دہلی کا انتخابی دنگل ، کون کس کے خلاف

Share Article

اے یو آصف
p-4سات فروری2015کو دہلی اسمبلی کی 70 سیٹوں کے لئے ہورہے انتخابات میں کل 923 امیدواروں نے نامزدگی کے پرچے بھرے ہیں جن میں سب سے بڑی تعداد (23)نئی دہلی حلقہ اور سب سے کم تعداد(6) امبیڈکر نگر حلقہ سے ہیں۔ان امیدواروں میں تین بڑی پارٹیوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) ،عام آدمی پارٹی (عاپ)اور کانگریس کے امیدوار شامل ہیں اور اصل مقابلے انہی تین پارٹیوں کے امیدواروں کے بیچ الگ الگ ہوں گے ۔قابل ذکر ہے کہ ان پارٹیوں میں بی جے پی نے 7، عاپ نے 6 اور کانگریس نے 5 خواتین امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی نے شرومنی اکالی دل کو چھوڑ کر اپنے 66ٹکٹوں میں سے صرف ایک ، عاپ نے 70 میں سے 5 اور کانگریس نے اپنے کل ٹکٹوں میں سے 6 مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔ عیاں رہے کہ 2013 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے چار اور جنتا دل یونائیٹیڈ کے ایک مسلم امیدوار ہی کامیاب ہوئے تھے۔
اس بار مٹیا محل سے منتخب جے ڈی یو امیدوار شعیب اقبال 2015 میں کانگریس سے کھڑے ہوئے ہیں۔70سیٹوں میں دس سیٹیں ایسی ہیں جہاں پورے ملک کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ ان میںسے ایک سیٹ نئی دہلی کی ہے جہاں عاپ کے کنوینر اروند کجریوال کا مقابلہ کانگریس کی سابق وزیر کرن والیہ اور بی جے پی کی سابق دہلی یونیورسٹی طلبا یونین لیڈر نوپور شرما سے ہے۔ یہ وہی سیٹ ہے جہاں سے گزشتہ بار کجریوال نے کانگریس کی تین بار وزیر اعلیٰ رہی شیلا دیکشت کو ہرایا تھا۔ اس بار کجریوال کو اپنی سیٹ کے علاوہ بہت کچھ ثابت کرنا ہے کیونکہ ان کی پارٹی 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں دہلی میں ایک بھی سیٹ نہیں لاپائی تھی۔دوسری سیٹ کرشنا نگر کی ہے جو کہ بی جے پی کی گڑھ رہی ہے۔ یہاں سے بی جے پی میں حال ہی میں شامل ہوئی کرن بیدی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف یہاں عاپ کے ایس کے بگّا اور کانگریس کے بنسی لال نبرد آزما ہیں۔ یہاں سے کرن بیدی کو آسانی سے کامیابی کی امید ہے ۔2013 کے انتخابات میں یہاں سے مرکز میں موجودہ وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن جیتے تھے۔تیسری سیٹ پپڑ گنج کی ہے۔ یہاں عاپ کے سینئر لیڈر منیش سسودیا کا مقابلہ خود انہی کی پارٹی کے سابق منتخب ایم ایل اے (لکشمی نگر) ونود کمار بنی (بی جے پی ) اور کانگریس کے انل کمار سے ہے۔ یہاں سسودیا کو بنی سے سخت مقابلہ کرناپڑ رہا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ لکشمی نگر سے کامیابی کے بعد عاپ سے نکلنے کے سبب انہیں جس مخالفت کا وہاں سامنا کرنا پڑ ا تھا، اس سے یہ وہاں سے کھڑے نہ ہوسکے اور انہیں نئے حلقہ کو چننا پڑا۔ چوتھی سیٹ منگول پوری میں عاپ کی شعلہ بیان لیڈر راکھی برلا کانگریس کے راج کمار چوہان اور بی جے پی کے سرجیت سے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ پانچویں سیٹ جنک پوری ہے جہاں بی جے پی کے سینئر لیڈر جگدیش مکھی کا مقابلہ عاپ کے راجیش ریشی اور کانگریس کے سریش کمار سے ہے۔ یہاں صورت حال اس لحاظ سے بہت دلچسپ ہے کہجگدیش مکھی کو خود اپنے ہی داماد سریش کمار سے نبرد آزما ہونا پڑرہا ہے۔گزشتہ بار مکھی نے راجیش ریشی کو ہرایا تھا۔ چھٹی سیٹ مالویہ نگر میں عاپ کے متنازعہ لیڈر سومناتھ بھارتی کا مقابلہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق اسپیکر جوگانند شاستری سے ہے۔ یہاں بی جے پی نے نندنی شرما کو ٹکٹ دیا ہے۔ ساتویں سیٹ دوارکا میں سابق وزیر اعظم لال بہادر ساشتری کے پوتے آدرششاستری عاپ کے ٹکٹ پر کھڑے ہیں اور وہ یہاں کانگریس کے مہابل مشرا اور بی جے پی کے پردومن راجپوت کو ٹکر دے رہے ہیں۔ یہاں بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق کانگریس ایم پی مہابل مشرا کا اپنی ہی پارٹی کے رفیق انل ساشتری کے بیٹے سے مقابلہ ہے۔

65فیصد مسلم ووٹ والے مٹیا محل کے شعیب اقبال مقبول تو ہیں مگر بار بار پارٹی بدلنے کے سبب یہ بدنام بھی ہوگئے ہیں۔ پہلے آر جے ڈی اور بعد میں جے ڈی یو سے کانگریس کے ٹکٹ پر کھڑے شعیب اقبال کو عاپ کے عاصم احمد خاں اور بی جے پی کے شکیل انجم دہلوی سے مقابلہ درپیش ہے۔ یہ دونوں انہیں سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔

آٹھویں سیٹ پٹیل نگر کی ہے جہا ںبی جے پی میں حال میں شامل ہوئی سابق کانگریسی وزیر کرشنا تیرتھ عاپ کے ہزاری لال چوہان اور کانگریس کے راجیش للوتھیا سے مقابلہ کررہی ہیں۔ نویں سیٹ صدر بازار میں کانگریس کے اسٹار لیڈر اجے ماکن عاپ کے سوم دت اور بی جے پی کے پروین جین سے نبرد آزما ہیں۔دسویں سیٹ گریٹر کیلاش میں عاپ کے سوربھ بھاردواج اور بی جے پی کے راکیش گولیا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ یہاں صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی بیٹی شرمستا مکھرجی کے کھڑے ہونے سے اس سیٹ کو کافی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔
گزشتہ بار دہلی میں منتخب امیدواروں میں کل 5 مسلمان تھے جن میں 4 کانگریس سے تو ایک جے ڈی یو سے تھے اور اب جے ڈی یو کے شعیب اقبال کے کانگریس میں مل جانے سے صورت حال کانگریس کے لئے بدل گئی ہے۔ مگر ان مسلم لیڈروں میں سے بیشتر کو اپنی اپنی سیٹ کو بچانا مشکل نظر آتاہے۔ اس طرح ان 5 سابق مسلم ارکان اسمبلی میں سیلم پور کے چودہری متین احمد اور اوکھلا کے آصف محمد خاں کو چھوڑ کر باقی تینوں لیڈروں کو سخت محنت کرنی پڑرہی ہے ۔جہاں تک سیلم پور کا معاملہ ہے ،یہاں 65فیصد مسلم ووٹ ہے اور چودھر ی متین احمد ذاتی طور پر مقبول بھی ہیں۔ یہ 1993 سے یہاں کی نمائندگی کررہے ہیں ۔گھنی مسلم آبادی والے اوکھلا کے آصف محمد خاں بھی مسلم مسائل خصوصاً مسلمانوں کی گرفتاری کے دوران فعال رہنے کے سبب پسند کئے جاتے ہیں۔
21جنوری کو بھی بریلوی مسلک کے مشہور عالم اور قادری مسجد کے امام مولانا یاسین اختر مصباحی کی گرفتاری کے بعد ہوئے احتجاج اور ان کی رہائی میںزیادہ اہم رول ادا کرنے کے سبب یہ عاپ امیدوار امانت اللہ خاں کو کڑی ٹکر دے رہے ہیں۔ یہاں بی جے پی کے برھم سنگھ بدھوری کھڑے ہیں۔ اگر یہاں مسلم ووٹ آصف محمد خاں (کانگریس) اور امانت اللہ خاں (عاپ)کے درمیان زیادہ تقسیم ہوتا ہے تب بی جے پی کو فائدہ ہو بھی سکتا ہے اور برہم سنگھ بدھوری نکل سکتے ہیں۔
65فیصد مسلم ووٹ والے مٹیا محل کے شعیب اقبال مقبول تو ہیں مگر بار بار پارٹی بدلنے کے سبب یہ بدنام بھی ہوگئے ہیں۔ پہلے آر جے ڈی اور بعد میں جے ڈی یو سے کانگریس کے ٹکٹ پر کھڑے شعیب اقبال کو عاپ کے عاصم احمد خاں اور بی جے پی کے شکیل انجم دہلوی سے مقابلہ درپیش ہے۔ یہ دونوں انہیں سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔
بلی ماران کے 5بار ایم ایل اے رہے سابق ریاستی وزیر ہارون یوسف سے وہاں کے ووٹروں کو سخت شکایت ہے کہ علاقے کی ترقی کے لئے انہوں نے کچھ نہیں کیا اور کبھی دکھائی بھی نہیں پڑے۔یہاں ان کا مقابلہ عاپ کے عمران حسین سے ہے جو کہ اس علاقے کے کونسلر بھی ہیں اور نئی نسل میں مقبول بھی ہیں۔
مصطفی آباد کے سابق ایم ایل اے حسن احمد گزشتہ بار بی جے پی کے جگدیش پردھان سے بہت مشکل سے جیتے تھے۔کہا جارہا ہے کہ اگر ووٹ کا پولارائزیشن ہوگیا تو جگدیش پردھان وہاں سے نکل سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *