دیوبند کا فتویٰ عورتوں کا بارات میں جانا ناجائز

Share Article
Darul Uloom Deoband

حال ہی میں شادی بیاہ کے پروگرام میں مردوں اور عورتوں کےساتھ کھانا کھانے کو ناجائز بتانے کے بعد اب دارالعلوم نے ایک نیا فتویٰ جاری کر بارات میں عورتوں کے شامل ہونے کو ناجائز قرار دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، فتوے میں نصیحت کرتےہوئے کہا گیا کہ اگر عورتیں بارات میں شامل ہوتیہیں تو گناہ میں شامل ہوں گی۔

 

گاندھی خاندار کے بچائو میں شردپوار، وزیراعظم مودی کو گن گن کر دیا جواب

 

دیوبند علاقے گائوں پھلاسی کے رہنے والے نجم گوڑ نے دارالعلوم کے فتویٰ محکمہ دارالعلوم افتا سے سوال کیا تھا کہ عام طورپر گھر سے نکاح کے لیے جب دولہا نکلتا ہے تو اسے بارت کہتے ہیں۔کئی جگہ بارت میں ڈھول باجے بھی بجائے جاتےہیں اور دولہے کو گھوڑے پر بیٹھاکر بارت نکالی جاتی ہے۔ جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ پریوار اور رشتہ داروں سمیت جان پہچان کی عورتیں بھیش امل ہوتی ہیں۔ ایسی بارت میں غیر مرد بھیہوتے ہیںجس میں عورتوں کی بے پردگی ہوتی ہے۔ انکا سوال تھا کہ کیا اس طرح بارت لے جانے کی شریعت میں اجازت ہے؟

 

روبوٹ دنیا پر چھا رہا ہے 

مفتی کرام کی بینچ نے جاری فتوے میں کہا کہ جلوس میں ڈھول باجے اور مردوں کے ساتھ عورتوں کا جلوس پر جانا شریعت میں ناجائز ہے۔اس سے بچنا واجب ہے ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے۔ فتوے میں مفتی کرام نےکہا کہ اگر دولہن کو رخصت کراکر لانے کے لیے جانا ہو تو دولہے ساتھ گھر کے دو یا تین لوگوں جانا ہی کافی ہے۔

 

دہلی والے اپنی گاڑی کا پلیٹ نمبر یاد کرلیں 

دارالعلوم کے مہتمم مفتی عارف قاسمی نےکہا کہ شریعت محمدیہ میں بارات کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ انہوں نے شریعت کے حوالے سے بتایا کہ بارات میں کافی تعداد میں عورتوں اور مردوں کو لے جانے کی کوئی نظیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے نہیںملتی ہیں جو لوگ اس طرح سے باراتوں کو لے جارہے ہیں۔ وہ شریعت اسلام کی طرح نہیں۔ بلکہ دوسرے مذہب کے لوگوں سے متاثر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *