دہلی اسمبلی الیکشن: بی جے پی اور ’آپ‘ کا وقار دائو پر

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

مہاراشٹر، ہریانہ، جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والی بی جے پی کا وِجے رتھ دہلی آکر ٹھٹھک سا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نریندر مودی کی کرشمائی شخصیت کی چمک دھندلی پڑنے لگی ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ دہلی کی آبادی کا ایک بڑا حصہ آج بھی اروِند کجریوال کا مرید ہے۔ اس لیے دہلی کا الیکشن بی جے پی کے لیے اگنی پریکشا سے کم نہیں ہے۔ وہیں 49 دنوں میں اپنی سرکار چھوڑ کر لوک سبھا الیکشن لڑنے اور اس میں زبردست شکست کا منھ دیکھنے والے کجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کے لیے بھی یہ الیکشن زندگی اور موت کا سوال بن کر سامنے کھڑا ہے۔ کیسے؟ یہی بتا رہی ہے، اس بار کی کور اسٹوری …

mastدہلی اسمبلی انتخابات کا ہائی وولٹیج ڈرامہ جاری ہے۔ یہ الیکشن ایک سسپنس تھریلر سنیما کی طرح بن گیا ہے۔ الیکشن کون جیتے گا، سرکار کون بنائے گا، اس بارے میں ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ اس الیکشن میں ہر پارٹی کا رول ہے، چاہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہو، عام آدمی پارٹی ہو، کانگریس ہو، بہوجن سماج پارٹی ہو یا پھر آزاد امیدوار ہی کیوں نہ ہوں، ان سبھی کا انتخابی نتائج میں دخل ہوگا، کیوں کہ ان میں سے کوئی جیتے گا، کوئی جتائے گا، تو کوئی کسی کی لٹیا ڈبوئے گا۔ مطلب یہ کہ ہر سیٹ پر کانٹے کی ٹکر ہونے والی ہے۔
مزیدار بات تو یہ ہے کہ دہلی پوری طرح سے ایک ریاست بھی نہیں ہے۔ یہاں کے چیف منسٹر کے پاس کسی بڑے شہر کے میئر جیسی طاقت ہے۔ دہلی سرکار کی اتنی بھی حیثیت نہیں ہے کہ وہ کسی بڑے افسر کا تبادلہ کر سکے۔ ایک پولس انسپکٹر کو ہٹانے کے لیے وزیر اعلیٰ کو اَنشن کرنا پڑتا ہے۔ لیکن الیکشن کا ماحول ایسا بن چکا ہے، جیسے یہ پورے ملک کا الیکشن ہو۔ ٹی وی پر نہ صرف پرچار ہو رہا ہے، بلکہ ہر چینل کے پرائم ٹائم میں اسے بڑھا چڑھا کر دکھایا بھی جا رہا ہے۔ ایف ایم ریڈیو پر ہر پانچ منٹ میں پرچار سنائی دیتا ہے۔ اخبار و رسائل میں خبروں کے ساتھ ساتھ مضامین کی بھرمار ہے۔ انٹرنیٹ کا تو اور بھی برا حال ہے۔ سوشل میڈیا میں تو ایسا لگ رہا ہے، جیسے دہلی الیکشن کے علاوہ دنیا میں کچھ ہو ہی نہیں رہا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ دہلی الیکشن ہر طرف چھایا ہوا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجہیں ہیں۔ ایک طرف یہ الیکشن وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے وقار کا سوال بن گیا، تو وہیں دوسری طرف یہ الیکشن عام آدمی پارٹی کے لیے وجود کی لڑائی بھی بن چکا ہے۔
دہلی میں عام آدمی پارٹی نے سب سے پہلے پرچار شروع کیا۔ جب دوسری پارٹیوں میں الیکشن کی سگبگاہٹ بھی نہیں تھی، تب عام آدمی پارٹی اپنا پرچار شروع کر چکی تھی۔ پارٹی نے دہلی ڈائیلاگ اور محلہ سبھا جیسے پروگرام کرکے عوام سے جڑنے کا کام زور و شور سے شروع کیا۔ انتخاب کی تاریخ کا اعلان ہونے سے پہلے ہی عام آدمی پارٹی دہلی کی سبھی 70 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر چکی تھی۔ دہلی کی سڑکوں پر ہورڈنگ کی بھرمار کے ساتھ ساتھ ریڈیو پر لگاتار کجریوال پرچار کر رہے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ عام آدمی پارٹی شروعاتی لیڈ ہو چکی تھی۔ اس بار کجریوال نے جن لوک پال اور سوراج جیسے مدعے کو درکنار کرکے مفت بجلی اور مفت پانی کو اپنا بنیادی مدعا بنایا ہے۔ بدعنوانی کے مدعے پر بھی پارٹی کا زور پچھلے الیکشن سے کم ہے۔ خواتین کی سیکورٹی کو لے کر پارٹی خواتین کو لبھانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ پارٹی کا پرچار، کجریوال کی زبان اور پارٹی ترجمانوں کا انداز پچھلے الیکشن سے زیادہ پختہ نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی یہ پیغام دینا چاہ رہی ہے کہ 49 دنوں کی سرکار کے دوران کجریوال نے اپنے وعدوں کو پورا کیا۔ اپنی سرکار کا پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کجریوال یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس دوران دہلی میں بدعنوانی میں کمی آئی تھی۔ ساتھ ہی الزام لگا کر مخالفین کو للکارنے کی عام آدمی پارٹی کی حکمت عملی پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران عام آدمی پارٹی نے بجلی بل کو بڑا مدعا بنایا تھا۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ دہلی میں جو بجلی کے میٹر ہیں، وہ تیز چلتے ہیں۔ اس مدعے پر پچھلی بار عام آدمی پارٹی کو بڑی حمایت ملی تھی۔ اس بار کجریوال نے دہلی بی جے پی کے صدر ستیش اپادھیائے اور جنرل سکریٹری آشیش سود پر دہلی میں بجلی کے میٹر سپلائی کرنے اور لگانے کا الزام لگایا۔ کجریوال دراصل یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ دہلی میں تیز چلنے والے بجلی کے خراب میٹر بی جے پی نے لگوائے تھے۔ یہ معاملہ اتنا گرما گیا کہ ستیش اپادھیائے نے کجریوال کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکایت کی اور عدالت میں کجریوال کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ درج کرا دیا۔ سچائی یہ ہے کہ کجریوال کے الزامات میں آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ہے۔ کجریوال نے جن 6 کمپنیوں کو ستیش اپادھیائے اور آشیش سود کا بتایا، ان میں سے دو کمپنیاں موجود ہی نہیں ہیں۔ یہ دونوں کمپنیاں وہ ہیں، جن کے بارے میں کجریوال نے کہا تھا کہ ان دونوں کمپنیوں میں سب سے زیادہ کاروبار ہوا۔ چنوتی دینے کے باوجود کجریوال کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکے۔ سچائی یہ بھی ہے کہ 6 کمپنیوں میں سے ایک کمپنی دہلی میں ریلائنس کی بجلی کمپنی کے ساتھ بزنس کرتی تھی۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کجریوال نے اپنے الزام میں ستیش اپادھیائے اور آشیش سود کی کمپنیوں پر بجلی کمپنی کے ساتھ کام کرنے کی بات کہی تھی، کسی گڑبڑی یا گھوٹالے کا الزام نہیں لگایا تھا۔ انہوں نے بجلی میٹر کا مدعا اٹھا کر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو گئے۔
دہلی میںکجریوال کا جادو برقرار ہے۔ جھگی جھونپڑی اور لووَر انکم گروپ، خاص کر آٹو والے، ریہڑی – پٹری والے اور چھوٹے دکانداروں میں کجریوال کی حمایت برقرار ہے، کیوں کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ کجریوال سرکار کے دوران پولس والوں نے تنگ کرنا بند کر دیا تھا۔ کجریوال کا یہ دعویٰ بھی صحیح ہے کہ 49 دنوں کی سرکار کے دوران رشوت خوری میں کمی آئی تھی۔ اس کا فائدہ کجریوال کو ضرور ملے گا۔ اس کے علاوہ دہلی میں مسلمانوں کا جھکاؤ بھی عام آدمی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ کانگریس پارٹی کی کم ہوتی مقبولیت ہے۔ مسلمانوں کو لگتا ہے کہ دہلی میں کانگریس پارٹی بی جے پی کی کامیابی کے رتھ کو روکنے کے قابل نہیں ہے۔ انہیں یقین ہے کہ کجریوال بی جے پی کو دہلی میں چاروں خانے چت کر سکتے ہیں، اس لیے ٹیکٹیکل ووٹنگ کے تحت مسلمان بھاری تعداد میں کجریوال کو ووٹ دیں گے۔
اتنا موافق ماحول ہونے کے باوجود عام آدمی پارٹی کی جیت یقینی نہیں ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں۔ 49 دنوں کے بعد دہلی چھوڑ کر وارانسی جانے سے کجریوال سے لوگ ناراض ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کجریوال بھی دوسری پارٹی کے لیڈروں کی طرح خود غرض ہیں۔ ایک طبقہ کو لگتا ہے کہ کجریوال جھوٹے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کجریوال کو وعدہ کرکے مکر جانے کی عادت ہے۔ کجریوال کو بھی لوگوں کی اس ناراضگی کا بخوبی اندازہ ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ ان پر بھگوڑا ہونے کا الزام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کجریوال نے جب سے چناؤ پرچار شروع کیا ہے، تبھی سے وہ ہر جگہ لوگوں سے معافی مانگ رہے ہیں اور لوگوں سے یہ وعدہ کر رہے ہیں کہ اب وہ کسی بھی قیمت پر دہلی چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ کجریوال کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بار 35 ایسے لیڈروں کو ٹکٹ نہیں ملا ہے، جو پچھلی بار اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار تھے۔ کارکن الزام لگا رہے ہیں کہ اس بار عام آدمی پارٹی نے کارکنوں اور عام لوگوں کی رائے لیے بغیر اپنے امیدواروں کا انتخاب کیا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اس بار کجریوال نے انھیں لوگوں کو ٹکٹ دینا زیادہ مناسب سمجھا، جن کے پاس پیسے ہیں۔ کجریوال اور کارکنوں کے لیے مایوسی کا موضوع یہ بھی ہے کہ عام آدمی پارٹی کے پرانے لیڈر پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ انا تحریک کے وقت سے جڑے کارکن پارٹی میں الگ تھلگ پڑتے جا رہے ہیں۔ وہ یا تو اپنے گھروں میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں یا پھر اپنے اپنے علاقوں میں پارٹی کے خلاف پرچار کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے جو کارکن پارٹی کی سفید ٹوپی سروں پر لگائے دہلی کی سڑکوں پر نظر آتے تھے، وہ اب کہیں نظر نہیں آرہے ہیں۔ پارٹی کے اندر کے موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے دوسری ریاستوں سے کارکنوں کا دہلی آنا بھی پوری طرح بند ہو گیا ہے، جب کہ پارٹی لگاتار اپنے کارکنوں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ دہلی آئیں اور چناؤ پرچار میں شامل ہوں۔
دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سب سے بڑی پونجی اروِند کجریوال کا چہرہ ہے۔ پچھلے اسمبلی الیکشن سے پہلے کجریوال کی شبیہ ایک متحرک، ایماندار اور نظام میں تبدیلی کرنے والے لیڈر کے طور پر تھی۔ 49 دنوں کی سرکار کے دوران اور لوک سبھا میں پارٹی کی شرمناک ہار کے بعد کجریوال کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ پچھلے اسمبلی الیکشن سے پہلے کجریوال مڈل کلاس کی نظروں میں ہیرو تھے، لیکن اب وہ اس مقبولیت کو کھو چکے ہیں۔ ان سب کے باوجود پارٹی کے حامیوں اور ووٹروں کے درمیان وہ ایک ایماندار اور قابل اعتبار چہرہ ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے اس بار اپنی خوبیوں اور خامیوں کا صحیح محاسبہ کرتے ہوئے حکمت عملی بنائی ہے۔ کجریوال لوک سبھا الیکشن سے سبق لیتے ہوئے مودی سے سیدھے مقابلہ کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے اپنے پرچار کی شروعات میں ہی یہ دلیل دی کہ مودی تو ملک کے وزیر اعظم بن گئے ہیں، اس لیے کجریوال کا مقابلہ دہلی کے کسی لیڈر سے ہے۔ مودی سے سیدھا مقابلہ نہ ہو، اس کے لیے عام آدمی پارٹی پوری دہلی میں بی جے پی کے جگدیش مکھی کے پوسٹر لگوا کر پرچار کرتی رہی کہ اس بار دہلی میں کجریوال کا مقابلہ جگدیش مکھی سے ہے۔ عام آدمی پارٹی نے بڑی کامیابی سے یہ پیغام دیا کہ کجریوال کے مقابلے میں بی جے پی کے پاس کوئی چہرہ نہیں ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے حکمت سازوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہے کہ دہلی کا الیکشن دوسری ریاستوں کے الیکشن سے الگ ہے۔ انہیں سمجھ میں آ گیا کہ دہلی میں کجریوال کی چنوتی سے نمٹنے کے لیے انہیں ایک چہرہ پیش کرنا ہوگا۔ ایک ایسا چہرہ، جو کجریوال سے ہر لحاظ سے مضبوط ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کرن بیدی کو میدان میں اتار دیا ہے۔ کرن بیدی کی معتبریت، تجربہ، مقبولیت اور حصولیابیاں کجریوال سے زیادہ ہیں۔ دونوں انا ہزارے کی تحریک میں بھی شامل تھے، وہ تحریک، جو عام آدمی پارٹی کی روح ہے۔

کرن بیدی ملک کی پہلی خاتون آئی پی ایس ہیں، تو کجریوال انکم ٹیکس کے ایک افسر۔ کرن بیدی نے گورنمنٹ سروِس کے دوران جو کچھ حاصل کیا، اس کے سامنے کجریوال کی حصولیابی نہ کے برابر ہے۔ کرن بیدی کے آنے سے بی جے پی کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ خواتین کی سیکورٹی کے ایشو پر عام آدمی پارٹی کا سارا پرچار بے اثر ہو گیا۔ کرن بیدی کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد عام آدمی پارٹی کے کئی ناراض لیڈر اور کارکن بی جے پی میں شامل ہونے لگے۔ کرن بیدی کو انتخابی چہرہ بنانا بھارتیہ جنتا پارٹی کا ماسٹر اسٹروک ہے، کیو ںکہ کرن بیدی چناؤ پرچار اور مقبولیت میں کجریوال پر بھاری ہیں۔ اس میں ایک رسک یہ ہے کہ کرن بیدی کو اتنی اہمیت دینے کی وجہ سے بی جے پی کا ایک گروہ ناراض ہو گیا ہے۔ لیکن لوک سبھا الیکشن کے بعد جس طرح سے پارٹی کی تنظیم پر مودی اور امت شاہ کا شکنجہ کسا ہے، اس کی وجہ سے کوئی سامنے آکر مخالفت کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ بی جے پی کے پاس دہلی میں کجریوال سے دو دو ہاتھ کرنے والا کوئی لیڈر نہیں تھا، البتہ پارٹی میں وزیر اعلیٰ کے پانچ سے زیادہ امیدوار ضرور تھے، اس لیے اندرونی انتشار کے خدشے کو ٹالا نہیں جا سکتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کا پرچار دیر سے شروع ہوا۔ پارٹی کے پاس کوئی چہرہ نہیں تھا، اس لیے نریندر مودی کے نام پر ہی الیکشن ہو رہا تھا۔ مرکز میں بی جے پی سرکار ہونے کی وجہ سے پارٹی کو مدد بھی ملی۔ مرکزی حکومت نے دہلی کی کئی اِلیگل کالونیوں کو لیگل کرنے کا فیصلہ کرکے دہلی کے لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے ای رکشہ کو منظوری دے کر بھی کجریوال کے ووٹ بینک میں ڈاکہ ڈالنے کا کام کیا۔ اس کے علاوہ رام لیلا میدان کی ریلی میں مودی نے دہلی کے لوگوں کو کئی خواب دکھائے۔ مودی نے دہلی میں 2022 تک جھگیوں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی اور پانی کے مسائل کو حل کرنے کا بھی بھروسہ دلایا۔ ان سب کے باوجود بی جے پی کو لگا کہ دوسری ریاستوں میں جس طرح بی جے پی اپنے فیور میں ہوا بنانے میں کامیاب رہی، اس طرح دہلی کا ماحول نہیں بدل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی۔
اس درمیان دہلی کی سیاست میں حاشیہ پر جا چکی کانگریس نے کچھ اچھے فیصلے لیے۔ کانگریس پارٹی کی طرف سے اجے ماکن کو چناؤ پرچار کا چہرہ بنایا۔ ساتھ ہی، دہلی کے سبھی بڑے بڑے لیڈروں کو میدان میں اتار دیا۔ اسی حکمت عملی کے تحت صدرِ جمہوریہ پرنب مکھرجی کی بیٹی بھی کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ کانگریس پارٹی کی ساکھ پچھلے اسمبلی الیکشن سے لگاتار ختم ہوتی جا رہی تھی۔ پچھلی بار کانگریس پارٹی صرف 8 سیٹیں ہی جیت سکی تھی۔ پارٹی کو لوگوں نے اینووا پارٹی کہنا شروع کر دیا تھا۔ کانگریس پارٹی کے سامنے صاف صاف ٹارگیٹ ہے۔ دہلی میں پارٹی کے وجود کو بچانے کے لیے کانگریس پارٹی کو اپنے کھوئے ہوئے ووٹ بینک کا بھروسہ جیتنا ہوگا۔ جھگیوں اور مسلم ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ 2013 کے اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس کے ووٹ بینک کو ختم کر دیا تھا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ کانگریس پارٹی جتنی مضبوط ہوگی، کجریوال کی پریشانی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ کانگریس پارٹی اگر اس بار بھی دس کا نمبر پار نہیں کر سکی، تو آنے والے کئی انتخابات تک دہلی کی سیاست عام آدمی پارٹی بنام بھارتیہ جنتا پارٹی بن جائے گی۔ اس کے علاوہ بہوجن سماج پارٹی نے بھی دہلی کے سبھی 70 اسمبلی حلقوں سے اپنے امیدواروں کو کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2008 کے اسمبلی الیکشن کے دوران بہوجن سماج پارٹی کو 14 فیصد ووٹ ملے تھے، جب کہ 2013 میں یہ گھٹ کر صرف 5 فیصد رہ گیا تھا۔ بہوجن سماج پارٹی کا سارا ووٹ کجریوال کے کھاتے میں جا پہنچا تھا۔ اس بار اگر بہوجن سماج پارٹی کی حالت 2008 والی ہو جاتی ہے، تو کجریوال کو بھاری نقصان ہو جائے گا۔ ان سب کے علاوہ اس الیکشن میں الگ الگ پارٹیوں کے باغی امیدواروں کا بھی رول اہم ہے۔ چونکہ دہلی اسمبلی الیکشن میں ہر سیٹ پر کانٹے کی ٹکر ہے، اس لیے باغی امیدوار کس سیٹ پر کس پارٹی کو کتنا نقصان پہنچائیں گے، اس کا سیدھا اثر انتخابی نتیجے کی فائنل ٹیلی پر ضرور دکھائی دے گا۔
دہلی الیکشن جہاں کجریوال کے مستقبل اور عام آدمی پارٹی کے وجود کو طے کرے گا، وہیں اگر پارٹی ہار جاتی ہے، تو اس سے کجریوال کی قیادت پر بھی سوال اٹھے گا۔ کئی لیڈر جو الگ الگ کاروبار کو چھوڑ کر سیاست میں کودے، انہیں واپس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ ساتھ ہی، ملک میں بدعنوانی کے خلاف تحریک پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ جن لوگوں نے انا کی تحریک میں حصہ لیا، ان کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔ عام آدمی پارٹی کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ یہ سماجی تحریک کا ایک ایسا تجربہ تھا، جو ناکام ہو گیا۔ ساتھ ہی، یہ الیکشن نریندر مودی اور بھارتی جنتا پارٹی کے لیے وقار کا سوال ہے۔ بی جے پی اگر اس الیکشن میں ہار جاتی ہے، تو اس کا اثر بہار اور اتر پردیش جیسی اہم ریاستوں کے انتخابات پر بھی پڑے گا۔
دہلی الیکشن کے نتیجے کیا ہوں گے، یہ تو 10 فروری کو معلوم ہوگا، لیکن اس الیکشن میں ہر قسم کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ہر پارٹی لوگوں سے لبھاؤنے وعدے کرکے اور جھوٹے خواب دکھا کر ووٹ لینے کی فراق میں ہے۔ دہلی الیکشن میں یہ ہوڑ لگی ہوئی ہے کہ کسی سرکار کن کن چیزوں کو مفت مہیا کرائے گی۔ کسی بھی پارٹی کے پاس نوجوانوں کے روزگار سے متعلق کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ روزگار کی کوئی بات بھی نہیں کر رہا ہے۔ دہلی میں غیر منظم مزدوروں کی ایک بڑی تعداد ہے، کوئی بھی پارٹی یا لیڈر اس طبقہ کے مسائل کو دور کرنے کے جھوٹے وعدے بھی نہیں کر رہا ہے۔ کبھی کبھی یہ بھی لگتا ہے کہ ان لیڈروں کو ان غریب مزدوروں کے مسائل کا اندازہ ہے بھی یا نہیں؟ تحویل اراضی کے نئے قانون سے دہلی کے گاؤوں کی زمینوں کا کیا ہوگا، یہ الیکشن کے مدعوں میں نہیں ہے۔ دہلی میں بڑی تعداد میں دوسری ریاستوں کے لوگ رہتے ہیں، ان میں سے جو لوگ غریب ہیں، ان کا استحصال کئی طریقے سے دہلی شہر میں ہوتا ہے۔ اس کا رشتہ جرائم سے بھی ہے۔ لیکن، مستقبل کے سبھی عظیم وزرائے اعلیٰ نے ان مدعوں پر ایک لفظ تک نہیں کہا ہے۔ بجلی اور پانی کے مسئلے پر ہر پارٹی وعدے کر رہی ہے، لیکن یہ کوئی نہیں کہہ رہا ہے کہ دہلی میں انڈر گراؤنڈ واٹر (زیر زمین پانی) زہریلا ہو چکا ہے۔ دہلی دنیا کا بہترین شہر بنے، اس کے لیے ضروری ہے کہ دہلی میں رہنے والے لوگ خوشحال ہوں، نوجوانوں کے پاس روزگار ہو، سب کے لیے اچھی تعلیم کا انتظام ہو، سب کے پاس گھر ہو، علاج کے لیے سستے اسپتال ہوں۔ لیکن، افسوس اس بات کا ہے کہ دہلی الیکشن میں صرف تو تو – میں میں ہو رہا ہے۔ عوام کے سروکار اور ان سے جڑے مسائل کو نظرانداز کرنے میں ساری پارٹیاں ایک ہی جیسی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *