ہندوستان اور دنیا میں جمہوریت

Share Article

نیشنل کونسل آف ایشین انڈین ایسوسی ایشن ( این سی اے آئی اے ) کے سبھی ممبروں اور مہمانوں کے ساتھ ہندوستان کے یوم آزادی کا جشن منانے کے لئے حاضر ہونا میرے لئے عزت کی بات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ بھی میری طرح یہ محسوس کرتے ہوں گے کہ اس جشن کے لئے ہندوستان کے بعد یہ سب سے اچھی جگہ ہے۔
جیسا کہ آپ میں سے کئی لوگ جانتے ہیں کہ یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے متعدد مواقع پر مجھے این سی اے آئی اے کے ممبروںسے روبرو ہونے کا موقع ملا ہے۔ ماضی میں اپنی تقریروں میں ہم نے ویمن امپاورمنٹ ، ہندوستان – امریکہ رشتوں کی رفتار اور ہندوستانیوں – امریکیوں کی ابھرتی قیادت وغیرہ موضوعات پر چرچا کی ہے۔
آج شام میں یہاں ایک الگ موضوع پر بات کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ وہ موضوع ہے ہندوستان اور دنیا میں جمہوریت۔ میرے لیکچر کا عنوان ہے ’’ میک انڈیا اے گلوبل بیکن آف ہوپ فار ڈیموکریسی ‘‘۔ میری ذاتی رائے میں ہندوستان کے پاس موقع ہے اور صلاحیت بھی ہے کہ وہ دنیا میں جمہوریت کا پیشوا بن سکے ۔ میں مختلف نکات پر بات کروں گا۔ ہندوستان کے لئے اس سلسلے میں قیادت کے کردار میں آنا کیوں اہم ہے؟خود اپنی جمہوریت کے معاملے میں آج ہندوستان کہاں کھڑا ہے؟ہندوستان کو جمہوریت کے لئے مثالی بنانے کے لئے ان تین اہم اصلاحی سیکٹروں کی پہچان جن پر کارروائی ضروری ہے اور آخر میں اس پر چرچا کریں گے کہ ہم ہندوستانی- امریکی ہندوستان کو عالمی پیشوا بنانے میں کیسے تعاون دے سکتے ہیں۔
جمہوریت میں گراوٹ
ہندوستان کے لئے عالمی پیشوا بننا اس لئے اہم ہے ، کیونکہ موجودہ صدی میں جمہوریت میں گراوٹ آئی ہے۔ دراصل گراوٹ کہنا صورت حال کی سنگینی کو کم کرکے تخمینہ کرنا ہوگا۔دنیا بھر کے ملکوں میں آزادی پر نظر رکھنے والے ادارہ فریڈم ہائوس نے اپنی 2018 سالانہ رپورٹ ’ڈیموکریسی ان کرائسس‘ ( بحران میں جمہوریت ) کی شروعات کچھ اس طرح کی ہے: پوری دنیا میں سیاسی اختیار اور شہری آزادی کمزور ہوکر سال 2017 میں پچھلی دہائی کی سب سے نچلے نکتے پر تھے۔یہ دور بے لگام تانا شاہوں کے بے خوف ہونے ، جمہوریت میں کمزوری اور انسانی آزادی کے لئے عالمی جدو جہد میں امریکہ کے ذریعہ اپنی قیادت کا کردار واپس لینے کا دور تھا۔اس طرح کے نتیجے تک پہنچنے والا فریڈم ہائوس کوئی اکیلا ادارہ نہیں ہے۔ فارین افیئرس میگزن کے مئی و جون ورژن میں چھپے اپنے مضمون ’ دی اینڈ آف دی ڈیموکریٹک سینچوری ‘ میں یاسچا مونک اور رابرٹو اسٹیفانو اس سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں۔وہ دلیل دیتے ہیں کہ پوری دنیا میں تاناشاہی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جمہوریہ عظیم طاقتور امریکہ میں انتظامی فیصلہ اور پیپلزم کا ابھار جمہوریت ( جسے ہم اب تک جانتے ہیں) کے لئے موت کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔
اسے ایک معاملے میں رکھ کر بات کرتے ہیں۔بیسویں صدی کے زیادہ تر حصے میں، امریکہ عالمی سطح پر جمہوریت اور جمہوری اقدار کو بڑھاوا دینے اور تشہیر کرنے کے معاملے میں قائد ملک تھا۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد وہ قیادت کمزور ہوتے ہوتے اب لگ بھگ غائب ہوگئی ہے۔ امریکہ فرسٹ پر ٹرمپ کے جنونی زور، روایتی معاونین کے ساتھ تعامل ،آنا کانی ، عالمی سمجھوتے سے پیچھے ہٹنا، روس کے ساتھ ناپسندیدہ رشتے ،خاص طور پر ہلسنکی میں پوتن کے ساتھ ملاقات اور کاروباری جنگ وغیرہ سے نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ امریکہ فرسٹ نہیں بلکہ امریکہ اکیلا اور آخری صف میں کھڑا ہے۔

 

 

 

 

 

 

ہندوستان میں جمہوریت
اگر جمہوریت اور جمہوریت کی تلاش کو موجودہ صدی کا سمت طے کرنے والا بننا ہے تو جمہوریت میںآئے صفر کو بھرنا لازمی ہے۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ 2019 میںہونے والے عام انتخابات میں یہاں 90 کروڑ سے زیادہ شہری ووٹ دینے کے اہل ہوںگے۔ ہندوستان کے بعد جو سب سے بڑا جمہوری ملک ہے، وہ ہے امریکہ جہاں صرف 24 کروڑ کے آس پاس اہل ووٹر ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان جمہوریت کے اس صفر کو بھرنے کے لئے جمہوری اقدار اور اس کے بنیادی سوالوں کے ساتھ آگے آنے کی شروعات کر سکتاہے؟اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ موجودہ وقت میں جواشارے ہیں، ان سے نہیں لگتا ہے کہ ہندوستان سے یہ کام ہو سکتاہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے ذریعہ 2017 میں 38 ملکوں میں کرائے گئے سروے میں پایا گیا ہے کہ ہندوستان میں ایک ایسے مضبوط لیڈر کے تئیں سب سے زیادہ حمایت ظاہر کی گئی، جس پر عدلیہ یا پارلیمنٹ کا زور نہ چلے۔ سروے میں سے 55 فیصد شرکاء نے کہا کہ مضبوط لیڈر کی حکومت اچھی حکومت ہوتی ہے۔ سروے کے صرف 8فیصد لوگوں نے کہا کہ یہ نمائندگی پر مبنی جمہوریت کے لئے پوری طرح پابند ہیں جبکہ 67فیصد نے کہا کہ وہ نما ئندگی پر مبنی جمہوریت کے لئے کم پابند ہیں۔9فیصد نے غیر جمہوری متبادل کو ترجیح دی تھی، جبکہ دیگر نے کوئی متبادل نہیں چنا۔
مونک اور فووا اپنے مضمون میں ہندوستان سے دنیا میں جمہوریت کے معاملے میں زیادہ سرگرم کردار کی توقع نہیں کرتے ۔اس کے لئے انہوں نے کئی اسباب پائے ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں: (1) لبرل ڈیموکریسی کا تحفظ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو نہ ہونا (2) روس کے ذریعہ کریمیا پر قبضے پر اقوام متحدہ کے مذمتی قرار داد پر ہندوستان کا ووٹنگ میں حصہ نہیں لینا (3)انٹر نیٹ پر سرکاری کنٹرول کی وکالت کرنے والے تانا شاہی حکومتوں کے ساتھ ہندوستان کا کھڑا ہونا۔
یہ جمہوریت کے پیشوا کی شکل میں ہندوستان کے ممکنہ کردار کے لئے اچھی خبر نہیں ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ ان سب کے خلاف کچھ مضبوط اشارے بھی ہیں، جن میں سے دو اہم اشارے یہ ہیں۔جس طرح سے ہندوستانی جمہوریت کا قیام کیا گیا تھا اور 2014 کے عام انتخابات میں جس طرح سے لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ہائفہ یونیورسٹی کی اسکالر آرنیٹ شنی اپنی نئی کتاب ہائو انڈیا بیکم ڈیموکریٹک : سٹیزن شپ اینڈ میکنگ دی یونیورسل فرنچائز میں تفصیل سے بتایا کہ کیسے ہندوستان نے شروعات میں ہی اپنی متنوع آبادی کو ووٹر کی شکل میں طاقتور بنایا تھا۔’دی ہندو‘ میں شائع اس کتاب کے تبصرہ میں مینی کپور کہتی ہیں کہ چونکہ آزادی کے بعد آئین کی تشکیل سے پہلے ووٹنگ لسٹ کا مسودہ تیار کیا جارہا تھا، لہٰذا شنی نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے ووٹر، شہری سے پہلے ووٹر بن گئے تھے۔ ملک کے قیام کے وقت الگ الگ حالات اور نظریات کو دیکھتے ہوئے اس وسیع جمہوری کارروائی کو چمتکاری ہی کہا جاسکتاتھا۔
حالانکہ 2014 کے عام انتخابات میں لوگوں کی حصہ داری فطری طور سے چمتکاری نہیں تھی لیکن یقینی طور سے یہ ایک بہت بڑی بات تھی۔ مندجہ ذیل نکات پر غور کریں ۔(1)اس الیکشن کے لئے 2009 کے انتخابات کے مقابلے میں 10 کروڑسے زیادہ ووٹر تھے، یعنی پچھلے انتخابات کے مقابلے ووٹروں کی تعداد میں لگ بھگ 15 فیصد کا اضافہ ہوا۔ (2)ان انتخابات کے لئے 9دنوں تک ووٹنگ ہوئی (3)93ہزار ووٹنگ سینٹروں میں 14 لاکھ ای وی ایم مشینون پر ووٹنگ کی مدد کے لئے 11 لاکھ سرکاری ملازمین اور 55لاکھ غیر سرکاری ملازمین کی ضرورت تھی اور (4)اس الیکشن میں 66فیصد سے زیادہ ووٹروں نے ووٹ دیا جو اب تک کا ریکارڈ ہے ۔
ان عوامل کے علاوہ اقتصادی ترقی میں تیزی کو دیکھتے ہوئے میرا ماننا ہے کہ ہندوستان عالمی سطح پر جمہوریت کے لئے ایک آدرش بننے کے لئے تیار ہو رہاہے۔ میں اس اعتراف کے بعد بھی کہتا ہوں کہ ہندوستان ایک ملک اور جمہوریت کی شکل میں کامل نہیں ہے۔یہاں بہت سے مسائل ہیں اور اگر ہندوستان کو دنیا میں جمہوریت کی قیادت کرنی ہے تو ان مسائل کا حل ضروری ہے۔(جاری)
(19اگست 2018 کو این سی اے آئی اے کے ممبروں کو فرینک اسلام کا خطاب)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *