امیش چترویدی 

p-8bگزشتہ سال کے اخیر میں اسمبلی الیکشن تو پانچ ریاستوں میں ہوئے تھے اور امید یہی تھی کہ چار ریاستوں میں بھگوا جھنڈا پوری شان سے لہرائے گا، لیکن 4 دسمبر، 2013 کو آئے نتیجوں میں اگر کسی نے سب سے زیادہ چونکایا، تو وہ دہلی کے ہی نتیجے تھے۔ صرف ایک سال پرانی عام آدمی پارٹی نے ملک کی راجدھانی کی 28 سیٹوں پر قبضہ کر لیا۔ دہلی میں بھگوا پرچم لہرانے کی تیاریوں میں مصروف بھارتیہ جنتا پارٹی کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ تب سے یہ قیاس لگایا جا رہا تھا کہ عام انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو ملک کی راجدھانی میں زبردست کامیابی مل سکے گی۔ لیکن 14 جنوری، 2014 کو دہلی کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے کجریوال کے استعفیٰ نے کجریوال سے دبے چھپے ہی سہی، امید لگائے بیٹھے سماج کے اس طبقہ کو بھی جھٹکا لگا، جس نے کجریوال کو سیاست کی دنیا میں آئی اقربا پروری، فرقہ پرستی اور بدعنوانی میں تبدیلی پیدا کرنے والی شخصیت کے طور پر دیکھا تھا۔ دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ سماج میں بے شک ایسی سوچ رکھنے والا طبقہ اپنی تعداد کی بنیاد پر طاقتور نہ ہو، لیکن وہ اوپینین میکر کے طور پر سماج کے بڑے طبقے کو متاثر کرنے اور سماجی ایجنڈا طے کرنے کی حیثیت ضرور رکھتا ہے۔
عام انتخابات میں ملک کی راجدھانی کے انتخابی نتائج تعداد کے نظریہ سے بڑا اثر بھلے ہی نہ ڈال پائیں، لیکن ان کی اپنی سیاسی اہمیت ضرور رہے گی، اس لیے ان پر سیاسی پنڈتوں کی نظر کچھ زیادہ ہی ہے۔ دہلی میں کل سات لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ ان کا سلسلہ وار تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ دہلی کی سب سے مستحکم مانی جاتی ہے جنوبی دہلی سیٹ۔ اس سیٹ پر قریب ساڑھے پندرہ لاکھ ووٹر ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں یہاں سے سکھ مخالف فسادات کے ملزم رہے دہلی کانگریس کے شہ زور لیڈر سجن کمار کے چھوٹے بھائی رمیش کمار یہاں سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ رمیش کمار ایک بار پھر کانگریس کی طرف سے میدان میں ہیں۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہاں سے اپنی دہلی یونٹ کے جنرل سکریٹری اور تیز طرار ایم ایل اے رمیش بدھوڑی کو میدان میں اتارا ہے، جب کہ عام آدمی پارٹی نے دیوندر سہراوت کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اس حلقہ میں دہلی کے سب سے خوش حال علاقوں کے ساتھ ہی گاؤں کا بھی علاقہ آتا ہے، جس میں جاٹ اور گوجر ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ تغلق آباد سے ایم ایل اے رمیش بدھوڑی گوجر برادری سے آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دہلی کے گاؤں میں انہیں اس برادری کا ساتھ ملے گا۔ اس پارلیمانی حلقہ کی 10 میں سے 7 سیٹوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا قبضہ ہے، جب کہ تینوں ریزروڈ سیٹوں پر عام آدمی پارٹی کا قبضہ ہے۔ اگر زیادہ ایکویشن نہ گڑبڑائے، تو یہ سیٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہی حصے میں جا سکتی ہے۔
دہلی کی دوسری سیٹ مغربی دہلی ہے۔ کبھی باہری دہلی کے طور پر مشہور رہی اس سیٹ کے اعداد و شمار بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کھاتے میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں تقریباً پندرہ لاکھ ووٹر ہیں۔ یہاں سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور جاٹ برادری کے قد آور لیڈر صاحب سنگھ ورما کے بیٹے پرویش ورما کو ٹکٹ دیا ہے۔ پرویش فی الحال جنوبی دہلی کی مہرولی سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے ہیں۔ مغربی دہلی کی دس اسمبلی سیٹوں میں سے پانچ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا قبضہ ہے۔ اس کی حلیف پارٹی اکالی دَل کے پاس ایک سیٹ ہے، جب کہ عام آدمی پارٹی کے پاس چار سیٹیں ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے ہندی روزنامہ دینک جاگرن کے صحافی رہ چکے جرنیل سنگھ کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ جرنیل سنگھ کو دینک جاگرن نے چدمبرم پر جوتا چلانے کے بعد ہٹا دیا تھا۔ کانگریس نے اپنے موجودہ رکن پارلیمنٹ مہابل مشرا پر ہی داؤ لگایا ہے۔ اگر اسمبلی الیکشن کے نتائج کو دیکھیں، تو شمال مشرقی دہلی کا ایکویشن بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں سے دلت دانشور اور حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے اُدِت راج کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جب کہ کانگریس نے کرشنا تیرتھ کو میدان میں اتارا ہے۔ کرشنا تیرتھ یہاں سے موجودہ رکن پارلیمنٹ ہیں اور مرکزی حکومت میں وزیر بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک بار پھر وہ یہاں سے پارلیمنٹ کی سیڑھیاں طے کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی نے مہندر کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ یہاں قریب 18 لاکھ ووٹر ہیں۔ پچھلے اسمبلی الیکشن کے نتائج کا ایکویشن بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ہے، جس کے پاس دس میں سے پانچ سیٹیں ہیں، جب کہ عام آدمی پارٹی کو تین اور کانگریس کو دو سیٹیں ہی ملی تھیں۔
دہلی کی شمال مشرقی سیٹ پر بھی دلچسپ مقابلہ ہونا ہے۔ پچھلے اسمبلی الیکشن کے مد نظر یہ سیٹ بھی بی جے پی کے حق میں جاتی نظر آ رہی ہے۔ یہاں کی دس اسمبلی سیٹوں میں سے پانچ بی جے پی کے پاس، تین عام آدمی پارٹی کے پاس اور دو سیٹیں کانگریس کے پاس ہیں۔ اسی علاقے میں کراڑی اسمبلی سیٹ بھی آتی ہے، جہاں سے بی جے پی کے انل جھا نے دہلی میں سب سے زیادہ 49 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی تھی۔ یہاں پر بہار اور اتر پردیش سے آئے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے بھوجپوری گلوکار اور اداکار منوج تیواری کو اپنا امیدوار بنایا ہے، تو کانگریس نے اپنے موجودہ رکن پارلیمنٹ جے پرکاش اگروال کو ہی میدان میں اتارا ہے۔ وہیں عام آدمی پارٹی نے جے این یو کے پروفیسر اور سوشلسٹ آنند کمار کو اتارا ہے۔ آنند کمار کا تعلق بھی بھوجپور علاقے سے ہے، لیکن وہ ووٹروں پر کتنا اثر ڈال پائیں گے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
کانگریس نے تقریباً 16 لاکھ ووٹروں والی مشرقی دہلی سیٹ پر موجودہ رکن پارلیمنٹ سندیپ دکشت کو، تو بی جے پی نے نئے امیدوار مہیش گری کو میدان میں اتارا ہے۔ وہیں عام آدمی پارٹی نے گاندھی جی کے پوتے راج موہن گاندھی کو میدان میں اتارا ہے۔ پچھلے اسمبلی انتخابات کی بات کریں، تو اس حلقہ پر عام آدمی پارٹی کا دبدبہ ہے۔ اسمبلی انتخابات میں اسے یہاں سے دس میں سے پانچ سیٹیں ملی تھیں، جب کہ بی جے پی کو تین اور کانگریس کو صرف دو ہی سیٹیں مل پائی تھیں۔ یہاں سب سے زیادہ کمزور طبقے کے امیدوار ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے پچھلے الیکشن میں یہاں کی ہی پانی و بجلی کے مسئلے سب سے زیادہ اٹھائے تھے اور کانگریس کو اکھاڑ پھینکا تھا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے مشکل سیٹ نئی دہلی کی مانی جا رہی ہے، جہاں سے وکیل اور پارٹی کی ترجمان میناکشی لیکھی کو اس نے میدان میں اتارا ہے۔ کانگریس کی طرف سے پارٹی کے ترجمان اجے ماکن ہی ہیں، جب کہ عام آدمی پارٹی نے کھوجی صحافی آشیش کھیتان کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ تقریباً پونے چودہ لاکھ ووٹروں والی اس لوک سبھا سیٹ میں کل دس اسمبلی سیٹوں میں سے عام آدمی پارٹی کو سات سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی، جب کہ بی جے پی کو صرف تین سیٹوں پر ہی اطمینان کرنا پڑا تھا۔ کانگریس کو جہاں اجے ماکن کی صاف ستھری شبیہ پر بھروسہ ہے، تو عام آدمی پارٹی کو اپنے پرانے کرشمے کا۔ شاذیہ علمی یہاں سے امیدوار بننا چاہتی تھیں، لیکن انہیں یہاں سے ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اسی علاقے سے دہلی کا سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت جیت حاصل کرتی تھیں، لیکن اس بار اروِند کجریوال نے انہیں بری طرح شکست دے دی۔
دہلی کی سب سے ہائی پروفائل سیٹ بن گئی ہے چاندنی چوک، جہاں سے دہلی بی جے پی کے صدر ہرش وردھن، عام آدمی پارٹی سے صحافی آشوتوش اور کانگریس سے مرکزی وزیر کپل سبل میدان میں ہیں۔ قریب ساڑھے چودہ لاکھ ووٹروں والی اس لوک سبھا سیٹ کی کل دس اسمبلی سیٹوں میں سے چار عام آدمی پارٹی کے پاس، تین بی جے پی کے پاس، دو کانگریس کے پاس اور ایک سیٹ جے ڈی یو کے پاس ہے۔ عام آدمی پارٹی کو امید ہے کہ وہ یہاں سے کرشمہ دکھا سکتی ہے، تو دوسری طرف ہرش وردھن کے سہارے بی جے پی جیت کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ کپل سبل بھی خود کو یہاں سے دوہرانے کی کوشش میں ہیں، لیکن جس طرح یہاں کی گلیوں میں آشوتوش کی مخالفت ہوئی، اس سے صاف ہے کہ عام آدمی پارٹی کے لیے یہاں سے راہ آسان نہیں ہے۔
دہلی میں یوں تو گڑ گاؤں اور غازی آباد کی سیٹیں نہیں آتی ہیں، لیکن دونوں دہلی سے قریب ہونے اور ہائی پروفائل امیدواروں کی وجہ سے اہم ہو گئی ہیں۔ گڑگاؤں سے عام آدمی پارٹی کے یوگیندر یادو اور بی جے پی سے راؤ اندرجیت سنگھ میدان میں ہیں، تو کانگریس نے راؤ دھرم پال کو ٹکٹ دیا ہے۔ گڑگاؤں ریواڑی نام کی یہ سیٹ یادوؤں کی اکثریت والی مانی جاتی ہے، اسی لیے تینوں پارٹیوں نے ہی یادو امیدواروں کو ہی یہاں سے کھڑا کیا ہے۔ یوگیندر یادو کی وجہ سے یہ مقابلہ دلچسپ ہوگا، حالانکہ اب تک یہ مانا جا رہا ہے کہ راؤ اندرجیت کا ہی پلڑا یہاں سے بھاری ہے۔
غازی آباد کے تقریباً 23 لاکھ ووٹروں پر بھی لوگوں کی نگاہ ہے، جہاں سے بی جے پی نے جنرل وی کے سنگھ، کانگریس نے فلم اداکار راج ببر اور عام آدمی پارٹی نے سابق صحافی شاذیہ علمی کو میدان میں اتارا ہے۔ غازی آباد عام آدمی پارٹی کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے۔ پارٹی کے تینوں اہم لیڈر اروِند کجریوال، منیش سسودیا، اور کمار وشواس یہیں کے باشندے ہیں۔ پارٹی کی تشکیل سے لے کر دہلی میں حکومت بنانے اور چلانے کی تمام حکمت عملیاں غازی آباد میں ہی بنیں۔ عام آدمی پارٹی کی امیدوار شاذیہ علمی کے لیے سب سے بڑی چنوتی پارٹی کی جائے پیدائش پر ہی اثر دکھانے کی ہے۔ یہاں کی پانچ اسمبلی سیٹوں میں سے چار پر بی ایس پی کا قبضہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس لحاظ سے فی الحال پلڑا اسی کے حق میں بھاری لگ رہا ہے، لیکن اس بار اہم مقابلہ وی کے سنگھ اور راج ببر کے درمیان مانا جا رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہے دونوں کا اپنا قد اور شخصیت۔
انتخابی نتائج کا ٹھیک سے تجزیہ کر پانا آسان نہیں ہوتا، لیکن یہ طے ہے کہ مقامی مدعوں کے بجائے اس بار دہلی سمیت اس کی آس پاس کی سیٹوں پر بھی قومی مدعے ہی اثر ڈالیں گے اور اس کی بڑی وجہ ان کا شہری علاقہ ہونا ہے۔ البتہ یہ بات طے مانی جا رہی ہے کہ عام آدمی پارٹی کو لے کر جو جوش دہلی کے اسمبلی انتخابات میں نظر آ رہا تھا، اس میں کمی ضرور آئی ہے۔ g
(مضمون نگار ٹی وی صحافی اور کالم نگار ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here