دہلی ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کے کیس میں جیل میں بند کرناٹک کانگریس کے لیڈر ڈی کے شیو کمار کو بڑی راحت دی ہے۔ کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس سریش کیت نے ڈی کے شیو کمار کو 25 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت دی ہے۔ کورٹ نے ڈی کے شیو کمار کو تحقیقات میں تعاون کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کورٹ نے ڈی کے شیو کمار کو ہدایت دی کہ وہ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے۔ وہ ٹرائل کورٹ کی اجازت کے ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔ ای ڈی نے ڈی کے شیو کمار کو تین ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔
کورٹ نے گزشتہ 17 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ سماعت کے دوران ای ڈی کی جانب سے اے ایس جی کے ایم نٹراج نے کہا تھا کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے تین مختلف مقامات سے 8.54 کروڑ روپے ضبط کئے تھے۔ نٹراج نے کہا تھا کہ یہ تعزیرات ہند کی دفعہ -120 (بی) کے تحت جرم ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ڈی شیو کمار تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ ان کے لئے دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر دفعہ -19 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ نٹراج نے کہا تھا کہ ڈی کے شیو کمار نے انتخابات کے دوران 800 کروڑ کی جائیداد قرار کی ہے۔ ان کے پاس 24 زرعی زمین ہے۔ یہ واضح ہے کہ یہ املاک غیر قانونی ہیں۔
گزشتہ 15 اکتوبر کو ڈی کے شیو کمار کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے دلیلیں رکھتے ہوئے کہا تھا کہ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت کسی شخص کی حراست کی ضرورت نہیں ہے۔ سنگھوی نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے دوسرے ملزمان کو تحفظ دیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت کسی شخص کی حراست کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈی کے شیو کمار سات بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور وہ سوالوں سے کبھی نہیں بھاگے۔ ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا تھا کہ اگر ڈی کے شیو کمار غلط معلومات دیتے تو الیکشن کمیشن خاموش نہیں بیٹھا رہتا۔
گزشتہ 14 اکتوبر کو سماعت کے دوران ای ڈی نے اضافی اسٹیٹس رپورٹ داخل کی تھی۔ اسٹیٹس رپورٹ میں ای ڈی نے ڈی کے شیو کمار کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔ ڈی کے شیو کمار نے ٹرائل کورٹ سے ضمانت منسوخ کرنے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ انہوں نے عدالت سے ضمانت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ 25 ستمبر کو رائوز ایونیو کورٹ نے ڈی کے شیو کمار کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دیا تھا۔
رائوز ایونیو کورٹ کے اسپیشل جج اجے کمار ار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جانچ ابھی اہم موڑ پر ہے اور ڈی کے شیو کمارکو اب ضمانت دینا تحقیقات پر اثر ڈال سکتا ہے۔ کورٹ نے کہا تھا کہ ڈی کے شیو کمار ایک اثر ورسوخ والے شخص ہیں اور گواہوں اور ثبوتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ کورٹ نے کہا تھا کہ ای ڈی نے کچھ دستاویزات دکھائے ہیں جن میں 317 کے اکاؤنٹس کی فہرست اور املاک بھی شامل ہیں۔ کورٹ نے کہا تھا کہ جانچ ایجنسی کو آزادانہ طریقے سے جانچ کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ کورٹ نے کہا تھا کہ ضمانت کی درخواست پر غور کرتے وقت انفرادی آزادی کا خیال رکھا گیا لیکن برابر کے مفاد کو درکنار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ای ڈی نے ڈی کے شیو کمار کی بیوی اور ماں کے خلاف سمن جاری کیا تھا۔ ڈی کے شیو کمار کی بیوی اور ماں نے ای ڈی کے سمن کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے ای ڈی کے سمن پر روک لگا دیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here