دہلی کے مسلمانوں کا جم کر ووٹ ڈالنا خوش آؑؑؑئند

Share Article

ڈاکٹر وسیم راشد

نئی دہلی سے پرانی دہلی کا سفر کرتے ہوئے کئی پولنگ اسٹیشن نظر میں آئے، جس پر بے تحاشہ بھیڑ لگی ہوئی تھی اور اس میں برقعہ پوش خواتین اور حجاب لگائے لڑکیاں نظر آئیں۔ جامع مسجد پر پولنگ بوتھ پر برقعہ پوش خواتین لمبی قطار میں کھڑی تھیں۔ بلی ماران، چاندنی چوک میں بھی یہی حال تھا ۔ برقعہ پوش خواتین سے زیادہ حجاب اوڑھے مسلم لڑکیاں تھیں، جن میں شاید کچھ پہلی بار ووٹ ڈالنے آئی ہوں گی۔

p-4دہلی کی سات سیٹوں پر تیسرے مرحلہ میں ووٹنگ ہوئی اور ریکارڈ ووٹنگ ہوئی۔ اتفاق کی بات ہے کہ اپنے حلقہ مشرقی دہلی سے ووٹ ڈالنے کے بعد کچھ وجوہات کی بناء پر جنوبی دہلی کے لاجپت نگر کے علاقہ سے گزرتے ہوئے نئی دہلی جانا پڑا اور پھر وہاں سے پرانی دہلی یعنی چاندنی چوک حلقہ میں۔ اس طرح دلی سے 4حلقوں میں انتخابی سرگرمیوں پر نظر پڑی۔ مشرقی دہلی کے اوکھلا علاقہ میں چاروں طرف نبڑا ہی جو ش و خروش نظر آیا۔ جگہ جگہ سفید کرتا پائجامہ پہنے بزرگ، نوجوان نظر آئے اور اس سے بھی زیادہ خوشی کا مقام تھا کہ برقعہ پوش خواتین بڑی تعداد میں نظر آئیں۔ مشرقی دہلی میں جنگ پورہ، اوکھلا،کونڈلی، پٹ پڑ گنج، لکشمی نگر، کرشنا نگر ، گاندھی نگر ، شاہدرہ وغیرہ حلقے شامل ہیں اور یہ سبھی مسلم اکثریتی علاقے ہیں۔ مشرقی دہلی میں65.59فیصد پولنگ ہوئی جو 2009میں53.43فیصد تھی یعنی 13فیصد زیادہ۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ اس حلقہ سے مسلمانوں نے جم کر ووٹ دیا ہے۔ بے پناہ رش تھا ۔ اوکھلا ، جامعہ ، ابو الفضل انکلیو ، ذاکر نگر، بٹلہ ہائوس میں سبھی مراکز پر اور مسلم خواتین برقعہ میں جوق در جوق اپنے اپنے پولنگ مراکز کی جانب خوشی خوشی رواں دواں تھیں۔ اوکھلا کا پورا علاقہ کسی تہوار کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پولنگ بوجھ پر تعینات افسروں کا رویہ بھی کچھ بہتر تھا اور بزرگوں کو پکڑ پکڑ کر لے جایا جا رہا تھا۔

نئی دہلی کی شان یہ وہ علاقہ ہے جہاں پارلیمنٹ ہائوس ہے، انڈیا گیٹ ہے۔ اس حلقہ میں رفیع مارگ، پٹیل نگر، راجندر نگر، مالویہ نگر، سروجنی نگر، دہلی کینٹ ، گریٹرکیلاش وغیرہ انتخابی حلقے ہیں اور ان میں یوں تو مسلم آبادی کم ہے لیکن کچھ حلقوں میں پولنگ اسٹیشن پر مسلم خواتین کی اچھی خاصی تعداد نظر آئی۔ نئی دہلی کی سیٹ وہ سیٹ ہے، جس پر بلراج مدھوک ، اٹل بہاری واجپئی، لعل کرشن اڈوانی اور راجیش کھنہ ایم پی رہے ہیں۔ یہ دہلی کا دل کہلائے جانے والا علاقہ ہے۔

مسلم حلقوں میں عام طور پر جب بھی الیکشن ہوتا ہے پولس اہلکاروں کا رویہ بہت ہی خراب ہوتا ہے۔ اس بار کچھ بدلا بدلا سا ماحول بھی تھا اور پولس بھی نرم تھی۔ اس حلقہ سے بی جے پی کے مہیش گری ، کانگریس کے سندیپ دکشت ، آپ پارٹی کے راجموہن گاندھی ، بی ایس پی کے محمد شکیل سیفی اور کئی آزاد امیدوار بھی شامل تھے۔
شکیل سیفی کی شکل و صورت اور نام سے دلی والے بخوبی واقف ہیں ، ہر اردو اخبار میں پہلے صفحہ پر ان کی تصاویر شائع ہوتی ہیں اور برسوں سے اردو اخبار شکیل سیفی کے اشتہارات سے لاکھوں روپیہ کما چکے ہیں۔ شکیل سیفی عمرہ جیسی سعادت حاصل کرنے بھی جاتے ہیں تو اس کو خوب اچھی طرح کیش کرتے ہیں۔ اس الیکشن میں ان کو کتنا ووٹ پڑا ، یہ تو 16مئی کو ہی پتہ چلے گا، لیکن اوکھلا حلقہ سے بی جے پی سے زیادہ عام آدمی پارٹی کا زور زیادہ لگا ۔ کانگریس کا بھی کچھ پھیکا پھیکا سا معاملہ تھا۔
جنوبی دہلی کی پارلیمانی سیٹ 1989-90سے 2009تک بی جے پی کی سیٹ تھی، جس پر 2بار مدن لعل کھورانہ، 2بار سشما سوراج اور 2بار وجے کمار ملہوترہ ایم پی رہے ۔ 2009میں کانگریس کو یہ سیٹ ملی اور رمیش کمار ایم پی بنے۔ جنوبی دہلی میں لاجپت نگر ، مہرولی، دیولی، امبیڈ کر نگر، سنگم وہار، کالکا جی، تغلق آباد، بدرپور ، آر کے پورم ، راجوری گارڈن علاقے ہیں، جن میں مسلم اکثریت تو بہت زیادہ نہیں ہے، مگر کالکا جی سے گزرتے ہوئے لاجپت نگر تک کئی پولنگ بوتھ پر مسلم خواتین برقعہ میں نظر آئیں ان کے ساتھ تقریباً 18سے 25سال کی لڑکیاں بھی دکھائی دیں۔
ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ دہلی کی مسلم خواتین بنا خوف کے ووٹ ڈالنے نکلی ہیں۔ دہلی میں ایسی فضا بھی مسلم خواتین کو پہلی بار ملی ہے اور اب مسلم خواتین پہلے کے مقابلہ زیادہ خواندہ ہیں۔ اس کے علاوہ ووٹ کا اختیار ان کو وقار بخشتا ہے۔ اس حلقہ میں 62.67فیصد ووٹ پڑا ہے ، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس بار دہلی کے عوام نے کھل کر اور جم کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔اس حلقہ سے اس بار بی جے پی کے رمیش بدھوڑی ، کانگریس کے سابق ایم پی رمیش کمار اور آپ پارٹی سے دیوندر سہراوت جانے مانے چہرے تھے، باقی روبی یادو آزاد امیدوار تھیں۔ اس حلقہ سے 2009میں 47.41فیصد پولنگ ہوئی تھی ، جو اس بار تقریباً 20فیصد زیادہ تھی۔
نئی دہلی کی شان یہ وہ علاقہ ہے جہاں پارلیمنٹ ہائوس ہے، انڈیا گیٹ ہے۔ اس حلقہ میں رفیع مارگ، پٹیل نگر، راجندر نگر، مالویہ نگر، سروجنی نگر، دہلی کینٹ ، گریٹرکیلاش وغیرہ انتخابی حلقے ہیں اور ان میں یوں تو مسلم آبادی کم ہے لیکن کچھ حلقوں میں پولنگ اسٹیشن پر مسلم خواتین کی اچھی خاصی تعداد نظر آئی۔ نئی دہلی کی سیٹ وہ سیٹ ہے، جس پر بلراج مدھوک ، اٹل بہاری واجپئی، لعل کرشن اڈوانی اور راجیش کھنہ ایم پی رہے ہیں۔ یہ دہلی کا دل کہلائے جانے والا علاقہ ہے۔ یہاں سے بی جے پی کی میناکشی لیکھی، کانگریس سے اجے ماکن، آپ سے آشیش کھیتان اور ترنمول کانگریس سے میوا جیت چٹرجی امیدوار تھے۔ اس انتخابی حلقہ میں2009میں تقریباً 55فیصد ووٹ پڑا تھا، جو اس بار 65.03ہے یعنی تقریباً10سے 11فیصد ووٹ زیادہ پڑا ہے۔
نئی دہلی سے پرانی دہلی کا سفر کرتے ہوئے کئی پولنگ اسٹیشن نظر میں آئے، جس پر بے تحاشہ بھیڑ لگی ہوئی تھی اور اس میں برقعہ پوش خواتین اور حجاب لگائے لڑکیاں نظر آئیں۔ جامع مسجد پر پولنگ بوتھ پر برقعہ پوش خواتین لمبی قطار میں کھڑی تھیں۔ بلی ماران، چاندنی چوک میں بھی یہی حال تھا ۔ برقعہ پوش خواتین سے زیادہ حجاب اوڑھے مسلم لڑکیاں تھیں، جن میں شاید کچھ پہلی بار ووٹ ڈالنے آئی ہوں گی۔
چاندنی چوک دہلی کا سب سے زیادہ مشہور و معروف پارلیمانی حلقہ ہے، جو ہمیشہ خبروں میں رہتا ہے۔ اس حلقہ سے کئی اہم لیڈر ایم پی رہے ہیں، جن میں سبھدرا جوشی، سکندر بخت، بھیکو رام جین، جے پرکاش اگروال، وجے گوئل ایم پی رہے۔ اب 2004سے کپل سبل ایم پی ہیں۔ اس بار بی جے پی سے ڈاکٹر ہرش وردھن ، کانگریس سے کپل سبل ، آپ سے آشوتوش ، ترنمول کانگریس سے ہری اوم شرما امیدوار تھے۔ چاندنی چوک میں بھی اس بار ریکارڈ ووٹنگ ہوئی اور یہ فیصد 2009کے 57.52سے بڑھ کر 66.88فیصد رہا۔ اس علاقہ میں مسلما ن بڑی تعداد میں ہیں اور ایک یہ حلقہ اور دوسرا شمال مشرقی حلقہ دونوں سے یہ مانگ کی جا رہی تھی کہ کانگریس اس بار کوئی مسلم امیدوار انتخاب میں اتارے گی مگر ایسا نہیں ہوا اور پارٹی نے کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔ سوائے بی ایس پی کے چاندنی چوک، شمال مشرقی دہلی اور مشرقی دہلی میں اس بار مسلم ووٹ کانگریس اور عام آدمی کو زیادہ پڑا ہے۔ مسلم علاقوں میں آپ پارٹی کا بہت زور دکھائی دیا۔ حیرت کی بات ہے کہ چاندنی چوک حلقہ میں مقابلہ ہرش وردھن اور آشوتوش میں زیادہ نظر آ رہا تھا۔
دہلی کی ساتوں سیٹوں پر اس بار فیصد زیادہ رہا۔ دہلی میں2004کے مقابلے اس بار مسلم نوجوان ووٹر س کی تعداد زیادہ ہے اور مسلم نوجوان خاص کر اس بار آپ پارٹی سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ کیجریوال کے استعفیٰ دینے سے مسلمانوں کو مایوسی ضرور ہوئی ہے۔ مگر پھر بھی وہ اب کانگریس کے مقابلہ آپ پارٹی کو ووٹ دینا چاہتے تھے۔ کانگریس کا گڑھ کہے جانے والے جامع مسجد ، چاندنی چوک حلقہ سے کوئی ترقی نظر نہیں آتی ہے، نہ ہی شمال مشرقی دہلی میں اسکول، کالج، مدرسے قائم ہوئے۔ اسپتالوں کی حالت بھی بے حد خراب ہے۔ پرانی دہلی میں جامع مسجد علاقہ کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔ یہاں کے اردو میڈیم اسکولوں کو ہندی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ 2علاقے شمال مشرقی دہلی اور مشرقی دہلی وننگ فیکٹر والے علاقے ہیں، مگر اب ان علاقوں کے مسلمان بھی کانگریس کی دوہری پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ پوری دہلی میں ہی یہی حال ہے۔ مسلمانوں میں ا س بات ووٹ ڈالنے کے تعلق سے بے حد تبدیلی آئی ہے اور اس کی مثال دہلی میں ریکارڈ توڑ ووٹنگ اور مسلم نوجوان عورتوں اور لڑکیوں کا بڑی تعداد میں باہر نکل کر ووٹ ڈالنا ہے۔ شاید مسلمان اب بات کو اچھی طرح جان چکے ہیں کہ ان کا ووٹ کتنا قیمتی ہے اور ان کے ووٹ سے ملک کی تقدیر پر بدلے نہ بدلے کم سے کم مسلمانوں کو بہتر امیدوار مل سکتا ہے۔ اس بار مسلم ووٹرس کا جو ش کیا تبدیلی لائے گا یہ تو 16مئی کو ہی پتہ چل پائے گا مگر یہ تبدیلی خوش آئند ضرور ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *