اے یو آصف
p-9bپارلیمانی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے ٹھیک تین دن پہلے، یعنی 2 مارچ، 2014 کو مرکز میں کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت کے ذریعے ایک سو برس قبل برطانوی حکومت کے دوران دہلی کے 123 وقف املاک کو ایکوائر کیے جانے کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے کر انہیں دہلی وقف بورڈ کے حوالے کیے جانے پر جس طرح بعض مسلم تنظیمیں و شخصیات خوشی سے جھوم اٹھی ہیں اور ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت، بالخصوص مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان کی قصیدہ خوانی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں برسر اقتدار حکومت کی مدح سرائی کی فکر تو ہے، لیکن مسئلہ کی حساسیت اور نزاکت کا شاید ذرا بھی احساس نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ مذکورہ 123 املاک میں سے 60 املاک لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس، جب کہ بقیہ 63 دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی فی الوقت تحویل میں ہیں۔ ان تمام املاک میں سے کچھ تو سرکار کے استعمال میں ہیں، تو کچھ بعض مسلم تنظیموں اور اشخاص کے قبضے میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت کی قصیدہ خوانی کرنے والی مسلم تنظیمیں و اشخاص ان املاک پر سے قبضوں کو ہٹانے میں آگے بڑھیں گی بھی؟
’چوتھی دنیا‘ (27 جنوری تا 2 فروری، 2014) کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے اس ایشو کو اٹھاتے ہوئے 123 وقف املاک کی مکمل فہرست، مکمل پتے کے ساتھ شائع کی تھی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ آج جو تنظیمیں پریس ریلیز کو اخبارات میں چھپواکر برسر اقتدار شخصیات کی مدح سرائی میں جٹ گئی ہیں، ان میں سے کسی، اور حتیٰ کہ سینٹرل وقف کونسل کے پاس بھی 123 وقف املاک کی فہرست موجود نہیں تھی۔ ویسے قابل مبارکباد ہیں اسلامک فقہ اکیڈمی (ایفا) انڈیا کے سکریٹری مولانا امین عثمانی، جنہوں نے ’چوتھی دنیا‘ کو اسے فراہم کرایا۔
آئیے، سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ یہ مسلم تنظیمیں اور شخصیات کون کون سی ہیں اور انہوں نے کیا کیا کہتے ہوئے پریس ریلیز کی سیاست کی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری عبدالرحیم قریشی نے کہا کہ ’’ہم یو پی اے کی صدر مسز سونیا گاندھی اور وزیر اعظم ہند شری منموہن سنگھ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اس کے تعلق سے جو دلچسپی جناب احمد پٹیل صاحب نے لی، وہ قابل قدر ہے، کیوں کہ ان کی وجہ سے مسز سونیا گاندھی نے اپنے رسوخ کا استعمال کیا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ یہ وہی مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے، جس کے جنرل سکریٹری مولانا سید نظام الدین نے ممبئی میں مکیش امبانی کے ذریعے مسجد اور یتیم خانہ کو توڑ کر وقف اراضی کو خریدنے کے بعد 27 منزلہ انتیلیا محل کے ایشو کو بورڈ کے اجلاس میں اٹھانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ تو صرف بابری مسجد اور اس کے ساتھ منسلک وقف اراضی کے معاملہ کو دیکھتا ہے، دیگر معاملوں کو نہیں دیکھتا ہے۔ عیاں رہے کہ اسی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قانونی مشیر یوسف حاتم مچھالہ اس معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ میں مکیش امبانی کے وکیل بنے تھے اور ان کے حق میں فیصلہ کرانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ نیز بعد میں معاملہ کے سپریم کورٹ آنے پر وہاں بھی اسے بار بار اسٹے دلانے میں ابھی تک دلچسپی لے رہے ہیں۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک اور اہم رہنما اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں مولانا محمد ولی رحمانی نے حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ احمد پٹیل کا اس سلسلے میں بھرپور تعاون رہا ہے اور اس فیصلے میں احمد پٹیل کی بروقت کارروائی کا بڑا دخل ہے۔ ویسے انہوں نے دیگر ملی رہنماؤں سے ذرا آگے بڑھ کر یہ بھی کہا کہ اب مرحلہ دہلی وقف بورڈ کو حوالہ کرنے کا ہے، لہٰذا وزارتِ شہری ترقیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانونی دشواریوں کو حل کرتے ہوئے الیکشن سے پہلے ان 123 جائدادوں کو دہلی وقف بورڈ کے حوالے کر دے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک اور رکن اور آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا کہ اقلیتی امور کے وزیر کے رحمن خان نے اتنی کم مدت میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جو کام انجام دیے ہیں، اس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے ان اقدام کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے جوڑتے ہوئے یہ توقع ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں اس پہل سے اوقاف کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور اسی آمدنی سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کام ممکن ہو سکیں گے۔ وقف بچاؤ تحریک کے چیئرمین حافظ منظور علی خاں نے یو پی اے حکومت کے اس فیصلہ کو تاخیر سے اٹھایا گیا مثبت قدم بتایا اور کہا کہ اب، جب کہ یہ فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے، تو ان کی وقف بورڈ کو سپردگی کی کارروائی انتخابات کے انعقاد سے قبل یقینی بنانی چاہیے۔سوال یہ ہے کہ کیا ایسا واقعی ممکن ہوپائے گا؟
2009 سے لے کر ابھی تک دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین چودھری متین احمد نے کہا کہ حکومت نے یہ بہت اچھا کام کیا ہے، جس کا فائدہ دہلی وقف بورڈ کو ملے گا۔ ویسے انہوں نے اس فیصلہ کے عملی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جو 123 جائداد حکومت نے وقف بورڈ کو واپس دی ہیں، ان میں سے زیادہ تر جائدادیں تو سرکاری طور پر استعمال ہو رہی ہیں اور کچھ عام لوگوں کے قبضے میں ہیں۔ لہٰذا، انہیں جلد از جلد خالی کرایا جائے گا اور دہلی وقف بورڈ کو سونپا جائے گا۔ ان کے مطابق، اس میں بہت سی جائدادیں درگاہ و مساجد کے استعمال میں ہیں، انہیں ویسے ہی برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی کابینہ نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ لڑائی گزشتہ 27 برسوں سے عدالت میں زیر سماعت تھی۔
کل ہند جمعیۃ الائمہ کے جنرل سکریٹری عبدالرحمن نے بھی اپنے ایک ریلیز میں اس فیصلہ کو قابل ستائش قرار دیا ہے۔ اسی بیچ 123 جائدادوں کی حوالگی کے لیے عدالت میں جدو جہد کرنے والے معروف وکیل محمد ساجد نے حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت کی نیت پر بھی شک کیا ہے۔ انہوں نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ عدالت نے تین برس قبل ہی فیصلہ سنا دیا تھا، مگر حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا اور اب انتخابات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اس وقت کا انتظار ہے، جب یہ جائدادیں دوسروں کے قبضہ سے خالی کراکے وقف بورڈ کے دائرہ اختیار میں آ جائیں گی۔ انہوں نے وشو ہندو پریشد کے اعتراض پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب عدالت نے ان کی دلیل خارج کردی تھی، تو اب رخنہ اندازی کرنے سے کیا فائدہ؟ عیاں رہے کہ وشو ہندو پریشد نے حکومت پر مسلم نوازی کا الزام لگایا ہے اور صدر جمہوریہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
مسلم تنظیموں و شخصیات کے مذکورہ بالا بیانات سے یہ بات واضح ہے کہ وہ حکومت کے ذریعے یہ فیصلہ قبل نہ کرکے اب انتخابات سے عین قبل کرنے پر بھی حکومت و دیگر شخصیات کو مبارکباد دینے میں زیادہ مصروف ہیں اور ان میں سے بیشتر کو اس کے نفاذ میں عملی دشواریوں کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔
غور طلب ہے کہ ان 123 وقف املاک میں سے متعدد املاک پر لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس اور ڈی ڈی اے کو اعتماد میں لے کر اور نہیں بھی لے کر مسلم تنظیمیں، ادارے اور شخصیات انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ’چوتھی دنیا‘ نے قبل الذکر شمارہ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑوں کے مرکزی دفاتر آئی ٹی او پر واقع مسجد عبدالنبی اور اس کے اطراف کی اراضی پر ہے اور وہاں جمعیت (محمود) کی تحویل میں تعمیر شدہ عمارتیں بھی ہیں۔ ان عمارتوں کی تعمیر بھی اس انداز سے کی گئی ہے کہ آئی ٹی او چوک پر سے یہ نہیں دکھائی پڑتی ہیں اور نمایاں طور پر مسجد عبدالنبی آثارِ قدیمہ کے طور پر نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ عمارتیں دہلی پولس ہیڈکوارٹرس سے سٹی ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں جب جمعیت (محمود) کے ایک ذمہ دار سے بات کی گئی، تو انہوں نے کہا کہ ’’یہ بحث ’چوتھی دنیا‘ نے بلا وجہ چھیڑ دی ہے، کیوں کہ اسے یہ اختیار تو اولین وزیر تعلیم ہند مولانا ابوالکلام آزاد نے دیا تھا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ واقف اراضی کو مولانا آزاد نے اپنی کس حیثیت میں جمعیت کو دیا اور آخر پھر جمعیت (محمود) اس تعلق سے کوئی ڈاکیومنٹ دکھانے سے کیوں گریز کر رہی ہے؟
اسی طرح جمعیت (ارشد) کے مولانا فضل الرحمن متھرا روڈ پر لنک ہاؤس کے سامنے مسجد غوثیان عرف جھیل کی پیاؤ میں براجمان ہیں اور دن رات وہیں رہتے ہیں۔ یہ بات بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ اسی طرح آزاد مارکیٹ روڈ (پرانی دلّی) پر مسجد تکیہ والی ہے، جہاں باہر سے تو لگتا ہے کہ یہاں صرف مسجد ہے، مگر اندر جاتے ہی وسیع و عریض عمارت بنی ہوئی ہے، جس میں مدرسہ تجوید القرآن اور بہت ہی خوبصورت مہمان خانہ ہے، جس میں فائیو اسٹار ہوٹل کے کمروں جیسی سہولیات فراہم ہیں۔ اسی طرح متھرا روڈ پر ہی ساؤتھ اندر پرستھ میں قادیانیوں نے پلاٹ نمبر 68/1 پر اپنا قبرستان بنا رکھا ہے۔ غور طلب ہے کہ قادیانیوں کو مسلم امت حضرت محمدؐ کو نبی آخر الزماں نہیں ماننے کے سبب خارج از اسلام سمجھتی ہے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا دہلی وقف بورڈ سرکاری اور غیر سرکاری بشمول مسلم تنظیموں، اداروں اور شخصیات کے ذریعے استعمال کی جا رہی ان املاک کو حکومت کے فیصلے کے بعد تمام قبضوں کو ہٹاکر اپنی تحویل میں لے پائے گی اور اس کا اپنے طور پر مسلم ملت کے مفاد میں استعمال بھی کر پائے گی؟ ظاہر سی بات ہے کہ دہلی وقف بورڈ کے لیے یہ کام قطعی آسان نہیں ہوگا، کیوں کہ اس نیک کام میں اسے سرکار کے محکمات اور اداروں کے ساتھ ساتھ مسلم تنظیموں، اداروں اور شخصیات سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔یہ بھی غور طلب ہے کہ دہلی وقف بورڈ کی اس وقت حالت بہت دگرگوں ہے۔ فی الوقت اس کا کوئی باضابطہ سی ای او نہیں ہے۔ مسلم افسران، جنہیں بھی یہ ذمہ داری دی جا رہی ہے، وہ اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ خیال رہے کہ دہلی وقف بورڈ کا کام کاج سی ای او کے ایک عرصہ سے چھٹی پر ہونے کے سبب متاثر ہو رہا ہے۔ موجودہ سی ای او علی اشرف گزشتہ سال نومبر سے تعطیل پر ہیں۔ تب سے اب تک سی ای او کے ذریعے انجام دیے جانے والے تمام کام نامکمل پڑے ہیں۔ 6 نومبر کو لیفٹیننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ نے اس صورتِ حال کو بھانپ کر نیاسی ای او مقرر کرنے کا حکم جاری کیا، تو نئے سی ای او نے چارج سنبھالنے کے بجائے بورڈ کے چیئرمین کو مکتوب بھیج دیا کہ چونکہ وہ تعطیل پر جا رہے ہیں، اس لیے چارج نہیں لے سکتے ہیں۔ نجیب جنگ نے لیفٹیننٹ گورنر کا چارج سنبھالتے ہی وقف بورڈ کے سی ای او شمیم اختر کا تبادلہ کر دیا تھا اور ان کی جگہ علی اشرف کا تقرر کیا تھا۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ علی اشرف اس عہدے پر کام کرنے کے خواہش مند نہیں تھے، لیکن انہوں نے مجبوری میں چارج لے لیا تھا اور کسی بہانے مستقل چھٹی پر ہیں۔
یہ سوال بھی کم اہم نہیں ہے کہ آخر مسلم افسران اس اہم عہدہ کی ذمہ داری نبھانے سے کیوں کترا رہے ہیں؟ ظاہر سی بات ہے کہ وہاں بد نظمی اور سیاست کے ساتھ ساتھ 123 وقف املاک کو تحویل میں لینے میں جو عملی دشواریاں درپیش ہوں گی، ان کے سبب ہی کوئی بھی مسلم افسر اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے گھبرا رہا ہے۔ ان حالات میں کیسے کوئی توقع کر سکتا ہے کہ انتخابات کے اعلان سے تین دنوں قبل 123 وقف املاک کے تعلق سے فیصلہ پر سنجیدگی سے کوئی عمل ہو بھی پائے گا؟
اور یہ بھی کیسے یقین کرلیاجائے کہ الیکشن کی تاریخوں کے اعلان سے 3دن پہلے کا یہ فیصلہ مسلمانوںکو محض خوش کرنے اور انہیں گمراہ کرنے کے لیے تو نہیں ہے؟ g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here