دہلی کا انتخابی رجحان 2014

Share Article

ڈاکٹر وسیم راشد
p-3دارالخلافہ دلی جو 2014الیکشن کی سرگرمیوں میں اس وقت ایسا ڈوبا ہوا ہے، جیسے کوئی تہویار آنے والا ہو سیاسی دائوں پیچ، ٹکٹوں کا بٹوارہ ، ایک دوسرے پر چھینٹا کشی اور ساتھ میں دعووں اور وعدوں کا جھوٹا پر وپینگڈہ ، سیاسی پارٹیوں کی ریلیاں اور ان ریلیوں میں امڈی بھیڑ پر ہرپارٹی کا خود کو بہتر بتانا ۔ ظاہر ہے دہلی مرکز ہے اور ہر سیاسی پارٹی کے دھارے دہلی سے ہی جڑے ہیں۔
قومی راجدھانی دلی میں 7لوک سبھا سیٹیں ہیں اور اس وقت ساتوں پر کانگریس کا راج ہے۔ دہلی کے سات پارلیمانی حلقے جن میں پندرہویں لوک سبھا انتابات میں ساتوں سیٹیں کانگریس کو ملیں اور ان ساتوں سیٹوں پر کانگریس کے بے حد سینئر اور تجربہ کار ممبر پارلیمنٹ کپل سبل، جے پرکاش اگروال اور سندیپ دکشت بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کرشنا تیرتھ ، مہابل مشرا اور رمیش کمار کے نام ہیں، جن میں کرشنا تیرتھ بھی بے حد سینئر، فعال اور تجربہ کار لیڈر مانی جاتی ہیں۔
اس بار الیکشن میں دہلی کے تمام لوک سبھا حلقوں میں کس کی جیت ہوگی اور کانگریس کو کتنی کامیابی ملنے والی ہے یہ تو ابھی صاف نہیں ہے مگر ایک بات ضرور ہے کہ دہلی میں ابھی سے کانگریس مخالف لہر کا اندازہ بخوبی ہونے لگا ہے اور کانگریس کو ساتوں لوک سبھا سیٹوں پر سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ خاص طور پر شمال مشرقی دہلی، مشرقی دہلی اور چاندنی چوک حلقوں سے جو خالص کانگریس کی سیٹ مانی جاتی ہے، وہاں اس بار کانگریس کو اپنا دبدبہ برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ دشواری ہو سکتی ہے۔
یہ 3ایسے حلقے ہیں، جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ دہلی کا چاندنی چوک حلقہ جو کانگریس کا گڑھ ہے ، جہاں سے کپل سبل بی جے پی کی خاتون امیدوار سمرتی ایرانی کو ہرا کر 2004میں لوک سبھا میں آئے تھے اور پھر 2009میںبی جے پی امیدوار وجیندر گپتا کو ہرا کر عوام نے ان ہی کو چاندنی چوک کا تاج پہنایا۔ 4,65,713ووٹوں سے جیت حاصل کر کے کپل سبل دہلی کے دل والے حلقے سے کامیاب ہوئے ۔ کپل سبل پرانے کانگریسی ہیں ۔ سینٹ اسٹیفنس سے تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں اور کامیاب وکیل ہیں۔ یوں تو اس حلقہ میں مسلم اکثریت والے علاقہ جیسے جامع مسجد، بلی ماران، مٹیا محل، صدر بازار، قصاب پورہ، اجمیری گیٹ، شکور بستی وغیرہ ہیں اور ان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ اتفاق ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کم تعلیم یافتہ مزدور پیشہ روز کی اجرت والے مسلمان بستے ہیں، اس حلقہ سے صرف ایک بار ایک مسلم امیدوار سکندر بخت جنتا پارٹی کی لہر سے 1977میں کامیاب ہوئے تھے، ورنہ 15ویں لوک سبھا تک تقریباً 4بار کانگریس کا ہی راج رہا۔ ان میں جے پرکاش اگروال بھی جو 15ویں لوک سبھا میں شمال مشرقی دہلی سے لوک سبھا امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے 2بار اسی چاندنی چوک حلقے سے چنے گئے تھے۔ یہ کانگریس کی وہ سیٹ ہے، جس پرکانگریس کی سبھدرا جوشی، بھیکو رام جین اور تارا چند جیسے سینئر لیڈر ایم پی رہے ہیں۔ کپل سبل مسلمانوں کے بھی اور دوسرے مذاہب کے بھی بے حد چہیتے ہیں۔ مسلم علاقوں کی فلاح و بہبود کے لئے یوں تو کہنے کو کپل سبل نے کافی کام کئے ہیں اور قومی راجدھانی دہلی میں اردو کی ترویج و ترقی کے لئے بھی ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ مگرنظرکوئی کام نہیں آتا۔
جے پرکاش اگروال شمال مشرقی سیٹ سے 2009میں منتخب ہوئے تھے ۔ 2008سے پہلے شمال مشرقی دہلی کو Outer Delhiکا حلقہ کہا جاتا تھا۔ پہلی بار 2009میں اسی حلقہ سے لوک سبھا سیٹ کا چنائو ہوا اور جے پرکاش اگروال تقریباً 5,18,191ووٹوں سے کامیاب ہوئے ۔ اسی حلقہ میں بھی مسلم اکثریت والے علاقے جیسے سیما پوری، سیلم پور، گھونڈہ ، مصطفی آباد ، برابری گائوں وغیرہ شامل ہیں۔ جے پرکاش اگروال دہلی میں ہی پیدا ہوئے اور پرانی دہلی کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جے پرکاش اگروال خالص دہلی والے ہونے کے ناطے دہلی میں بہت ہی مشہور ہیں اور مسلمان بھی ان پر کافی بھروسہ کرتے ہیں۔

دہلی کی تقریباً دو کروڑ 20لاکھ آبادی ہے اور بلاشبہ دہلی ہندوستان کی ہی نہیں دنیا کی رقبہ کے لحاظ سے بھی اور آبادی کے لحاظ سے بھی دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ دہلی میں تقریباً ایک کروڑ 19لاکھ ووٹر س ہیں، جن میں سے تقریباً 66.11مرد ووٹرس اور 53.20لاکھ خواتین ووٹرس ہیں، اس میں نوجوان ووٹرس تقریباً 4لاکھ کے قریب ہیں اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پوری دہلی میں کانگریس مخالف لہر چل رہی ہے ، اب کس کی لہر ہے یہ ابھی تک کوئی نہیں بتا سکتا۔

دہلی کا ایک اور اہم حلقہ مشرقی دہلی کا ہے، جس کے ممبر پارلیمنٹ شیلا دکشت کے بیٹے سندیپ دکشت تھے۔ مشرقی دہلی بھی مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کی وجہ سے کافی اہم مانا جاتا ہے ۔ اسی حلقہ میں جنگ پورہ اوکھلا ، ترلوک پوری ، کونڈلی، پٹ پڑ گنج، وشواس نگر، گاندھی نگر اور شاہدرہ وغیرہ آتے ہیں۔ اسمبلی اوکھلا بہت بڑا مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ یہ حلقہ دہلی کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا حلقہ ہے۔ اسی سیٹ پر بے حد نامور سینئر لیڈر ایچ کے ایل بھگت چار بار ایم پی رہے ہیں۔ ایم پی کے مقابلہ سندیپ دکشت کا رپورٹ کارڈ بھی کوئی خاص نہیں ہے۔ 15سال سے وزیر اعلیٰ رہ چکیں شیلا دکشت کی وجہ سے سندیپ دکشت کو لوگ ضرور جانتے ہیں لیکن ان حلقوں میں ممبر اسمبلی کوایسا لگ رہا ہے کہ لوگ زیادہ جانتے اور گردانتے ہیں۔ بھلے ہی سندیپ دکشت یہاں کے ممبر پارلیمنٹ ہیں لیکن ان حلقوں کے لئے انھوں نے کوئی خاص کام نہیں کیا۔
نئی دہلی کی سیٹ پر اس وقت اجے ماکن ایم پی ہیں، دہلی کے اہم کاروباری اور کمرشیل علاقے اسی انتخابی حلقے کے تحت آتے ہیں۔ جن میں قرول باغ ، پٹیل نگر ، موتی نگر، دہلی گیٹ، راجندر نگر، کستوربا گاندھی نگر ، مالویہ نگر ، آر کے پورم ، گریٹر کیلاش شامل ہیں۔ یہ وہ سیٹ ہے، جس پر زیادہ تر بی جے پی کا قبضہ رہا ہے۔ اٹل بہاری واجپئی اور ایل کے اڈوانی اس سیٹ پر رہے ہیں ۔ بلراج مدھوک جیسے سینئر لیڈر اور سچیتاکرپلانی جیسی مجاہد آزادی اس سیٹ سے ممبر پارلیمنٹ رہی ہیں۔ 1992-96تک راجیش کھنہ بھی اس سیٹ سے ایم پی رہے ہین۔ یہ دہلی کے بے حد صاف ستھرے اور مہنگے علاقے ہیں، جن میں زیادہ تر اکثریت ہندوئوں کی ہے۔ ویسے یہاں سبھی مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔
شمال مشرقی دہلی جس کی ممبر پارلیمنٹ کرشنا تیرتھ ہیں، جو دہلی کی رہنے والی ہیں۔ یہ حلقہ بھی 2008میں وجود میں آیا، اس حلقہ میں نریلا، بادلی ، رٹھالہ ، روہنی، نانگلوئی ، منگول پوری ، سلطان پور مجرہ جیسے علاقے شامل ہیں۔ یہ بھی خالص ہندوئوں کی اکثریت والے علاقے ہیں۔ کرشنا تیرتھ اسی حلقہ میں کافی مقبول ہیں لیکن اگر حلقہ کے لوگوں سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں تو کوئی بھی بہت زیادہ خوش نظر نہیں آتا۔
مغربی دہلی اور جنوبی دہلی دونوں ہی حلقے بے حد اہم علاقوں والے حلقے ہیں ، ان میں مغربی دہلی تو 2008میں لوک سبھا کا حلقہ بنایا گیا ہے۔جن میں راجوری گارڈن، تلک نگر ، ہری نگر ، جنک پوری ، وکاس پوری ، دوارکا ، اتم نگر، نجف گڑھ شامل ہیں۔ کانگریس کے مہابل مشرا یہاں سے ایم پی تھے۔ جنوبی دہلی جس میں کالکا جی، لاجپت نگر ، تغلق آباد ، مہرولی، پالم،بدر پور وغیرہ شامل ہیں۔ یہ 1966میں لوک سبھا انتخاب میں پہلی بار شامل ہوا تھا اور جب سے اب تک یعنی 1967سے 2009تک اسی انتخابی حلقے میں 12لوک سبھا انتخابات ہوئے، جن مین زیادہ تر بی جے پی ہی کامیاب رہی ہے۔ مدن لال کھورانہ، سشما سوراج، وجے کمار ملہوترہ جیسے بڑے بڑے اور سینئر لیڈر اس سیٹ پر قابض رہے ہیں۔ 1985-89ارجن سنگھ اسی سیٹ پر رہے ، مگر پھر 2008تک یہ سیٹ بی جے پی کے پاس رہی ۔ وجے کمار ملہوترہ ایم پی رہے مگر 2009میں وجے کمار ملہوترہ نے استعفیٰ دے دیا اور تب سے اب تک کانگریس کے رمیش کمار اس حلقہ سے ایم پی رہے ہیں۔
مغربی دہلی اور جنوبی دہلی میں کونڈلی، امبیڈ کر نگر ایسے علاقے ہیں، جہاں جھگی جھونپڑی اور رکشا چلانے والے مزدور رہتے ہیں اور اس بار دہلی اسمبلی الیکشن میں اس علاقے سے زیادہ تر ووٹ آپ پارٹی کو پڑا ہے اور کانگریس کا نعرہ ’’کانگریس کا ہاتھ غریب کے ساتھ‘‘ فیل ہو گیا کیونکہ ان جھگی جھونپڑی والوں کے لئے کانگریس نے کچھ کیا ہی نہیں۔
دہلی کے ووٹرس کا رجحان جانیں تو اس بار کانگریس کا آنا بہت مشکل ہے ۔کونڈلی،کلیان پوری ، امبیڈ نگر میں تقریباً 400سے 500جھگی جھونپڑیاں ہیں، ان کے ووٹرس سے بات کرنے سے اندازہ ہوا کہ کانگریس سے یہاں بہت ناراضگی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشی حالات آج تک نہیں سدھرے ہیں اور کانگریس نے گھر دینے کا وعدہ کیا تھا، وہ آج بھی نہیں پورا ہوا۔ وہاں کے رہنے والوں سے بات کر کے یہ اندازہ ہوا کہ کانگریس کے لئے ان کے دل میں بے حد غصہ ہے۔ ایک گھریلو خاتون سبھاشنی سے بات کر کے پتہ چلا کہ بے پناہ گندگی، مکھیوں اور غلاظت کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی رہتی ہیں اور بچے بوڑھے مر جاتے ہیں۔ بملا نام کی عورت کا کہنا تھا دوائیاں کہاں سے خریدیںگے، جب دال سبزی خریدنے کو پیسے نہیں ہیں۔ راجیش ماتھر نام کے ایک اور شخص کا غصہ بے تحاشہ تھا ، جس کا کہنا تھا کہ کانگریس نے پندرہ سال سے دہلی پر راج کیا، مگر مہنگائی بڑھتی چلی گئی۔ اب ہم تبدیلی چاہتے ہیں مگر اب سمجھ میں نہیں آ رہا کہاں جائیں کیونکہ ہم سب نے اسمبلی الیکشن میں آپ پارٹی کو ووٹ دیا مگر کجریوال کا زیادہ وقت تو دھرنا اور اپنے مسائل پر گزر گیا اب واپسی کانگریس کی طرف جائیں یا کیا کریں سمجھ میں نہیں آتا؟
کملیش نام کی ایک عورت سے بات ہوئی جو کہ اندرا گاندھی کے وقت سے کانگریس کی ووٹر رہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کانگریس نے ہمیں لوٹ لوٹ کر امیروں کے پیٹ بھرے ہیں۔ گھوٹالوں کی یہ سرکار اب اور نہیں چاہئے۔
کانگریس مخالف لہر صرف جھگی جھونپڑیوں میں نہیں ہے بلکہ دہلی کے پاش علاقوں میں بھی پھیلی ہوئی ہے۔ نئی دہلی کے ووٹرس بھی مہنگائی اور ہر مقابلے میں رشوت خوری سے پریشان ہیں ۔ سڑکوں کا کام ان علاقوں میں بھی نہ کہ برابر ہوا ہے، وہاں کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ دہلی کا سب سے مہنگا ایریا ہے مگر یہاں بھی بارش کے دنوں میں پانی بھر جاتا ہے۔ سیور لائن بند ہو جاتی ہیں۔
شمال مشرقی دہلی کی بات کریں تو سیما پوری، سیلم پور ، مصطفی آباد میں بے پناہ گندگی اور غلاظت کی بھرمار ہے۔ ترقی کے نام پر صرف ٹوٹی ہوئی سڑکیں ہیں، ان حلقوں میں نہ تو اسکولوں کی سہولت ہے اور نہ ہی اسپتالوں کی۔ وہاں کے ممبر پارلیمنٹ جے پرکاش اگروال یوں تو بہت مشہور لیڈر ہیں لیکن شمال مشرقی دہلی کے لوگوں کو ان سے بے حد مایوسی ہوئی ہے اور وہاں کے لوگ اب کانگریس سے بری طرح ناراض ہیں۔
دہلی کی تقریباً دو کروڑ 20لاکھ آبادی ہے اور بلاشبہ دہلی ہندوستان کی ہی نہیں دنیا کی رقبہ کے لحاظ سے بھی اور آبادی کے لحاظ سے بھی دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ دہلی میں تقریباً ایک کروڑ 19لاکھ ووٹر س ہیں، جن میں سے تقریباً 66.11مرد ووٹرس اور 53.20لاکھ خواتین ووٹرس ہیں، اس میں نوجوان ووٹرس تقریباً 4لاکھ کے قریب ہیں اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پوری دہلی میں کانگریس مخالف لہر چل رہی ہے ، اب کس کی لہر ہے یہ ابھی تک کوئی نہیں بتا سکتا۔ اسمبلی الیکشن میں آپ پارٹی کا جوزور رہا وہ بھی اب مدھم پڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ آپ نے 49دن کی اپنی مدت کار میں دہلی والوں کے لئے کچھ بھی قابل تعریف کام انجام نہیں دئے۔
دہلی ہی کی ایک خاتون رنجنا ماتھر سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ کجریوال نے 18وعدے کئے تھے لیکن وہ پورے نہیں کئے ، مفت پانی، بجلی کے دام کم کرنا اور کم کرائے پر مکان دلانے جیسے وعدے پورے نہیں ہوئے، اب ہم کس کو ووٹ دیں ، سب ہی ایک جیسے ہیں۔
بی جے پی لہر کا جہاں تک تعلق ہے، دہلی میں ابھی بھی ایسی کوئی لہر دیکھنے کو نہین ملتی۔ ہاں آٹو رکشہ والے ضرور کجریوال کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں، مگر دہلی کی سیاست کا اونٹ کس کروکٹ بیٹھے گا یہ ابھی طے کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔
مسلم علاقوں کی بات کریں تو شمال مشرقی دہلی، مشرق دہلی اور چاندنی چوک لوک سبھا حلقوں میں مسلم رائے دہندگان کو لبھانے کی مہم تیز ی سے چل رہی ہے ۔ کپل سبل دھڑا دھڑ نئی نئی ویب سائٹس لانچ کر رہے ہیں اور اساتذہ اور مدارس کی بات کر رہے ہیں ۔ جاتے جاتے کچھ نئی کمیٹیاں بھی بنائی ہیں ، جس میں چن چن کر کچھ مسلمانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے کئی نئے پروجیکٹ بھی کپل سبل نے لانچ کرانے میں تعاون کیا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمان خان بھی مسلم ووٹرس کو لبھانے میں لگے ہوئے ہیں اور وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، اجمیر شریف کی تزین کاری کا کام ، مولانا آزاد اسکالرشپ جیسے کام لگاتار ہو رہے ہیں ، جن سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ سب دہلی کے مسلمانوں کو لبھانے کی سازش ہے۔
اب ان ہی تینوں حلقوں میں کانگریس کو سب سے زیادہ مشکل پیش آنے والی ہے۔ کیونکہ ان ہی 3حلقوں میں مسلمان بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اس میں چاندنی چوک حلقے سے اب مسلم امیدوار کی مانگ بھی زور پکڑتی جا رہی ہے کہ جامع مسجد ، بلی ماراں، مٹیا محل، تر کمان گیٹ، صدر بازار ، قصاب پورہ شکور بستی، وزیر پور سب ہی مسلم اکثریت والے علاقے ہیں، ان سے کسی مسلم امیدوار کو ہی کھڑا کیا جانا چاہئے۔ چاہے وہ کوئی بھی پارٹی ہو۔
ان تینوں حلقوں کے مسلمانوں نے سائوتھ بلاک اور اکبر روڈ سے ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو اور اتار چڑھائو کو متعدد بار قریب سے دیکھا اور سنا ہے۔
دہلی اسمبلی انتخابات 2013میں مسلمانوں کے ذریعہ کانگریس کو ووٹ تو دیا گیا تھا مگر اب یہ وفاداری کتنی باقی رہے گی یہ کہنا مشکل ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں بنیادی سہولیات، اسکولز، کالج، اسپتال وغیرہ کی شکایتیں آج بھی ویسی ہی ہیں۔
شمال مشرقی دہلی جہاں مسلمان اور اوبی سی ملا کر 41فیصد سے زیادہ ووٹرز ہیں، وہاں سے جے پرکاش اگروال اس وقت پوری طرح اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔
وزیر اعظم کے 20نکاتی پروگرام کا بھانڈہ تو وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے پروگرام میں ایک شخص کے ہنگامے سے پھوٹ ہی چکاہے۔ جے پرکاش اگروال یو ں تو خود کو بڑی ترقی کا دعویدار بتاتے ہیں مگر ان کے حلقہ میں نہ تو اچھے اسکول ہیں نہ ہی اسپتال ہیں نہ ہی بنیادی سہولیات ، مکھی، مچھروں کی بہتات والے ان علاقوں میں مسلمان نہایت گندگی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کپل سبل بھی اس بار دہلی کے مسلمانوں کو کتنا لبھاپائین یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر کپل سبل کی پوری طاقت مسلمانوں کو بی جے پی کے خلاف کر کے ووٹ حاصل کرنے کی ہے اور یہی وہ کمزور پوائنٹ ہے جس پر مسلمان شاید پھر سے کانگریس کی طرف مائل ہو جائیں۔ اسی طرح کا چیلنج مشرقی دہلی کی سیٹ پر بھی ہے۔ ظاہر ہے اوکھلا کے لوگ پوری طرح گندگی، غلاظت، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، سیور لائنوں کا خراب ہونا، کوڑے کرکٹ کے انبار، چوری چھپے عمارتیں گھر بننے کا کام ان سب نے اوکھلا کے عوام کو بھی کانگریس ایم پی اور ایم ایل اے دونوں سے بدظن کر دیا ہے۔
دہلی میں تقریباً 13فیصد مسلم آبادی ہے اور 13فیصد کی شرح یقینا کسی بھی سیٹ کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے اور دہلی کی 13فیصد مسلم آبادی کو سبھی پارٹیاں رجھانے میں لگی ہوئی ہیں۔ اخبار جانے تک بی جے پی اور کانگریس کے دہلی کے ناموں کا اعلان نہیں ہوا لیکن آپ پارٹی نے ساتوں سیٹوں سے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ جس میں مغربی دہلی سے دیوندر سیراوت، نئی دہلی سے آشیش کھیتان، مشرقی دہلی سے راجموہن گاندھی، مغربی دہلی سے جرنیل سنگھ ، شمال مغربی دہلی سے مہندر ، شمالی مشرق دہلی سے آنند کمار اور چاندنی چوک سے آشوتوش کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یعنی آپ پارٹی نے بھی مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور ایک سے بھی کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ کم سے کم چاندنی چوک سیٹ ایسی تھی جہاں سے کسی مسلم امیدوار کو ہی کھڑا کیا جانا چاہئے تھا۔ شازیہ علمی کو غازی آباد سے ٹکٹ ملا ہے جب کہ ان کو دہلی میں ہی تینوں مسلم اکثریتی علاقوں میں سے کسی ایک سے ٹکٹ دینا چاہئے تھا۔شازیہ مشرقی دہلی میں اوکھلا، چاندنی چوک حلقے میں جامع مسجد، مٹیامحل، بلی ماران وغیرہ اور شمال مشرقی دہلی میں سیلم پور، مصطفیٰ آباد میں بے حد مشہور و مقبول ہیں ان کو ان علاقوں سے ٹکٹ نہ دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔
دہلی کی ساتوں سیٹوں پر کس کا راج ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا مگر اس وقت دہلی کی انتخابی فضاء پوری طرح گرد آلود ہے۔ اسی دھول و گرد کی فضا میں کون دہلی میں راج کرے گا ، یہ ابھی نظر نہیںآ رہا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *