاہ وجلال ہماری جان ہے۔ان سے کھلواڑ کی کوششوں کو ہم کیسے برداشت کرسکتے ہیں؟۔ ان حالات میں بھڑکنا،جذباتیت کا مظاہرہ کرنا، بلاوجہ جوش میں آجانا مسئلہ کا حل نہیں ہے____مسئلہ کا حل آئین کے دائرے میں تلاش کرنا ہے،ٹھنڈے دل ودماغ سے فیصلہ کرنا ہے، لانبی پلاننگ کرنی ہے، دشمنوں کو پہچاننا ہے، نئے دوستوں کو تلاش کرنا ہے اور ان غلطیوں سے بچنا ہے جنہیں اس ملت نے ماضی قریب یا ماضی بعید میں کیا ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں امیر شریعت نے یہ بھی کہاکہ ہمیں مثبت حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے،اپنے جمہوری حقوق کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہے، ہمیں اپنے سماج کے مزاج کو بدلنے کی پالیسی بنانی ہے، ہمیں اندھی حمایت اور روایتی وابستگی سے باہر نکلنا ہوگا،ہماری ذمہ داری ہے کہ سیاسی استحصال کرنے والوں کو پہچانیں، اپنے اندر شعور وآگہی پیدا کریں ،اورکلمہ واحدہ کی بنیاد پر جینے کا مزاج پیدا کریں۔مسلکی اختلافات سے دورہنے کی بھی انہوں نے تلقین کرتے ہوئے کہاکہ مسلک راہ عمل ہے،یہ دینی راہ ہے،یہ اختلاف اور ٹکرا? کا ذریعہ نہیں ہے، ہم نے اس دینی راہ کو اختلاف وانتشار کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔اسلام نے دوسرے مذاہب کے قدرمشترک کو آواز دی ہے، کیا شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ان کے نام لیوا تھوڑے سے مسلکی اختلا ف کو ایک واضح دائرہ میں نہیں رکھ سکتے ؟ اورآپس میں بھائی بھائی بن کر نہیں رہ سکتے؟۔
اس کانفرنس سے مولانا عبید اللہ خان اعظمی ، مولانا محفوظ عمرین رحمانی ،مولانا ابو طالب رحمانی اور وامن مشرام نے خطاب کیا جبکہ نظامت کا فریضہ جناب خالد انور اور مفتی محمد سہراب ندوی نے انجام دیا ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی ، نائب ناظم مولانا محمد ثناء الہدی ٰ قاسمی ، نائب ناظم مولانا سہیل احمد ندوی، نائب ناظم مولانا محمد سہراب ندوی ، نائب ناظم مولانا شبلی القاسمی نے تجاویز پیش کی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *