حکیم اجمل خان کو بھارت رتن سے سرفراز کیے جانے کا مطالبہ

Share Article
azam-khan
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (اُترپردیش) کا ساتواں ریاستی کنونشن بہ اشتراک مولانا محمد علی جوہر ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر رامپور میں ’حکیم اجمل خاں کی خدمات بحوالہ رامپور‘ کے عنوان سے زیرصدارت پدم شری پروفیسر (حکیم) سیّد ظل الرحمن رامپور پبلک اسکول میں منعقد ہوا۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مسیح الملک حکیم اجمل خان دہلی کے بے تاج بادشاہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ جہاں عرصہ تک انڈین نیشنل کانگریس کمیٹی کے صدر تھے وہیں وہ ہر باوقار و بااثر متعدد تنظیموں کے بھی صدر تھے۔ یہاں تک کہ ہندو مہاسبھا کے جلسہ کی بھی انہوں نے صدارت کی۔ اس سے ان کے اعلیٰ اوصاف، غیر معمولی صلاحیت اور بہترین قیادت کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیح الملک حکیم اجمل خان نے اپنی قیمتی زندگی کے تقریباً 9 سال کا عرصہ رامپور میں عزت و وقار کے ساتھ گزارا اور اپنی خودداری پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ ان کے ساتھ نواب حامد علی مرحوم جس طرح سے بھروسہ کرتے تھے اسی طرح عوام میں بھی وہ بے حد مقبول تھے۔ حکیم سیّد ظل الرحمن نے مزید کہا کہ رامپور علم کا گہوارہ تھا اور اب رامپور کی نئی پہچان مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے طور پر ہورہی ہے اور اس کے لیے یقیناًجناب اعظم خاں مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اس موقع پر قائد قوم و ملت اور سابق وزیر حکومت اُترپردیش جناب اعظم خاں نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ رامپور کے نوابین کی بڑی شرمناک داستان ہے اور وہ غیر اسلامی فعل میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے اس شہر کے لیے ان کا کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے۔ جناب اعظم خاں نے موجودہ قیادت سے بھی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ تن آسانی میں مبتلا ہیں اور ملت کی ضرورتوں کی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے حوالے سے کہا کہ وہ بدترین حاکموں کے بہترین ملازم تھے لہٰذا ان کے نام سے ہم نے پہلے ہی ہسپتال قائم کر رکھا ہے ۔ لیکن ان کی عوام الناس کے لیے عظیم خدمات کے اعتراف میں اُن کے نام سے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی میں یونانی فیکلٹی اور کالج قائم ہوگا۔
مہمان ذی وقار پروفیسر ادریس احمد (پرنسپل اے اینڈ یو طبیہ کالج، قرول باغ، دہلی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکیم اجمل خاں سے پہلے ہندوستان میں علاج و معالجہ کا سلسلہ چند خاندانوں تک ہی محدود تھا جسے مسیح الملک حکیم اجمل خاں نے باہر نکالا اور یہ ان کا بڑا عظیم کارنامہ تھا۔ اس کے لیے انہوں نے بیرون ملک کے سفر بھی کیے اور 29 مارچ 1916 کو اُس وقت کے لارڈ وائسرائے سے طبیہ کالج اور ہسپتال کی بنیاد رکھی جو آج آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج کے نام سے دہلی میں اپنے آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔ پروفیسر فضل اللہ قادری (صدر، طبّی کانگریس بہار اسٹیٹ) نے ایک جامع مقالہ پیش کیا اور کہا کہ رامپور میں طب یونانی کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے اور یہاں معتبر اطبا کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ڈاکٹر عتیق جیلانی سالک (سابق رجسٹرار، رضا لائبریری رامپور) اور پروفیسر عبداللطیف علیگ نے بھی مقالہ پیش کیا۔
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے قومی نائب صدر ڈاکٹر عبدالجبار صدیقی تکمیلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یونانی ڈاکٹرز ترجیحی طور پر طب یونانی کی مفردات و مرکبات کے ذریعہ علاج کو ترجیح دیں۔ اس سے نہ صرف عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ ان کو خود بھی سماج میں عزت اور مقام حاصل ہوگا۔ ڈاکٹر سیّد احمد خاں (سکریٹری جنرل، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس) نے ایک قراداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، ممتاز مجاہد آزادی مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی قومی و طبّی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند سے انہیں بھارت رتن دینے کا اپنا مطالبہ دہراتی ہے جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔
ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں آیوروید اور طب یونانی کے لیے جو کارنامہ حکیم اجمل خاں نے انجام دیا وہ آج تک کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ نیشنل انٹیگریٹیڈ میڈیکل ایسوسی ایشن (نیما) رامپور کے صدر ڈاکٹر فصاحت علی خاں نے ڈاکٹر سیّد احمد خاں کی قرارداد سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’نیما‘ بھی مذکورہ قرارداد کی حمایت کرتی ہے۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے ریاستی صدر ڈاکٹر ایس ایم احسن اعجاز نے کہا کہ ہر اسمبلی حلقہ میں کم از کم ایک یونانی ڈسپنسری ہونی چاہیے اور ہمارے ضلعی صدور اپنے عوامی نمائندگان (ایم پی، ایم ایل اے، ضلع پنچایت صدر وغیرہ) پر دباؤ ڈال کر نئی یونانی ڈسپنسریز کو قائم کریں۔ ریاست میں کشیدہ حالات کے باوجود کثیر تعداد میں یونانی اطباء کی شرکت باعث رشک ہے اور ہم اپنے تمام شرکاء کا دل کی عمیق گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں۔
اہم شرکاء میں ڈاکٹر محمد ارشد غیاث، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر محمد راشد، ڈاکٹر نثار احمد خاں، ڈاکٹر جاوید خاں، ڈاکٹر کمال فاروقی، ڈاکٹر آئی ایم حسین، ڈاکٹر سجاد جیلانی، ڈاکٹر محمد نعیم خاں، ڈاکٹر عبداللہ قاسمی، حکیم عطاء الرحمن اجملی، ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی، ڈاکٹر مہدی حسن، ڈاکٹر شعیب خورشید، ڈاکٹر پی کے شرما، ڈاکٹر کرامت حسین، ڈاکٹر امریش، ڈاکٹر سلطان محمد خاں وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ پروگرام کی نظامت آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے ریاستی نائب صدر ڈاکٹر محمد عبدالسلام خاں نے بحسن و خوبی انجام دیے جبکہ پروگرام کا آغاز مولانا فرحت سلطانی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *