مغربی بنگال میں جمہوریت خطرے میں: گورنر

Share Article

 

مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکھڑ اور ریاستی حکومت کے درمیان ٹکرائو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ جمعرات کی صبح گورنر نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا بنگال میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے سی پی ایم پارٹی اراکین کے لیڈر سجن چکرورتی اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو اپنے ٹویٹس میں ٹیگ کیا اور لکھا کہ ممتا بنرجی کے وزراء نے گورنر کے بارے میں کئی قابل اعتراض تبصرہ کیا اور عام لوگوں کے درمیان ماحول کو کافی ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ سب کچھ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی معلومات میں کیا جا رہا ہے اور یہ تشویشناک معاملہ ہے۔ نہ صرف میرے لئے بلکہ ان تمام لوگوں کے لئے جو جمہوریت اور آئین پر انحصار کرتے ہیں، یہ حالات قابل قبول نہیں ہے۔

Image result for Democracy in West Bengal at risk: Governor 2019
قابل ذکر ہے کہ ایک دن پہلے ہی مرشدآباد میں گورنر کو ترنمول حامیوں نے سیاہ پرچم دکھائے تھے۔ مغربی بنگال کے مختلف انتظامات کو لے کر گورنر براہ راست ریاستی حکومت پر سوال کھڑا کرتے رہے ہیں جسے لے کر ترنمول کانگریس مسلسل حملہ آور ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ گورنر بہت سرگرم ہیں اور آئینی عہدے پر ہونے کے باوجود کسی سیاسی پارٹی کے نمائندے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ گورنر کا کہنا ہے کہ آئین میں موجود اختیارات انہیں یہ حق دیتے ہیں کہ ریاست کے لوگوں کے آئینی حقوق کو یقینی بنائیں اور کہیں کسی طرح کی کوئی خرابی ہے تو اسے اجاگر کر درست کرائیں۔ وہ ایسا کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *